Home > Articles > تحریک آزادی کا تجزیہ اور تقا ضا

تحریک آزادی کا تجزیہ اور تقا ضا

محمد فاروق رحمانی

ترے مسا فر لگا ئیں بستر کہاں پہ صحرا ئے زندگی میں؟                                                    

آج سا ری دنیا ایک سنگین نفسیاتی‘مالیاتی‘ اور معا شی اور غذائی خوف اوربحران میں مبتلا ہے ۔ جس کو اگر بُش بحران کا نام بھی دیا جائے تو مبا لغہ نہیں ہو گا۔ خود امریکہ کو ما لیاتی اور اخلا قی بحران نے سختی کے ساتھ اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ ادھر جنو بی ایشیا اور مشرق ِوسطیٰ میں اِنسانی سروں کی فصل کاٹنے کی مہم برابر جاری ہے ۔ ہما ری غریب دنیا کے بحران میں کچھ ہماری اپنی بنیادی غلطیاں ہیں۔ مسلمان سا ری دنیا میں مظلوم اور معتوب ہو نے کے باوجود اپنے گلے آپ کاٹ رہے ہیں۔ ان کی حکو متیں غیروں کے ساتھ مل کر ان کا صفایا کر رہی ہیںاور مغربی عسکریت‘ امریکہ کی تہدید آمیز عسکریت کی رہنما ئی میں خشکی‘ فضا اور سمندر میں ان کا تعا قب کررہی ہے۔

            اِس عالم گیرنراج اور اقتصادی استحصال اور تعدّی میں دنیا میں ایک چھوٹی سی قوم ہے ۔ جس کو کشمیری کہتے ہیں۔ جو صورت حال سے بے نیاز‘ بے فکر اور بے خوف ہوکر طبل آزادی بجا رہی ہے ۔ عا لمی سیاست کے ارباب بست و کشا پرکشمیر کی آزادی کی لہرنے کیا اَثرات مرتب کئے ہیں‘ ابھی تک اس کا کو ئی عملی ثبوت نہیں ملا ہے ۔ بلکہ چند برس پہلے بڑی طا قتوں نے کشمیر یو ں کی تقدیر کا فیصلہ کر نے کے لئے جو ایجنڈا مرتب کیا تھا‘ ابھی تک اُس پر عمل ہورہا ہے۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ بھارت کے سیاست دانوں اور دا نشوروں میں کشمیر یوں کی مو جودہ فریاد نے ہلچل مچا دی ہے۔ اگرچہ بھارتی حکومت نے آزادی کی اس پرامن اور غیر فرقہ وارانہ تحریک کو کچلنے اور وادی گیر ریلیوں کو روکنے کے لئے فو ج اور پولیس کی بے محا با طاقت میں اضا فہ کردیا ہے۔

            وادی کشمیر میں ہندو یاتریوں کی دیکھ بال اور رہائش کے نام پر امر ناتھ شرائن بورڑ کو نو سو ایکڑ ارا ضی منتقل کر نے کے سرکا ری فیصلے اور جموں کے دہشت پسندہندو فرقہ پرستوں کی طرف سے کشمیر کے معا شی بائیکاٹ جیسے خطر ناک اقدام نے کشمیریوں کو بھی کافی حد تک یکسو کردیا تھا۔ لیکن شو مئی قسمت کہ ایشیا علی الخصوص پاکستان کے سیاسی اور معا شی حالات مخدوش ہوتے جارہے ہیں اور عالم اسلام کو غیر قدرتی اور خطر ناک قرار دے کر اس کی حدود کا از سر نو تعین کرنے کے لئے امریکی ماہرین منصو بے بنا رہے ہیں اور ذ ہنی مشقیں کر رہے ہیں۔ اور خود مسلما ن حکمران‘ سیاست دان اور فرقے اس سا زش میں استعمال ہورہے ہیںصلیبی دور‘ سقوط غر نا طہ‘ زوال خلا فت عثما نیہ اور سقوط ڈھا کہ کے بعد شا ید ہی ایسے حالات پیدا ہو ئے ہو ں‘ جن کا کسی اسلامی ملک خاص کر پاکستان کو سامنا ہو‘ کشمیریوں کو گلہ ہے کہ پاکستان کی طرف سے ہما ری حما یت کیوں دَم تو ڑ رہی ہے ۔ جبکہ خود کشمیری اپنی ایک پر امن اور جمہوری جدوجہد کے ذریعے سے ہندوستان سے آزادی حا صل کر نے کے لئے ایک بے مثا ل عوا می تحریک چلا رہے ہیں۔ جو اٹھا رہ سالوں میں ایک لاکھ جا نوں کا نذرانہ پیش کر چکی ہے۔ اس کے علاوہ کشمیر کا معا شرہ بکھر چکا ہے اور انسا نیت کی ان اعلیٰ ترین قدروں کو پامال کیا جا چکا ہے۔ جن کو کشمیری مسلما نوں اور کشمیری پنڈتوں نے یکسان طور پر پروان چڑھا یا تھا۔ریاست جموں و کشمیر کے مسلما ن اور پنڈت دونوں اُجڑ گئے ہیں ۔اور لاکھوں کی تعداد میں اپنے اپنے گھروں سے باہر اجنبیوں کی طرح دست نگر ہو گئے ہیں۔ مذا ہب کے یہ دونوں ماننے وا لے اپنی نجا ت اور تسکین سر زمین کشمیر میں دیکھتے ہیں۔ اس ماحول میں سب سے زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ مختلف نظریات کے سخت گیرحاملین بھی اب لچک دار راہ کے لئے تک رہے ہیں۔

            اگر چہ میں1991ءسے پاکستان اور آزاد کشمیر میں ارباب سیاست اور عام لوگوں کی سوچ اور سمجھ کا مطا لعہ کرتا رہا ہوں۔ لیکن اس سے برسوں پہلے بھی میں کشمیر سے متعلق پاکستان کی پالیسیوں اور اپروچ کو گہری نظر سے دیکھتا آیا ہوں ۔ چنا نچہ میں نے 1982ءمیں اپنی کتاب _©” آزادی کی تلاش“ میں پاکستان کے اربا بِ اقتدار کو مشورہ دیا تھا کہ وہ آزاد کشمیر میں ہندوستان کے نقش قدم پر نہ چلیں ۔ ہندوستا ن۔ کشمیر میں انصا ف کے مسلمہ بین الاقوامی اصولوں اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی رو ح کو پاما ل کررہا ہے ۔ اس کے مقا بلے میں پاکستان کو چا ہئیے کہ وہ آزاد کشمیر میں حق و انصا ف کی راہ کا ہر قیمت پر بول بالا کر ے تاکہ آخر کار ریاست جموں و کشمیر کا مسئلہ حریت ریاستی عوام کی خوا ہشات کے مطا بق ہمیشہ کے لئے طے ہو جا ئے۔“

            میں نے 1982ءمیں آزما ئشوں اور ما یو سیوں کے عالم میں ”آزادی کی تلا ش“ اور1986ء میں ”شیخ عبد اللہ کے نقوش“ شا ئع کی تھی۔ اِن کتابوں نے کشمیر میں کا فی مقبولیت حا صل کر کے کشمیری نوجوانوں کے سینوں میں آزادی و طن کے جذبے کو اور زیادہ مہمیز بخشی تھی۔ لیکن یہ بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ جب ” آزادی کی  تلا ش“ کے کئی نسخے پاکستان پہنچے‘ تو مجھے کئی دا نشوروں کے خطوط ملے اور اخبارات میں اس پر تبصرے شا ئع ہو گئے۔ ان میں میرے لئے زیادہ حیرت انگیز اور چشم کشا گجرات کے ایک لیفٹننٹ کر نل (ر) ایم اے حق مرزا کا تبصرہ تھا۔ جو فکرو ادب سے بھی شغف رکھتے تھے۔اِس میں تحسین و مرحبا اور انتباہ کے ملے جُلے خیا لات تھے۔ چند جملوں کا حوا لہ دیتا ہوں۔ انہوں نے لکھا ” آپ نے آگ کے میدان میں قدم رکھا ہے۔ اور عشق کا صبرآزما راستہ چن لیا ہے۔ آپ کا دشمن طا قت ور اور مکا ر ہے۔ جبکہ بد قسمتی سے آپ کا دوست کمزور ہے۔ جس سے آپ نے توقعات وا بستہ کررکھی ہیں۔ اس لئے آپ کو پھو نک پھو نک کر قدم اٹھا نے کی ضرورت ہے۔ اللہ آپ کی مدد کر ے “ تب سے اب تک 26 سال بیت چکے ہیں۔ لیکن یہ بات آج بھی میرے ذہن پر نقش ہے اورواقعات و مشا ہدات اس کی حرف بہ حرف تا ئید کر تے ہیں۔ 1990ءکے عشرے میں کشمیر اور پاکستان میں تحریک آزادی کے قافلوں کے نعروں اور ترانوں کی گو نج تھی۔ جن کو گا ڑیوں اور جلسوں میں بجا نا اور سنانا ہر جگہ معمول بن چکا تھا ۔اس سلسلے میں سر گرم پاکستانی اور کشمیر ی تنظیموں نے ایک خاص ماحول پیدا کیا تھا۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ذرا مختلف تا ثرات اور مشا ہدا ت آنے والی تبدیلیوں کا اندازہ بھی دلا تے تھے۔ اور محسوس ہورہا تھا کہ تحریک آزادی میں شور و شغب زیادہ ہے۔ جبکہ صحیح منصو بہ بندی‘ حکمت عملی اور دور بینی کا فقدان ہے۔

            1947 ءاور1956 سے جو کشمیری پاکستان میں مہاجرت کی زندگی گذار رہے تھے۔ ان سے تبا دلہ خیال ہوتا رہتا تھا۔ لیکن وہ اپنے تبصروںمیں تحریک آزادی کے مستقبل کے بارے میں کسی امیداور یقین کے اظہار سے اجتنا ب کر تے تھے۔ بلکہ بعض لوگوں کا نکتہ نگاہ یہ تھا کہ کشمیریوں کو اپنی اندرونی خود مختاری پر ہی زور دینا چا ہے اور مذا کرات کا راستہ اختیار کر نا چا ہے۔ جب میں ایسے لوگوں سے کہتا کہ آخر پھر ہمیں اتنا خون دینے کی کیا ضرورت ہے۔ تو ان کا جوا ب یہ ہو تا ”کبھی کبھی کسی چھوٹے سے مقصد کے لئے بھی بڑی قربانی دینی پڑتی ہے۔ قربا نیوں کے بغیر کسی قوم کے مطا لبے کو در خوراعتناءنہیں سمجھا جا تا ۔“

            آزاد کشمیر کے دارلحکو مت مظفر آباد میں وہ جو ش وخروش عنقا تھا جو بیس کیمپ کا طرہ امتیاز ہو نا چا ہے ۔ اس کا اندا زہ مظفر آباد میں ہما رے جلسوں‘ مظا ہروں اور شہدا ءکشمیر کے لئے ادا کی جا نی وا لی غا ئبا نہ نما زوں کی صفوں سے ہوتا تھا۔ یہ حقیقت بھی ہے کہ مظفر آباد سرکا ر کی کر سیوں کی پشت پر ”کشمیر بنے گا پاکستان“ لکھا ہوا نظر آتا تھا۔ لیکن مظفر آباد/ میر پور کی دیواروں اور پلوں پر خو دمختا ری چاہنے وا لے عناصر کی یہ چا کنگ نمایا ں نظر آتی تھی۔” الحا ق کا جو یار ہے قوم کاغدار ہے۔“ یہاں بہت سا رے لو گوں کا خیال ہے کہ سیاسی اعتبار سے 1947ءسے لے کر آج تک کوئی ایسی سنجیدہ اور مخلصا نہ کو شش نہیں کی گئی۔ جس سے تحریک آزادی کشمیر کو تقویت حا صل ہوتی اور یہ تقویت اسی صورت میں ملتی‘ جب سر کاری اور غیر سرکا ری سطح پر آزاد کشمیر اور پاکستا ن ‘ریاست جموں و کشمیر کو دوبار ہ متحد کرا نے کے لئے اپنی پوری سیاسی اور اخلا قی قو ت صرف کر تے۔ یہ ایک مدلل اور مظبو ط مو قف بن جاتا ۔ جس میں یقینا اثر ہو تا۔

            غالباً فکر و عمل میں انہی تضا دات اور تحفظا ت نے تحریک آزادی اور سلا متی کو نسل کی قراردادوں کوآگے بڑھنے نہیں دیا اور کشمیریوں کاخواب ابھی تک شر مندہ تعبیر نہ ہوسکا۔ ان تضا دات کو اس وقت زبا ن ملی جب 2004ءمیں سا بق صدرِ پاکستان جنرل (ر) پرویز مشرف نے جموں وکشمیرکے لئے ایک 4 نکا تی لسا نی فارمو لہ پیش کیا اور آزاد کشمیر اور مقبو ضہ کشمیر کی حکمران جماعتوں نے اس پر اَمنا صدقنا کہا۔ اور بھا رت نے سکھ کا سا نس لیا کہ اب ریاست کے 2/3حصے پر اس کے فو جی تسلط کو تسلیم کر لیا گیا ہے۔ بس ا س با ت کی دیر تھی اور ہندو ستان نے کشمیری حریت پسندوں کو بے نوا اور یتیم سمجھ کر ان کو کچلنے کی مہم مزیدتیز کر دی ۔ ادھر آزاد کشمیر میں حکمر انوں نے سری نگر کے بھارت نوا ز حکمرا نوں کے سا تھ پینگیں بڑ ھا نے کا سلسلہ تیز ترکر دیا۔ انہیں اپنا نظریہ و طن یا د رہا‘ نہ آئین و طن‘ سر ینگر اور مظفر آباد میںکہا گیا کہ ہم تو ایک دوسرے کے وارث اور حلیف ہیں۔ یہ حسرت ہے کہ ایسے ہی عنا صر حق خود ارادیت اور آزادی کی تحریک کے لئے اپنے آپ کو بین الاقوامی سفا رت کا ری کے استاد اور سرخیل سمجھتے ہیں ۔

            آج حا لات یہاں تک آن پہنچے ہیں کہ تاک میں بیٹھے بعض لوگوں کو یہ کہنے میں کوئی تامل نہیں ہے کہ کشمیرتو پاکستان کا مسئلہ ہی نہیںہے ۔ سندھ‘ بلو چستان اور سرحد میں نا عا قبت اندیش عنا صر کشمیر کو صرف پنجاب کا مسئلہ قرار دیتے ہیں ۔ اور کچھ عنا صر اس کو فو ج اور آئی ایس آئی کا مسئلہ سمجھتے ہیں۔ حالانکہ یہ ایک قوم کے حق خود ارادیت اور اظہار رائے کے حق کا سوال ہے ۔ جس کی بنیا د پر خود پاکستان وجود میں آیا تھا۔ بلکہ بیسویں صدی میں ہندو ستان سمیت دیگر قو مو ں کو اسی اصول کی بنیاد پر آزادی اور خود مختاری نصیب ہو ئی تھی۔ شاعر مشرق خودکشمیری تھے اور ان کی دل گداز شا عری میں ’کشمیر ‘اور’ کشمیری‘ ایک اہم مو ضوع ہے۔ علا مہ اقبال نے فرما یا تھا ۔

                                    آہ یہ قوم نجیب و چرب دست و تر دما غ
                                    ہے کہاں روز مکا فا ت اے خدائے دیر گیر

            پہلے مسئلہ کشمیر کو اِس ملک کا بنیادی قو می مسئلہ سمجھا جا تا تھا۔ لیکن اَب اس کو صرف ایک دو مذ ہبی پارٹیوں کے کھا تے میں ڈال دیا گیا ہے۔ اور کشمیریوں کی جدو جہد کو تبا ہ اور مسخ کر دیا جا تا رہا ہے۔ کبھی کبھی مقا لا ت اور ادا ریئے اِسی سو چ کی غما زی کر تے ہیں۔ اس سو چ نے دنیا بھر میں آزادی کی تحریکوں۔خا ص کر کشمیر اور فلسطین کی جا ئز تحریکوں پر سخت ضرب لگا ئی ہے۔عبداللہ حسین پاکستان کے ایک معروف ناول نگا ر ہیں۔ ایک طویل اِنٹرویو میںاُن سے ”جنگ“ نے سوال کیا کہ ایک دا نشور کی حیثیت سے بتا ئیں کہ مسئلہ کشمیر کو کیسے حل کیا جا ئے۔؟ انہوں نے یہ جوا ب دیا:۔_©_©

            ”اِس کو چھوڑ دینا چا ہئیے ۔ اِس نے ہما ری بڑی تبا ہی کی ہے ۔ کیو نکہ لمبے عرصے سے سب اِس کے سا تھ لٹکے ہو ئے ہیں اور اب ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ پاکستان نے اندر سے اسے چھوڑ ہی دیا ہے ۔ وہ شہ رگ کیسے ہے‘ مجھے اس کی سمجھ نہیں آتی‘ وہاں پر دریا یں ہیں ‘ اگر اتنی دیر تک سا ٹھ سا ل تک انہوں نے ہما را پا نی بند نہیں کیا ‘ اب وہ بگلیار ڈیم بنا نے کی و جہ سے کر رہے ہیں۔ تو یہ اِس لئے ٹھیک ہے کیو نکہ ہم نے انہیں بہت تنگ کیا ہے۔( بہ شکریہ جنگ سنڈے میگزین13گست 2008)

            حالا نکہ کشمیر نے 1947کے بعد بھی کچھ کم نقو ش پا کستان کے شعر و ادب‘ ترانوں اور گردو پیش پر نہیں ڈا لے ہیں ۔ اگر جدو جہد آزادی کے ۸۱ خون آشا م سا ل نہ بھی آتے ‘ تب بھی پاکستان کی تاریخ‘ جغرا فیہ اور مستقبل سا زی میں آزادی کشمیر کی اہمیت کو نظر اندا ز نہیں کیا جاسکتا تھا ۔ اس لئے اگر خدا نہ خوا ستہ پاکستان نے کسی کے دبا  میں آکر کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی حما یت اور تر جمانی چھوڑ دی‘ تو پھر اُس سے اپنی قومی خود مختاری اور عالم اسلام کے حقوق کی تر جما نی کر نے کا حق بھی چھین لیا جا ئے گا اور اس کی عالمی شنا خت اور انفرا دیت با قی نہیں رہ سکے گی۔ کیو نکہ ایک مسلما ن قو م کی پہچا ن بینکوں کی فلک بو س عما رات نہیں ہیں۔ بلکہ آ زادی اور انصا ف کے او نچے مینار وں پر حق و انصا ف کی اذان ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم حق کے داعی ہو تو ذوالقرنین بن کر دکھا  اور دنیا پرچھا جا ۔ زندہ قو موں کی صفوں میں اپنے لئے عزت اور عظمت کا مقام تلا ش کر نے کے لئے پاکستان کو بھی عزیمت اور حق پرستی کا پر چم ہی تھا منا ہو گا۔ اُسی میں اس کی بقاءاور سلامتی ہے ۔ اور ملت اسلامیہ کی خدمت کرنے کی اہلیت اور صلا حیت بھی اسی سے حاصل ہو گی۔ انشا ءاللہ!

                                                            اُمتاں را زندگی جذ ب دروں

                                                            کم نظرایں جذ ب را گوید جنوں

   اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ پاکستا ن جنگ کو مذ اکرات اور سفارت کاری پر ترجیح دینے کی پالیسی اَپنا ئے۔ بلا شبہ پاکستان موجودہ عالمی ماحول میں جموں و کشمیر کے لئے عسکریت کے راستے پر نہیںچل سکتا ہے۔ اگر کبھی پاکستان کے لئے یہ اُو پشن مو جود تھا ‘ تو وہ 1947 ءکا زمانہ تھا ۔ لیکن اس وقت بھارت اس پر سبقت لے گیا ۔ جبکہ پاکستان نے ایک ایسی کمزور چھا پہ مار کاروائی کی در پردہ حما یت کی‘ جس کو وہ اپنے منطقی انجا م تک پہنچا نے میں ناکام رہا اور اقوام متحدہ کے ذریعے سے ایک ایسی جنگ بندی پر رضا مند ہوگیا۔ جس میں بین الاقوا می قوا عد و ضوا بط اسکی گردن کا حلقہ بن گئے۔ اسے کشمیر پر بین الاقوا می حما یت حاصل کر نے کے جو موا قع حاصل ہو سکتے تھے‘۔وہ مغربی فو جی امدا د اور فو جی معا ہدوں کی وجہ سے ضا ئع کر دئے گئے‘ اس وقت مغرب کا قُلابہ افریقی ایشیائی بلاک اور قوم پرست مسلم دنیا کو نا پسند تھا۔ پاکستان نے مغربی مفا دات کی سیاست کو اپنی سیاست بنا لیا ۔ جبکہ مغربی فو جی معا ہدوں میں بھارت کی عدمِ شرکت سے اسے تیسری دنیا کی قوم پرست قیادت میں ایک اعلیٰ مقام نصیب ہوا ۔

   1965کی بھارت پاکستان جنگ سے پہلے پاکستان کی سو چ نے پھر ٹھو کر کھا ئی ۔ اس وقت جموں وکشمیر میں رائے شماری کی تحریک یقیناً ریاست گیر سطح پر بام عرو ج پر تھی۔ لیکن کم نظری اور نا قص فوجی حکمت عملی سے سیاسی تحریک کا مستقبل مخدوش ہو گیا۔ بے شک پاکستان کی فو ج اور عوام ہندو ستان کو وا پس دھکیلنے میں کامیاب رہے۔ لیکن وا دی کشمیر جموں اور پونچھ کے مسلما نوں پر بھا رتی فو ج نے مظا لم کے پہا ڑ توڑے جن کو سن کر آج بھی رو نگٹھے کھڑ ے ہو تے ہیں۔1965کی جنگ کے بعد بھارت اور پاکستان نے تا شقند میں ایک معا ہدہ کیا اور اقوام متحدہ میں حق خود ارادیت اور رائے شماری کی منظور شدہ قرار دادوں کی حیثیت ثانوی بن گئی۔ کشمیر کے حا لات سے نا بلد بعض را ئٹرو ں کا یہ کہنا ہر گز صحیح نہیں ہے کہ اُ س وقت کشمیر یوں نے پاکستانی مجا ہدین کا ساتھ نہیں دیا تھا۔ اس با ت سے قطع نظر کہ اس چھا پہ ما ر فو جی اقدام پر کشمیر ی قیادت سے کوئی مشورہ نہیں کیا گیا تھا‘پھر بھی مجا ہدین 6 ستمبر 1965 ء تک جموں اور پو نچھ کے علاوہ وادی کے وسطی‘ مرکزی اور شمالی و جنو بی حصوں میں مو رچہ بند اور سر گرم رہے تھے۔کیا مقا می آباد ی کے اعتماد اور تعا ون کے بغیر ایسا ممکن ہو سکتا تھا؟ ٹنگمرگ اور گلمرگ کے ایک بھارتی جاسوس کو تمام کشمیریوں پر قیاس کر نا نہایت ظلم ہے ۔ اگر کوئی کالم نویس آج بھی پاکستانی اخبارت میں کشمیریوں کے سا تھ یہ جھوٹ اور بھو نڈا الزام منسو ب کر تا ہے تو وہ یقیناً اور صریحاً غلط بیانی کر تا ہے ۔1971ءکی بھارت پاکستان جنگ میں سقو ط ڈھاکہ حکو مت کی غلط دا خلی اور خا رجی پالیسی کا نتیجہ تھا ‘ جس کا بھارت نے فا ئدہ اٹھا یا اور بڑے پیمانے پرننگی فو جی جارحیت کر کے پاکستان کو دو لخت کیا۔ جنگ کے بعد1972ءمیں دونوں ملکوں نے شملہ میں مذا کرات کئے اور معا ہدہ شملہ میں ایک بار پھر کشمیریوں کا حق خود ارادیت کھٹا ئی میں پڑگیا۔ گو کہ اس موقعہ پر اُس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی سیاسی ذہا نت سے کم از کم کشمیر پر کو ئی حتمی معا ہدہ کر نے کی حامی نہ بھری‘ جس کے لئے بھارت کی وزیر اعظم اندرا  گا ندھی نے زور لگا یا تھا۔

            1980 کی دہائی میں کشمیری نو جوانوںنے گلی کو چوں میں زورو شور کے ساتھ بھارت کے تسلط کے خلا ف ایک عوا می تحریک چلا ئی ‘جس نے عشرے کے آخر میں مسلح جدوجہد کی شکل اختیار کی اور پاکستان نے اس کا ساتھ دیا۔1999 ءمیں کر گل کی پہا ڑیوں پر بھارت اور پاکستان بر سر پیکا ر ہو گئے۔ جس تیز رفتاری کے ساتھ کرگل پرجنگ شروع ہو گئی اُسی تیزی کے ساتھ کسی مثبت نتیجے کے بغیر یہ جنگ ختم بھی ہو گئی۔ جس کا براہ راست اثر یہ نکلا کہ آنے وا لے برسوں میں کشمیر کا مقدمہ مز ید کمزور ہو گیا۔ اور عسکری حما یت کے ساتھ ساتھ کشمیریوں کے لئے سیا سی حما یت بھی ہچکو لے کھا نے لگی۔ ان ناکا میوں کے بعد پاکستان پر بین الاقوامی دبا بڑھتا گیا جو آج بھی جاری ہے ۔ اب آزادی کشمیر کی مختلف تا ویلیں کی جا رہی ہیں اور کشمیریوں کی قربا نیوں کا حُلیہ بگا ڑنے میں کو ئی کسر با قی نہیں چھوڑی جا رہی ہے ۔جو مسئلہ کشمیریوں کی آزادی اور حق خود ارادیت کاتھا ‘ اب وہ تجا رت اور ثقا فت کا مسئلہ بنا دیا گیا ہے۔ اب جنگ بندی لائن کے لئے لائن آف کا مرس اور سا فٹ با رڈر جیسے نام تجویز کئے گئے ہیں۔لیکن الفا ظ کے اس ھیر پھیر میں حق خود ارادیت کو ذہنوں سے محو کردیا جا رہا ہے ۔ کشمیر کے ساتھ یہ سب کچھ ہوا کیو نکہ پاکستان جموں و کشمیر کے لئے کبھی کسی را ست فو جی اقدام کے لئے تیار نہ ہوا۔ اس کے برعکس بھارت نے’ سو سونا ر کی ایک لو ہار کی“ کے مقولے پر عمل کر تے ہو ئے کبھی1947 ءمیں اپنی فو جی طا قت کا مظا ہرہ کیا اور کبھی 1971ءمیں مشرقی پاکستان پر چڑھا ئی کی اور پاکستان کے سیاسی اور عسکری نظا م کو نا قا بل اعتبار اور بچو ں کا کھیل بنا لیا۔1990 ءمیں کشمیریوں کو پھر سے یہ امید پیدا ہو گئی تھی کہ اب ان کی ریاست گیر جدوجہد پاکستان کو کشمیر کے اندر ایک موثر فو جی اقدام کر نے کے لئے تیار کر دے گی۔ لیکن ہوا اس کے الٹ ایک لاکھ کشمیریوں کی شہادتوں اور مال و اسبا ب اور عزت و نا موس کی بر بادی اور ہزاروں خا ندانوں کی بے خا نمانی کے بعد خودحکو مت نے کشمیریوں سے کہا کہ ” میں باز آگیا ایسی محبت سے تم بھی با زآ باز آ“ آگ میں جلنے وا لے اور خا ک و خون میں لت پت ہو نے والے کشمیری اب یہ سوال کر تے ہیں۔لیکن کو ئی جواب نہیں ملتا ہے:۔

                                    دربیا بانِ جنوں بردی و رسوا سا ختی
                                  با ز می گو ئی کہ دا من ترمہ کن ہشیار با ش!

             کشمیر کی آزادی کی تحریک کو کمزور کر نے یا اسے اپنے اصل را ستے سے ہٹا نے میں ٹریک ٹو نے بھی اپنا کردار ادا کیا ۔ ٹریک ٹو تحریکوں نے مسئلے کو پر امن طریقوں سے حل کرا نے میں اب تک کو ئی قا بل قدراور قابل عمل رول انجا م نہیں دیا ۔ ٹریک ٹو ٹریک ون ہی کے بطن سے پھوٹا ہے ۔ چو نکہ عوام کو سرکاری پالیسیوں پر تحفظا ت اور خد شات ہو تے ہیں ۔ ان پالیسیوں میں نو کر شا ہی کا بہت زیادہ عمل دخل ہو تا ہے ۔ اور عوامی امنگوں کا احترام نہیں ہو تا ۔ اس لئے ٹریک ٹو کی سر گرمیوں کا انجا م اچھا نہیں ہو تا ۔

            ٹریک ٹو کے علمبر داروں کا ایک قا فلہ اپریل2 199 ءمیں اسلام آباد میں تھا ۔ اس میں بھارت کی سیاست‘تجا رت‘ معیشت‘ڈیفینس ‘ نو کر شا ہی‘ جو ڈیشری و غیرہ سے تعلق رکھنے وا لی شخصیات شا مل تھیں۔ جن کا دما غ اور ذہن دھندلا تھا ۔ وہ ایک خاکے پر یقین رکھتے تھے‘ جو اہل کشمیر کی امنگوں کے مطا بق نہیں تھا۔ میں نے اسلام آباد کے ایک اونچے ہو ٹل میں ان کے افتتاحی سیشن کی کاروا ئی دیکھی تھی ۔ جس میں پاکستانی سیاست دان اور دانشور بھی مو جود تھے ۔ ایک رسمی اجلاس کے بعد ان کے کئی اجلاس اِن کیمرہ ہوئے۔ البتہ میں نے ان میں سے کئی شخصیات سے الگ الگ ملا قاتیں کیں ۔ ان کا مو قف اپنی سرکار سے کچھ مختلف نہیں تھا ۔ صرف کلدیپ نا ئیر سے با ت چیت کے دوران مجھے کسی حد تک سنجید گی اور گہرائی نظر آئی تھی۔ انہوں نے اس با ت کا اعتراف کیا کہ کشمیری ۔ بھارت سے بے زار ہو گئے ہیں۔ لیکن انہیں دور دور تک بھارت میں ایسی کو ئی لیڈر شپ دکھا ئی نہیں دیتی تھی جو کشمیریوں کی اس بے زاری کو تسلیم کر نے کی جرت کر ے ۔

            1990 ءکی دہائی میں بھارت اور پاکستان میں ٹریک ٹو ڈپلو میسی کے تحت مجلسوں اور ملا قا توں کا اہتمام ہو تا رہا ۔ جبکہ میاں نو از شریف کے عہد حکو مت میں لاہور میں نوا ز وا جپا ئی سربرا ہ کانفرنس کا اعلا نیہ اس با ت کی طرف وا ضح اشارہ تھا کہ پاکستان مذا کرا ت کے ذریعے سے کشمیر کے سوال کا حل نکا ل کر بھارت اور پاکستان کے درمیان سیاسی‘معا شی‘ تجا رتی اور ثقا فتی تعلقات میں حا ئل مشکلا ت کو دور کر نے کی گہری خوا ہش رکھتا ہے ۔ نو ے کی دہائی میں اسلا م آباد میں مغربی ملکوں کے سفراءمھی مسئلہ کشمیر کے حل کی کو ششوں میں کا فی دلچسپی رکھتے تھے ۔ 1994ءتک مغربی دنیا میں انسا نی حقوق کی تنظیموں کو جموں و کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں ہو نے وا لی انسا نی حقوق کی پا ما لیوں پر کا فی تشویش رہتی تھی ۔ لیکن 1994 ءمیں کشمیر میں چا ر مغربی سیاحوں کے اغوا کے بعد مغرب میں کشمیریوں کے سا تھ ہمدرد یاں با قی نہ رہیں۔ ادھر بھارتی لابیاں اس قدر فعال تھیں کہ کشمیریوں کی آہ و بکا اور فر یاد نقار خا نے میں طو طے کی آواز دکھائی دینے لگی۔ پاکستانی لا بیاں بھارتی چالوں کا توڑ کرنے میں نا کا م رہیں۔

             رفتہ رفتہ کشمیر کے با رے میں” جوں کی توں“ پوزیشن کو ہی دو طرفہ مذ ا کرا ت اور سفارت کا ری سے دا ئمی شکل دینا ‘ مسئلہ کشمیر کا آخری حل سمجھا جا نے لگا ۔ مجھے یا دہے کہ امریکہ اور بر طا نیہ کے سفارت کا روں کی رہائش گا ہوں پر ایسی ملی جلی میٹنگوں اور دعوتوں کا اہتما م ہوا کرتا تھا‘ جن میں مغربی و مشرقی سفارت کاروں کے علاوہ آر پار کے کشمیری سیاست دان اور حریت پسند بھی مدعو کئے جاتے تھے۔ اور غیر رسمی گفت و شنید کا سلسلہ جاری رہتا تھا ۔ ایک با ر ایک ایسے ہی عشا ئیہ میں ایک امریکن سفارت کار نے مجھ سے سوال کیا کہ کشمیری کیسا حل چاہتے ہیں۔ میں نے کہا جب ہمیں حق خود ارادیت دیا جا ئے گا ‘ ہم اپنا فیصلہ سنائیں گے ۔پھر میں نے اس سے یہی سوا ل کیا کہ امریکہ کیا چا ہتا ہے ۔ کیا آپ خود مختار کشمیر کے حا می ہیں؟ اس نے فوراً اس کی تردید کی ۔پھر کہا کہ دونوں ممالک بھا رت اور پاکستان۔ کشمیر پر سخت گیر مو قف رکھتے ہیں۔ اس لئے اس کا حل نہیں نکلتا ہے۔ اس مو قعہ پر امریکی سفا رت خا نے کے پولٹیکل ایڈ وا ئز ر نے اپنا نکتہ نظر پیش کرتے ہو ئے کہا کہ آئندہ چند برسو ں میں کشمیر کا حل نکل آئے گا ۔ لیکن و ہ کیسا حل ہو گا؟” جو کچھ بھارت چا ہتا ہے‘ وہی سب کچھ نہیں ہو گا ۔ جو پاکستان چاہتا ہے‘ وہ بھی نہیں چلے گا۔ اسی طر ح کشمیریوں کی جومانگ ہے‘ وہ بھی مکمل طو ر پر پوری نہیں ہو گی ۔ کشمیر کے حل میں تینوں فریقوں کی خوا ہشا ت اور مفادات کی عکا سی ہو گی اور یہی ا س کا حل ہے ۔“

            نا ئن الیون (9/11)کے ٹریڈ سینٹر المیے کی آڑ لے کر امریکہ نے مسلم دنیا پر قیا مت ڈھا ئی۔ جس سے مسلمان حکمر انوں اور سیاست دانوں کے اذ ہاں پر لرزہ سیماب طا ری ہو گیا ۔ مغرب پرست قیادتوں کا نقا ب چہرے سے اتر گیا۔ وہ اپنی اصل صورت میں ظا ہر ہوگئے اور انہوں نے نائن الیون “ حیلہ گررا بہا نہ بسیار “ کے مصداق مغرب اور امریکہ کا دُم چھلہ بننے کے لئے تیز گا می دکھا ئی۔ جس کی وجہ سے آج نہ صرف فلسطین اور کشمیر کے حقا ئق مسخ کئے جا رہے ہیں۔ بلکہ دنیا ئے اسلام تفرقے ‘اِنتشار اور خونریزی میں ڈوب گئی ہے ۔ عراق سے لے کر پاکستان تک اب امت مسلمہ اپنے ہی سا ئے سے لرزاں ہے اور غیر ملکی افواج کی مو جو دگی نے پاکستان‘ افغا نستان اور عراق کے وسا ئل معیشت خطر نا ک حد تک چو س ڈا لے ہیں اور اقتصا دی میدا ن میں اب غربت کی سطح سے نیچے زندگی گذ ار نے وا لے عوام کی تعداد میں تیزی کے سا تھ اضا فہ ہو تا جا رہا ہے۔ جنگ عظیم دو م کے بعد عام آدمی کی قو ت خرید پر شا ئد ہی کبھی کسی نے اتنا بڑا اثر ڈالا ہو۔

            افسوس ہے کہ حکمرانوں اور سیاست دانوں اور بعض دا نشوروں کو اس با ت کی پر واہ نہیں ہے ۔کہ عوام کو غیر ملکی یلغار‘ معا شی جا رحیت ‘ڈاکہ زنی‘ کسا د بازاری اور افراط زر سے جلد از جلد نجا ت ملے ۔ انہیں فکر یہ ہے کہ کشمیریوں کی تقدیر پر جلد از جلد ٹرک‘ بس اور ٹا نگہ سروس کے ذریعے سے کیسے مہر ثبت کی جا ئے۔ مجھے یاد ہے کہ نائن الیون کے بعد آل پاکستان نیوز پے پیپرس اِڈیٹرس کا نفرنس کی قیادت نے آزاد کشمیر میں لائن آف کنٹرول کا طویل دورہ کیا اور وہاں سے وا پسی پر مری میں چیدہ چیدہ فو جی اور سیاسی شخصیتوں کو بریفنگ دی ۔ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت کے علاوہ راقم الحروف بھی اس بریفنگ میں مدعو تھا ۔ اس میں روزنامہ ڈان کے چیف ایکزیکیٹیو حا مد ہا رون نے بہت سا ری با توں کے علاوہ کم از کم ہما رے لئے چونکا دینے والا موقف پیش کیا ۔ انہوں نے کہا ” 9/11کے بعد دنیا بدل گئی ہے ۔ہمیں بھی اپنی سوچ بدلنی ہو گی ۔ میںنے کرا چی میں اپنی ذا تی مصروفیات کو نظر اندا ز کر تے ہو ئے آل پاکستان نیوز پیپرس اڈییٹرس کانفرنس کے سا تھ آزاد کشمیر میں ایل او سی کا دورہ کیا اور اس پو رے علاقے کا جا ئزہ لیا ۔ چند سالوں میں آزاد کشمیر کی مو جو دہ حیثیت بدل جا ئے گی ۔ کشمیر بدل جا ئے گا ۔ اب جہاد کی با تیں نہیں ہو ں گی ۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ نہیں ہو گی ۔ کشمیر کے سوال پر بھارت کے سا تھ ہما ری لڑا ئی نہیں ہو گی ۔ اگر کبھی ہو گی تو وہ _©’پانی‘ کے سوال پر ہو گی ۔ وغیرہ وغیرہ ۔“

            جو لوگ خطے کی سیا ست کا گہرا ئی سے مطا لعہ کر تے ہیں ‘ انہیں 9/11سے کئی برس پہلے ہی مستقبل کی ایک دھندلی سی تصویر آنکھوں کے سامنے آگئی تھی ۔9/11کے بعد وہ با دل چھٹ گئے ۔ اور یار لوگوں نے دنیا ئے اسلام اور کشمیر کے بارے میں اپنے منصوبوں کو بر ملا عملی شکل دینے کے لئے اقدامات کئے ۔ جو پوری آب و تاب کے ساتھ جاری ہیں ۔ مسئلہ کشمیر کے بارے میں ان کا انداز گفتگو اور طرز عمل محتا ط ہی رہا ۔ لیکن اس راہ میں اٹھنے والے ان کے اقدامات ان کے حقیقی عزائم اور منصوبوں کی چغلی کھا تے رہے ۔

            2004 ءمیں سابق صدر ریٹا ئرڈ جنرل پرویز مشرف کی افطاری پریس کانفرنس کے بعد بلی تھیلے سے باہر آگئی اقوام متحدہ کی قراردادیں پارینہ قرار دی گئیں۔ اور کشمیریوں پر ڈھا ئے جا نے والے ظلم و ستم کی باتوں کو نُوکِ زبا ن پر لا نا مزاج شا ہی پر گراں گذرنے لگا ۔ خود سا بق صدر ریٹا ئرڈ جنرل پرویز مشرف نے جی ایچ کیو میں ایک شب ایک طو یل میٹنگ میں کسی بات پر آزاد کشمیر اور مقبو ضہ کشمیر کے لیڈروں سے کہا کہ ظلم کی باتیں نہیں کر نی چا ہیں ۔ لیکن یہ نہیں کہا کہ ظلم کے خلا ف کلمہ حق کہنے کی دوا می سنت کیوں سا قط ہو!

            9/11کا مسئلہ کشمیر سے کیا واسطہ تھا ؟ لیکن اس حا د ثے کے بعد مسئلہ کشمیر پر مثبت تو جہ نہ رہی۔ اس کو تر چھی اور منفی نظروں سے دیکھا جا نے لگا ۔ بھارت نے اس صورت حال سے فائدہ اٹھا یا ۔ وہ بغلیں بجا نے لگا ۔ امریکہ اور مغربی دنیا نے مسئلہ کشمیر کے ابتدا ئی عشرے میں کشمیر پر جو قراردادیں پاس کروا ئی تھیں۔ وہ ان کو بھول گئے ۔ اس طرح اب آزادی‘ کی اصطلاح کی جگہ نئے فارمو لے نے لے لی ۔ مثلاً خطوں کی نشا ندہی‘سیلف رول‘جوائنٹ کنٹرول جوا ئنٹ منیجمنٹ‘سافٹ بارڈر وغیرہ وغیرہ۔ اس کے بعد اس وقت کے وزیر خا رجہ خورشید محمودقصوری‘ اور چند دوسرے سیاستدانوں نے اس فارمو لے کے حق میںوکیلا نہ اندا ز اختیار کیا ۔ اس بیا ن کے کئی بند سردار عتیق احمد خا ن اور ان کے سا تھیوں نے کا فی چا  سے لکھے۔ انہوں نے سرینگر کے ان سیاست کاروں اور حکمرا نوں کے لئے جن کو وہ_© کٹھ پتلی اور غدار کہا کر تے تھے ۔ سرخ قا لین بچھا یا اور اسلام آبا اور مظفر آباد میں ان کو سر آنکھوں پر بٹھا یا ۔ یہاں تک کہ شیخ رشید احمد جیسے کشمیری نواز وفاقی وزیر نے مسئلہ کشمیر حل ہو نے کا کا نٹ ڈان شروع کیا۔ پھر بھی وہ بھارت کی نظر میں نا پسندیدہ رہے۔ اور اُن کو سر ینگر جا نے کی کلیر نس نہیں ملی۔

            الغرض کون نہیں جا نتا کہ پاکستان لچک پر لچک دکھا تا رہا ‘ اعتما د سا زی کے یک طرفہ اقدامات ہو تے رہے‘ سیز فا ئر لائن سے مسا فر بسیں چلنے لگیں‘ دشمن بھی یہاں آکر پاکستان کی مہما ن نوا زی اور سیرو سیا حت سے لطف اندوز ہو نے لگے‘ حتیٰ کہ8اکتوبر کے قیامت خیز زلزلے سے بھی یہی سبق تلا ش کر نے کی کو شش کی گئی کہ آسمان بھی آر پار تجا رتی‘ ثقا فتی اور سیاحتی تعلقات ہی کو مسئلہ کشمیر کا حل سمجھتا ہے ۔ لیکن بھارت پھر بھی ہنستا رہا ۔ وہ ٹس سے مس ہوا نہ اس نے اپنی ریاستی دہشت گرد ی میں رتی بھر کمی کی ۔ بلکہ اس کے بر عکس اس نے امریکہ کی تر جیحا ت کو دیکھ کر ہی جموں وکشمیر میں اپنی ریشہ دوا نیوں کو بڑھا وا دیا ‘ ایل‘او‘سی پر تار بندی کردی‘ اور افغا نستان پاکستان سرحد پر بھی اپنے کردارکا تعین کردیا۔ اب افغا نستان میں بھی بھارت کے جاسوسی نظام نے پاکستان کے خلاف حصا ر بندی کردی ہے ۔لیکن 18فروری 2008کی رائے شماری سے ابھرنے والی سیاسی قیادت کچھ زیادہ ہی جو ش و خروش دکھا رہی ہے ۔ کچھ اپرو چ میں تبدیلی کر کے کشمیریوں کے مارکیٹ میں وہی کچھ سیل پر رکھنے کے لئے پر تول رہی ہے ‘ جس کو بازار حصص میں قا بل قبول بنا نے کے لئے سابق حکومت نے” فکرو فلسفہ“ کی ایک خود ساختہ عما رت بھی تعمیر کی تھی ۔اس کی بنیاد” پہلے پاکستان“ کے پر فریب نعرے پر رکھی گئی تھی۔ لیکن جو علماءتاریخ کشا کش عالم اور18اور19 ویں کے صدی عالم اسلام کی وحدت و عظمت اور ترکی میں خلافت عثما نیہ کے الم ناک سقوط اور محدود ترک قوم پرستی پر قا ئم ترکی ریپبلک کے قیام کا مطالعہ رکھتے ہیں ۔ انہیں اس حقیقت کا ضرور ادراک ہو گا کہ اس دور سے لے کر آج تک مسلم دنیا کو ٹکڑوں میں تقسیم کر نا اور چھوٹے بڑے خاندا نوں کو با د شا ہتیں یافو جی افسروں اور جاگیرداروں کو مطلق العنان حکو میتں عطاکرنا اور کشمیر اور فلسطین جیسے الم ناک مسا ئل پیدا کر نا عوام کا کام نہیں تھا ۔ اسی طرح تقسیم ھند کا ایوارڑ‘ جس کے تحت کھیت اپنے کاشتکاروں اور آبی سر چشموں اور کاشتکار اپنے کھیتوں سے جدا ہو گئے‘ استعما ری طا قتوں کی سازشوں کا نتیجہ تھا ۔ آج بھی کشمیر اور فلسطین وغیرہ کے لئے جو کچھ ہما رے سامنے حل کے نام پر لایا جاتا ہے ۔ وہ بھی ہر گز ہما را اپنا نہیں ہے ۔ یہ سب کچھ ان استعماری دما غوں کی کارستانی ہے جو صدیوں سے مسلمانوں کے زخموں پر نمک پاشی کرتے آئے ہیں۔ ایسی طاقتیں یہ نہیں چا ہتیں کہ مسلمان ممالک ایک بار پھر متحد ہو جائیں اور اپنی صلاحتیوں اپنے قدرتی و سا ئل اور ایک لازوال فکر و فلسفہ اورضا بطہ حیات کی بنیاد پر شا ہرا ہ ترقی پرگامزن ہوں۔ امریکہ خود بھی بہت ساری ریاستوں کاایک اتحاد ہے ۔ یورپ کے ممالک جغرا فیا ئی اور لسا نی شنا خت کی بر قراری کے ساتھ سا تھ ایک طا قتور معا شی اکنا مک یورو یو نین میں دا خل ہو کر تر قی کر رہے ہیں۔ لیکن مسلمان ملکوں کے اتحا د کی بحا لی میں وہ ہر قسم کی رکاوٹ ڈا لتے ہیں ۔ اور ان چھوٹی چھوٹی مو جو دہ ریاستوں کو بھی وہ وجود کا حق دار نہیں ما نتے ۔ افسوس ہے کہ مسلما ن کہیں بھی اپنی جنگ نہیں لڑ رہے ہیں ۔ بلکہ وہ جگہ جگہ خود بھی اپنے خلاف دہشت گر دی کر رہے ہیں۔

            آزادی کشمیر کی تحریک اور تا ریخ کی الٹی تعبیر نکا لنا ‘ مسئلہ کشمیر کا حقیقت سے متصا دم حل نکا لنے کی کو ششیں کر نا ‘ مسلمان عوام کو اپنی معتبر اور صا لح قیادت سے محروم کر نا اور یہ سب کچھ پھوٹ ڈا لو ‘ حکو مت کرو اور اپنا حل مسلط کر و ‘ خود ہما رے سما ج کے مفاد خصوصی عناصر کے ذریعے سے کیا جارہا ہے۔بھا رت کے خلاف آزادی کی کشمیری تحریک آج اسی آز ما ئش اور چلینج کا سامنا کر رہی ہے ۔ آج کشمیریوں کو کھلو نے دکھا کر بہلا نے کی کو ششیں کی جا رہی ہیں۔ اور ایک ایسے راستے پر چلنے کے لئے کہا جا رہا ہے ‘ جس میںآزادی کے لئے دی جا نے والی عظیم الشا ن قر بانیوں کا کو ئی پاس و لحا ظ نہیں ہے ۔ اِسی طر ح تحریک آزادی کا مو جو دہ گلستان خشک ہو جا ئے گا اور بھارت کے قا بض حکمران ہر الزام سے بَری ہو جا ئیں گے۔

            مسئلہ کشمیر پر پاکستان کا اثر و نفوذ نصف صدی سے ہے ۔ لیکن افسوس ہے کہ پاکستان کی کشمیر پالیسی ہمیشہ ہی بے ہنگم اور غیر سنجیدہ رہی ہے ۔ اسی طرح حکو مت اور سیاسی و مذ ہبی جما عتوں کے درمیان بھی کشمیر پالیسی پر مشا ورت اور مطا بقت نہیں رہی ‘حکمرا نوں نے کشمیر کے بارے میں اکثر اقدامات وسیع مشا ورت اور گہرے تجزیئے کے بغیر اُٹھا ئے اور وہ سطحی تھے۔ مر کز میں کشمیر کی آزادی پر ایک قابل اعتماد اور قابل عمل عوامی پالیسی کے فقدان کی وجہ سے پاکستان کی سیاسی اور مذ ہبی جما عتوں نے بھی اپنی اپنی پالیسیاں و ضع کیں ۔ جن میں مستقبل بینی نہیں تھی۔ ان کو اس وقت تک چلنے دیا گی ‘ جب تک حکو مت اور اس کے مغربی حلیفوں نے چا ہا۔ اس لئے اب کئی سالوں سے ملک کے اندر اورباہر‘ قو می اور بین الاقوا می سطح پر رہی سہی کشمیر پالیسی کو زنگ لگ گئی ہے۔

            کشمیر کی آزادی پر بیرونی ممالک خاص کر مغرب اور امریکہ میں لا بینگ ویسے بھی جا ندار نہیں تھی اور اس کو کشمیریوں کی مز احمتی تحریک نے1990 ءکے بعد سا نس لینے کے لئے کچھ آکسیجن دی تھی ۔ لیکن افغا نستان‘ عرا ق اور 9/11کے واقعات نے ان لا بیوں کونفسیاتی بد حا لی میں مبتلا کر دیا اور دھشت گردی کی گا لی کے خو ف نے مغر بی دنیا میں لا بینگ کر نے وا لوں کو کسی کا م کا نہ رکھا اور بھارت کو مشقت کے بغیر وہ سب کچھ حا صل ہو گیا ‘ جس سے اس کو کشمیریوں کی دا خلی جدوجہد نے محروم کر دیا تھا۔

            پاکستان کے سا بق وزیر خا رجہ خور شید محمود قصو ری کی تیز و طرار با تیںاپنی جگہ لیکن اُنہیں خا رجہ پالیسی اور کشمیر پالیسی سنوا رنے کے لئے آٹھ اہم سا ل ملے تھے ۔ جس میں وہ اپنا دما غ اور دِل استعمال کر تے ہو ئے کشمیر پر پاکستان کے اصولی موقف کو اندورونی اور بیرونی یورشوں سے بچا نے کے لئے مطلو بہ کردار ادا کر سکتے تھے ۔ اور حکو مت کی اعلیٰ سیا سی قیادت کو کشمیر جیسے اہم ترین قومی سوال پر ڈگمگا نے سے بچا تے ۔ لیکن وہ بھی وہی کچھ کہنے اور کر نے لگے‘ جو سراب تھا۔ اور ہمارے کچھ کام نہ آیا۔ کا ش خا رجہ پالیسی اقبال کے اِس شعر کے ارد گرد گھو متی۔

                                    چیتے کا جگر چا ہیئے شا ہین کا تجسس
                                    جی سکتے ہیں بے رو شنی دا نش ِافرنگ
                                    کر بلبل وطا س کی تقلید سے تو بہ
                                    بلبل فقط آواز ہے طا س فقط رنگ

            ”جیو“ کے ایک طویل انٹرویو میں اکتو بر2008ءمیں سا بق وزیر خا رجہ نے انکشا ف کیا کہ1990 ءمیں جب کشمیر میں تحریک شروع ہو ئی تو امریکہ نے کئی سا لوں تک پاکستان سے کچھ نہیں کہا ۔ انہوں نے کہا کہ کا ش امریکی الیکشن بارہ سا لوں کے بعد ہوا کر تے‘ کیو نکہ ہر چا ر سا ل بعد جب بھی الیکشن ہو تے ہیں ‘ تو پہلے پاکستان کی شامت آتی ہے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کے خلاف کسی مہم کا آغاز امریکی تھنک ٹینکوں کی رپوٹوں کے نتیجے میں ہوتا ہے ۔ وہ اپنی رپورٹیں میڈیا میں پھیلا تے ہیں۔ میڈیا کے ذریعے یہی رپوٹیں امریکی ایڈ منسٹریشن کو جاتی ہیں اور اس کے بعد انہی بنیادوں پر انتظا میہ پاکستان کے با رے میں پالیسیاں مرتب کر تی ہے ۔“

            یہاں یہ سوال پیدا ہو تا ہے کہ اگر امریکہ اپنے سا مرا جی‘ سیاسی اور معا شی مفادات اور صدارتی الیکشن کی ہار جیت کے پیما نے سے پاکستان کے خلاف ایسی خطر ناک پالیسیاں بناتا ہے۔ تو پاکستان کیوں نہیں اپنی پالیسیوں کو اپنی قوم کی خوا ہشات اور مفادات کے مطا بق مر تب کرسکتا ہے؟ اسی طرح اگر بھارت اپنے مفادات کو اولیت دیتا ہے اور ایران بھی اپنی ایک منفرد پالیسی پر گا مزن ہے ‘ تو پاکستان کی حکو متیں کیوںملک کو امریکہ کی خوشنو دی سے ہی وا بستہ رکھتی ہیں ۔ کیا امریکہ کے سا تھ خو شگوا ر تعلقات قائم رکھنے کے لئے پاکستان جیسے وسا ئل سے مالا مال اور ایک اہم محل وقوع کے حامل ملک کے لئے دوسرا کوئی راستہ نہیں ہے ۔ جس میں خود اعتما دی آبرو مندی اور عزت نفس ہو ؟

            دوسرا سوال یہ ابھرتا ہے کہ اگر امریکہ کے تھنک ٹینک ہی امریکی حکومت پر اثر انداز ہو تے ہیں ۔ تو پاکستان کے تھنک ٹینک کس مرض کا علا ج ہیں؟ پاکستان کی لا بیاں امریکہ میں کیا کا م انجام دیتی ہیں ؟ جبکہ پاکستان کے مفادات اور کشمیر کی آزادی کے لئے ان کو دنیا بھرمیں با صلا حیت افرادی قوت بھی میسر ہے ۔ جو قوم پرستی اور کشمیر نوا زی کے جذ با ت اور احسا سا ت سے سر شا ر ہے۔

             خو د پالیسی ما ہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی خا رجہ پالیسی پابہ زنجیر اور کشمیر پالیسی میں تذبذب ہے۔ جس نے کشمیر کی تحریک آذادی اور پاکستان کو ایک سوا لیہ نشا ن بنا دیا ہے ۔ یہی و جہ ہے کہ مسلم دنیا بھی پاکستانی مو قف کو سنجید گی سے نہیں لیتی ہے ۔ خود پاکستان کے عوام بھی کشمیر کے مستقبل کے بارے میں زیادہ پر امید نظر نہیں آتے ۔ اب صبح کے نا شتے پر اخبارات کشمیر کو وہ اہمیت نہیں دیتے ‘ جس کا کشمیر حق دار ہے ۔ اور جس کی کشمیریوں کو امید رہتی ہے ۔ عالمی ادارے کی کشمیر میں ظلم و ستم سے بے رُخی ہے۔ اورکشمیر میں کئی مہینوں سے آزادی کی جو لہر چل رہی ہے ۔ بد قسمتی سے عا لمی منظر اس کا حا می نہیں ہے۔ مو جودہ حالات سے یہی ثا بت ہورہا ہے کہ دنیا ئے اسلام کی واحد جو ہری طا قت ہو نے کے با وجود پاکستان اپنا سیاسی نکتہ نگاہ نہیں منوا سکا ہے ۔ بلکہ وہ دوسروں کے دئے ہو ئے عنوا نات‘ تخیلات‘ اور اصطلا حات پر مضا مین لکھ رہا ہے۔ کل اگر مغربی طاقتوں نے کہا تھا کہ افغا نستان میں غیر ملکوں روسی افواج جارح ہیں اور ان کے خلاف لڑ نا جہاد ہے ۔ تو یہی عنوان ٹھیک تھا ۔ آج اگر اتحا دیوں کی شکل میں ایک سے زیادہ مغربی ممالک کی فو جیں افغا نستان اور عرا ق میں مزے سے بیٹھی ہیں ‘ تو ان کے خلا ف آ وا ز اٹھا نے و لے اور لڑ نے و الے دہشت گرد ہیں ۔ کل یہی لوگ مجا ہد تھے۔ اور صدر امریکہ ان ہی کو وا ئٹ ہاوئس میں اپنے پہلو میں بٹھا کر ان پر فخر کیا کرتے تھے۔ اور سا بق صدر ضیا ءالحق جہاد کے لئے ملنے والی امریکی امداد کو اُونٹ کے منہ میں زیرہ قرار دیتے تھے۔ اس صورت حال سے یہ سبق حاصل ہو تا ہے کہ ترقی پزیر ملکوں خا ص کر مسلما ن ملکوں کو یہ یاد رکھنا چا ہے کہ امریکہ اور مغر ب انہیں اپنے مفادات کے لئے استعما ل کرتی رہیں گے۔ جب تک وہ بے حس رہیں مغربی ملک مسلما ن ملکوں کو مسلمانوں کے جا ئز مفادات کے لئے کا م کرنے کی اجا زت نہیں دیں گے ۔ اس لئے روس کو افغا نستان سے نکا لنے کے بعد کشمیریوں اور پاکستانیوں کو اس با ت کی چھوٹ نہیں دی گئی کہ وہ بھارت کو سرینگر اور جموں سے نکا لیں ۔ بلکہ اس کے الٹ روس کو اپنا اتحا دی بنا کر وا پس افغانستان لا یا گیا اور ستم با لائے ستم یہ کہ بھارت کو بھی پورے فو جی اور سفارتی جا ہ وجلال کے سا تھ افغا نستان میں بٹھا دیا گیا ہے۔اور اُسے پاکستان کے خلاف عدم سلا متی کا ما حول پیدا کر نے کا مو قعہ مِل گیا ہے۔

                                    چھُپا کر آستین میں بجلیاں رکھی ہیں گردوں نے
                                    عنا دِل باغ کے غا فِل نہ بیٹھیں آشیانوں میں!

            کاش پاکستان کے پالیسی سا زوں نے مفکر پاکستان کی” دو زخی کی منا جات“ سے یہ شعر پڑھ کر قو می پالیسی مرتب کی ہوتی ‘ تو آج نہ کشمیر درما ندہ رہتا ‘ نہ اَرض پاک کوپانی کی بندش کا کو ئی ڈر ہو تا اور نہ آئی ۔ایم_©۔ ایف کے آگے کشکول پھیلا نے کی ضرورت ہو تی ۔

                                    اللہ !تیرا شکر کہ یہ خطہ پر سوز !

                                    سوداگر یورپ کی غلامی سے ہے آزاد!

                        میں نے صورت حال درد مندی کے سا تھ سا منے لائی ہے ۔ میں چا ہتا ہوں کہ جموں و کشمیر کے سیاسی و مذ ہبی رہنما ان تبدیلیوں کو دیکھیں‘ گردو پیش اور ما ضی و حال کو بہ غور پڑ ھیں ۔ کیو نکہ ہم کشمیر یوں سے بھی کافی غلطیاں ہو ئیں۔ ہم ہمیشہ ہی بیرونی دنیا خاص کر امت مسلمہ سے توقعات کا انبار با ندھتے رہے ۔ اور ہمارے نعرے اور مطا لبات بھی آفا قی قسم تھے ۔ لیکن اِسلا می اُمہ اور خود پاکستان میں تبدیلیاں آرہی ہیں ۔ ہم ان سے اپنی آنکھیں موند لیتے ہیں اور کوئی اثر قبول کرتے نہ اپنے ماحول اور اپنی تحریک کے تقا ضوں کی روشنی میں اپنا طرز عمل اور لائحہ عمل مرتب کر تے ۔

            ہم نے 1988ءمیں آزادی کی تحریک کا احیاءکیا اور مسلح جدوجہد کو اختیار کیا۔ لیکن اِس کے بنیادی‘ اصولوں اور قوا عد و ضوا بط کو نظر انداز کیا۔چنا نچہ صف بندی غیر معیاری رہی اور سیاسی نصب العین پر تو جہ نہ رہی۔آزادی کے جس وطنی نصب العین کے حصول کے لئے ہم نے یہ سفر شروع کیا تھا۔

             اسکو ایک طرف رکھ کر مسلح انداز میں ”مذ ہبی نظام “ نا فذکرا نے کے لئے اقدامات اُٹھا ئے گئے۔ دیکھا دیکھی کے اس عجیب عالم میں فرقوں اورمسلکوں کے نام پرمسلح گروپ تشکیل دئے گئے۔ جن کا کام اسلام کا پیام انسا نیت عام کر نا نہیں تھا ‘ بلکہ لو گوں کو فرقوں کی روش پر چلانا تھا۔ چند مہینوں میں یہ عیاں ہو نے لگا تھا کہ یہ ریاست جموں و کشمیر کے با شندوں کے لئے سیاسی آزادی کی جدوجہد یا جنگ نہیں ہو گی ۔ بلکہ یہ ہر جماعت اور مسلک کے اپنے اپنے خیالات کو فرو غ دینے کی نئی کشمکش ہو گی۔ جس میں سیاسی آزادی کے مقبول عام اور غیر فرقہ وارانہ نعرے اور نظرئے کو ایک بڑ ے صدمے اور حا دثے سے دوچار ہو نا پڑ ے گا ۔ بہر حال اس تنگ نظری نے مختلف پارٹیوں اور گروپوں کو تو مظبوط کردیا ۔لیکن دینی انسا نی اور اخلا قی اقدار پہلے سے کہیں زیادہ کمزور ہو گئیں اورپبلک معا ملات بھی شفاف نہ رہے ۔حق خود ارادیت اور آزادی کی وہ تحریک جو ریاست سے بھارتی افوا ج کے انخلا ءاور اقوا م متحدہ کی قرار دادوں کے نفاذ کے لئے بر پا ہو گئی تھی کمزور ہوگئی اور رہی سہی کسر ٹریک ٹو ڈپلو میسی اور تجا رتی اور ثقا فتی فا رمو لے نے پوری کردی ۔ کاش گذ شتہ آٹھ سالوں میں مسئلہ کشمیر سے متعلق ٹریک ٹو کے سفارت کاروں کی مہم اور سا بق صدر پاکستان کی” لچک دار“ پالیسی سے کشمیریوں کو ا ن کے انسا نی حقوق ہی وا پس ملے ہوتے‘ تو کچھ غنیمت تھا ۔ حق خود ارادیت کے حصول کی آس اُن سے پہلے ہی ٹو ٹ چکی تھی ۔ یار لو گوں کو تجا رت‘ سیا حت اور ثقا فت کے کھو کھلے نعرے سے اس قدر محبت ہے کہ انہیں مظلو م کشمیریو ں کا روزا نہ بہتا ہوا خون نظر ہی نہیں آتا۔ اور وہ اپنے مو قف کی تا ویل یوں کر تے ہیں ۔ کہ ہم تو کشمیریوں کو بچا نا چا ہتے ہیں۔ حالانکہ بھارتیوں اور بھارتی ایجنٹوں کے لئے ان کی پر تکلف دعوتیں بھی کشمیریوں کو اب تک قتل و غا رت اور گرفتا ریوں سے نہیں بچا سکیں۔

            یہ صدمہ ہے لیکن اس بحران میں کشمیری عوام اپنی سیاسی فراست اور دور بینی میں کا فی آگے نکل آئے ۔اَب ان کو سبز با غ دکھا کر ٹر خانا او ر ذہنی طور پر کمزور جان کر ان کا استحصا ل کر نا اچھا نہیں ہے۔ یہی و جہ ہے کہ جب بھارت نے عا لمی دبا  بڑ ھا کر کشمیریوں کی اخلا قی حمایت بھی مسدود کروائی ‘ تو کشمیری نو جوا نوں نے لاکھوں کی تعدا د میں سڑکوں پر نمو دار ہو کر تحریک آزادی کو ایک حیران کن رخ دے دیا۔ جس کا اعتراف خود بھارت کے اندر بھی کردیا گیا ۔ چند ماہ پہلے لاکھوں کشمیری عوام کے پیدل ما رچ سے شروع ہو نے والی تحریک ایک اجتما عی آواز میں بدل گئی ۔ لاکھوں عوام کے دلوں پر یہ الہام نہ اترتا‘ تو یہ قوم آج ایک بڑی علاقا ئی طاقت کے مد مقا بل کھڑ ی نہ ہوتی ۔ کشمیری عوام ایسا نہ کر تے‘ تو بھارت کی بالادستی کا خواب پورا ہو چکا ہوتا اور بڑی طاقتیں اس کے جھوٹے دعوے پر اپنی مہر تصدیق ثبت کرتیں کہ کشمیر کا مسئلہ حل ہو گیا ہے ۔اور حق خود ارادیت کا مطا لبہ فرسودہ ہو گیا ہے ۔

            جموں و کشمیر کے عوام کے مسلمہ حق خود ارادیت کی آواز کو ہمیشہ کے لئے دفن کر نے کے لئے عالمی صورت حال کا اس طرح استحصال کیا گیا تھا۔ کہ پاکستان چوم چا ٹ کے کشمیر چھوڑ نے چلا تھا۔ چنا نچہ وزارات خار جہ کی سا بق ترجمان تسلیمہ اسلم نے پریس کانفرنس میں یہ اعلا ن بھی کیا کہ کشمیر پر پاکستان کا کوئی دعویٰ نہیں ہے۔” ہم نے کبھی یہ نہیں کہا کہ جموں وکشمیر پاکستان کا حصہ ہے “۔ اس وقت وہ آزاد کشمیر کے آئین کو بھو ل گئیں ۔ پتہ نہیں کہ اگر کوئی ان سے یہ سوال کر لیتا کہ پاکستان کاکوئی دعویٰ نہیں ہے تو وہ کیسے آزاد کشمیر اور گلگت و بلتستان میں بیٹھا ہوا ہے ۔ پاکستان کا کو ئی دعویٰ نہیں ہے تو پھر وہ کیسے اس مسئلے کا فریق ہے ۔ ان باتوں سے بھارت ہماری ریاست سے دست بردار نہیں ہوا۔ بلکہ اُلٹا کشمیریوں پر مظا لم ڈھا نے کے لئے اسے فری ھینڈ مل گیا ہے ۔

            دھشت گردی‘ یا اسلامی دہشت گردی‘ ایک ایسی گالی ہے‘ جس کے ذریعے سے مسلما نوں کی آزادی اور خود مختاری کے دشمن انہیں خوف کے مرض میں مبتلا کر کے‘ بزدلی کے گہرے کنو یں میں بے یارو مدد گار دیکھنا چا ہتے ہیں ۔ اور پھر اپنے کاسہ لیسوںکے ذ ریعے سے عوام کو رہے سہے حقوق سے بھی دست بردار کرا نا چا ہتے ہیں ۔ پاکستان کے لئے علی الخصوص یہی پالیسی عملا ئی جا رہی ہے ۔ اس ظالما نہ اور متعصبا نہ پالیسی کا ہدف پاکستان کا جو ہری نظا م اور کشمیر و فلسطین کے حق خود ارادیت کی تحریک کی حمایت ہے ۔ اگر ایک بار پاکستان مغرب کی چکنی چبڑی باتوں اور بھارت کے دام ہم رنگ زمین میں آگیا اور اس نے حق خود ارادیت کا پر چم سر نگوں کر دیا تو پھر کشمیر سے لے کر ایشیا اور افریقہ کے بہت سا رے علاقوں تک خشکی ‘ پا نی اورفضا میں اُسکا کوئی رو کنے والا نہیں رہے گا۔ اور کسی کو ظلم و استبداد کے خلاف آہ و فریاد کر نے کی بھی اجازت نہیں ہو گی ۔ اسی لئے امریکہ کے بعد اب بھارت کی طرف سے بھی ”ڈو مور“ دھمکیاں آرہی ہیں ۔ جن کا ثبوت ممبئی المئے کے بعد کے واقعات سے ملتا ہے۔

             ممبئی دہشت گر دی کے بعد پاکستان پر بھونڈے بھارتی الزا ما ت کی بو چھا ڑ‘ وزیر خا رجہ شا ہ محمود قریشی کے دورہ بھارت میں اُن کے سا تھ اپنے ہم منصب بھا رتی و زیر خا رجہ کا ہتک آمیز رو یہ ‘ مہمان نوا زی کے آدا ب و اطوا ر کی مٹی پلید کرنا‘ صدر زرداری کو بھارتی وزیر خا رجہ پر نا ب مکھر جی کی طرف سے ایک فو ن کال میں سبق سکھا نے کی دھمکی دینا‘13 دسمبر2008 کو پاکستان اور آزاد کشمیر کی ہوا ئی حدود میںبھا رت کی سنگین خلاف ور زی‘ اور ۴۱ دسبر کو بر طا نیہ کے وزیر اعظم گا رڈن برا ن کی طر ف سے پاکستان کے خلاف کَرَخت زبان میں دہشت گردی کے الزامات لگانا اور پھر اسی سا نس میں سکیو رٹی معا ھدے اور اقتصا دی امدا د کی پیشکش کرنا۔ یہ سا ری با تیں کس با ت کی غما ز ہیں اور کس قسم کی قو می پالیسی کا تقا ضا کر تی ہیں۔ کیا یہ سب وا قعا ت اور حا دثا ت پاکستان کو علا مہ اقبالؒ کے ارشا دات کی طر ف رجو ع کر نے کی دعو ت نہیں دیتے ہیں ‘ جو عمر بھر اُمت مسلمہ کو خودی اور فقر کی تعلیم دیتے رہے۔

                                    خود ی کو نہ دے سیم وزر کے عو ض

                                    نہیں شعلہ دیتے شرر کے عوض   

             اس پر آشوب دور میں پاکستان کو وہی کچھ کر ناچاہے جو تا ریخ میں زندہ اور دلیر اقوام نے اپنی آزادی‘ خود مختاری اور بقاءکے لئے کیا ہے ۔ اگر اسلامی تعلیمات اور عقا ئد کی امین اور وارث کو ئی مسلما ن قوم‘ جماعت اور ریاست بقاءانسا نیت اور بقاء حیات کے لئے دلیری‘ سخت کو شی اور دا نا ئی کا مظا ہرہ نہیں کر سکتی ہے تو پھر وہ اسلامی ہو نے کا دعوی بھی نہیں کر سکتی ۔ علا مہ اقبالؒؒؒؒ کا فر مان ہے ۔ 

                                     تو اگر کو ئی مدبر ہے تو سن میری صدا

                                    ہے دلیری دست اربا ب سیاست کا عصا

                                    عرض مطلب سے جھجک جانا نہیں زیبا تجھے

                                    نیک ہے نیت اگر تیری تو کیا پروا۔تجھے

                                    بندہ مومن کا دل بیم وریا سے پاک ہے

                                    قوتِ فرما نر وا کے سا منے بے باک ہے ۔ 

            حق خود ارادیت ایسا زرہ ہے ‘ جس میں پاکستان کی اپنی خود مختاری اور بقا ءکی گا رنٹی کا راز بھی پو شیدہ ہے ۔ بھارت اپنی فو جی اور عددی قوت کی بنیاد پر جموں و کشمیر کو اپنا قانونی اور آ ئینی حق قرار دیتا ہے ۔ حالانکہ تاریخ‘ جغرا فیہ اور تہذیب اس کو جھٹلا تی ہے ۔ اگرپاکستان حق و انصا ف اور تا ریخی حقا ئق کی بنیا د پر حق خود ارادیت کی حمایت پر استقامت کا مسلسل مظاہرہ کر تا رہے گا ‘ تو بلا شبہ بھارت کے مکرو فریب اور جھوٹ کی ریتلی عمارت زمین بوس ہو جا ئے گی۔

            امریکہ اور اس کی حلیف طا قتوں نے اس دہا ئی میں خوف و دہشت کا ایک ایسا ما حول پیدا کیا ہے ۔ جس میں کسی کے لئے آزادی‘ حق خود ارادیت اور انصا ف کی با ت کر نا اپنی غلامی کو دعوت دینے کے مترادف ہے ۔چھوٹی چھوٹی قوموں اور ریاستوں سے کہا گیا ہے کہ اگر ان پر ظلم ہو تا ہے ‘ تو وہ ظلم و جبر کی بات بھی زبان پر نہ لائیں ‘چہ جا ئیکہ وہ ظلم کے خلاف جدوجہد کریں ۔ امریکہ کی اس پالیسی نے دنیا بھر میں ریاستی و غیر ریا ستی دہشت گر دی‘ غیر یقینیت اور بد امنی کو فروغ دیا ہے ۔ اقوا م متحدہ اور اس کے منشور پر عوام کا اعتما د اٹھ گیا ہے کہ اب دنیا میں ان کی فریاد سننے والا اور ان کے حقوق کی حفا ظت کر نے والا کو ئی نہیں رہا ۔ اس عام تا ثر اور ذہن نے نو جو انوں میں مر نے اور ما رنے کی خوفنا ک مہم چلا نے کا جنون پیدا کر لیا ہے ۔

            مغربی اور امریکی حکمرانوں کی ان پالیسیوں نے دنیا میںدو دھڑ ے وجود میں لائے ہیں ۔ ایک ریاستی دہشت گردی سے مسلمانو ں کے وجود کے درپے ہے ‘اور دوسرا سر حدی قیود سے ماوراءہو کر اس کا مقا بلہ کر نے کے لئے تشدد کے ایک ایسے راستے پر ہے ‘۔ جس سے خود مسلمانوں کی بقائ‘ وحد ت اور عزت و آبروبھی پامال ہو رہی ہے ۔اس کے علاوہ اِ ن کے اندر مذ ہبی تعلیم یافتہ اور مغر بی تعلیم یا فتہ افراد کے درمیان بعُد پیدا ہو گیا ہے۔ اور مغرب میں اسلام اور مسلمانوں کے دشمن اس کا بھر پور فا ئدہ اٹھا رہے ہیں۔ مسلما نوں کے درمیان اس دوری نے مسلم ریاستوں کی سا لمیت حا کمیت اعلی کے تحفظٰ اور آزادی اور حق خود ارادیت کے حصول کے لئے لڑ نے وا لی مسلمان ریاستوں۔۔ جموں و کشمیر اور فلسطین کو بھی نئے ابتلاءمیں ڈالا ہے ۔ اندریںحالات خود کشمیریوں کو اپنی آزادی کے لئے کیا کر نا چا ہے اور کس طرح اپنے قو می مطا لبہ آزادی پر زور دینا چا ہے ۔ اِس سوا ل پر فو ری طور پر غور و فکر اور لا ئحہ عمل مر تب کر نے کی ضرورت ہے۔

            اقوام متحدہ کی پہلو تہی او رکشمیر سے لمبی بے رخی‘ یورپ اور امریکہ کی معا شی اور فو جی حِرص اور تہذیبی رعونت ‘مسلم دنیا اور او۔آئی ۔سی کی آپسی رسہ کشی‘ بے بسی اور مغرب پر سیاسی‘ معا شی‘ فو جی اور سیاسی انحصار کے ماحول میں اہل کشمیر نے ہر چیز سے بے نیاز ہو کر جنگ آزادی کے لئے ایک اور حیرت انگیز کروٹ لی ہے ۔ یہ ایک بڑا قدم ہے ‘ جو اُن کی گذ شتہ کاوشو ں کی تصدیق کرتاہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ان نا موا فق حالات میں کشمیری عوام کس طر ح اپنی تحریک کو زندہ رکھیں گے اور اسے نتیجہ خیز بنا ئیں گے ۔ کیو نکہ خود انہی کی صفوں میں کالی بھیڑیں بیٹھی ہو ئی ہیں ۔ اس کام میں لیڈر‘ پارٹیاں اور عوام سب ایک اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

            سب سے پہلے تحریک آزادی کو زندہ رکھنے کا سوا ل ہے ۔ زندگی اخلاص‘ نظم و ضبط‘ ایما ن اور اتحاد سے ملتی ہے جب ریاست جموں وکشمیر کے با شندوں کی  غا لب اکثریت بلا امتیاز مذ ہب‘ نسل ‘رنگ اور زبان یہ سمجھ لے کہ آزادی کی یہ تحریک ان کی فلاح و بہبود اور عزت و آبرو کی تحریک ہے ۔ ریاست کی مذہبی اور تہذیبی  اِکا ئیاں ایک دوسرے کی بنیا دی مذہبی اور تمدنی اقدار کی مخالفت سے احتراز کریں ۔ اور ریاست اپنے تمام شہریوں کو تعمیر و تر قی اور تعلیم و تربیت کے ایک جیسے موا قع فرا ہم کر نے کی یقین دہا نی کر ے۔ اور ان یقین دہا نیوں پر عمل کرے گی۔تحریک آزادی کے لئے جدوجہد کا طریقہ کار غیر فرقہ وارانہ اور امن پسندا نہ ہو اور اس سے ہر گز فرقہ پر ستی یا تشدد کی بو نہ آئے۔ علا مہ اقبا لؒ نے کیا خو ب فر ما یا تھا ۔

                                    شجر ہے فرقہ آرا ئی تعصب ہے ثمر اِس کا

                                    یہ وہ پھل ہے کہ جنت سے نکلو اتا ہے آدم کو!

                                    جو تو سمجھے تو آزادی ہے پو شیدہ محبت میں

                                    غلامی ہے اسیر امتیا ز ما و َ تو رہنا

            حق خود ارادیت ایک مسلمہ جمہوری نظریہ ہے۔ حق خود ارادیت اور انصا ف ہر قوم و ملت کے لئے یکساں اہمیت رکھتے ہیں۔ اِس لئے ہمیں اِ ن سوا لات پر فرقوں سے بالا تر ہو کر نظر کر نی چا ہے ۔ کشمیری بھی اپنی جدوجہد آزادی کے سا تھ اُسی وقت انصاف کر سکیں گے‘ جب یہ مطا لبہ سر زمین کشمیر پر بسنے وا لے تمام با شند گاں کے لئے ہو‘ اور اِس مطا لبے کو کسی خاص مذ ہب و فرقے سے نسبت نہ دی جا ئے ۔ خواہ کوئی مذ ہبی ولسانی فرقہ یا گروپ ہما رے سا تھ ہو یا نہ ہو ۔ جب ہم محسن اِنسا نیت اور رحمت الا لعا لمین کے پیغا م اَبدی اور شریعتِ کامل کے ماننے والے ہیں‘ تو ہما را عمل ہما رے دعوے کے مطا بق ہو نا چا ہئیے ۔

            ہمیں یہ حقیقت نہیں بھو لنی چا ہے کہ جب امریکہ اور اِس کے اتحا دیوں نے افغا نستان کی طا لبان حکو مت کو ختم کر نے اور بعد میںعراق پر قبضہ کر نے کے لئے دونوں ملکوں پر قیا مت خیز بم با ری کی تھی‘ اُس وقت مسلم اُمہ کے اکثر حکمرا ن خا موش رہے تھے لیکن یہ امریکہ‘ یو رپ اور آسٹریلیا جیسے مغربی ملکوں کے بڑ ے بڑے شہر ہی تھے‘ جہا ں لاکھوں عوام امریکہ کے خلا ف چیخ و پکا ر کر تے ہو ئے سڑکوں پر ظا ہر ہو گئے تھے۔ وہ منا ظر انقلا ب انگیز اور رقت آمیز تھے‘ جن کو قیا مت تک فرا موش نہیں کیا جا سکے گا ۔ آج بھی غزہ پر اِسرا ئیلی جا رحیت اور بم با ری کی ٹر یجڈی کے دورا ن یہی مغربی شہر بڑ ے پیما نے پر احتجا جی مظا ہروں میں ہم پر پھر سبقت لے گئے۔ تا ریخ کا یہ عجیب منظر یاد رکھے جانے کے لا ئق ہے ۔ کہ مغربی حکمران مسلما نوں کا قتل عام کر رہے ہیں اور مغربی عوام اِن قا تلا نِ اِنسا نیت کو بر ملا سڑکوں پر کو س رہے ہیں اور اِن کے اوپر جو تے بر سا رہے ہیں۔

            اس وقت جبکہ سا ری دنیا میں مسلمانوں کے خلاف دہشت گردی کی گا لی عام کردی گئی ہے۔یہاں تک کہ مسلمانو ںکی دوست ریاستوں کو بھی شکوک اور خدشات میں گرفتار کیا گیا ہے‘ انسانی حقوق کی بد ترین خلاف ورزیوں کا بھی کوئی نوٹس نہیں لیتا اور دیگر قو موں کو مسلمانوں سے ڈرانے کے لئے یہ الزام ترا شی کی جا تی ہے کہ” مسلمان کا کام صرف دہشت پھیلانا اور غیروں کے خلاف لڑ نا ہو تاہے۔ بلکہ وہ آپس میں بھی رزم آرا ئی کر تے ہیں“۔ اس لئے کشمیری حریت پسندوں پر لازم آتا ہے کہ وہ اپنے پر امن طریقہ کا ر سے کرہ ارض پر اپنے بنیادی حقوق اور اپنی جدوجہد کے لئے زیادہ سے زیادہ ہم نوا پیدا کریں ۔ مو جو دہ دنیا میں اقوام عالم ایک دوسرے سے تعا ون کئے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتی ہیں ۔ یہ تعا ون اس وقت حاصل ہو جاتا ہے جب قوموں کے درمیان ہم آہنگی ہو۔ کشمیریوں کو بھی عوام کے مختلف طبقوں اور اقوام اور ریاستوں کے تعا ون اور حما یت کی اشد ضرورت ہے ۔ یہ تعا ون جذ بات پرستی اور انتقام جو ئی سے حاصل نہیں ہو سکتا ۔ اس کے لئے عقل و فراست چا ہیئے ۔ نہیںتو ہلاکت کا اندھیرا کنواں انتظا رمیں ہوتا ہے ۔ یہ طرز فکروعمل سب سے پہلے لیڈروں اور تنظیموں کو سمجھناہے ۔ کہ زندگی کی آزما ئشوں کا مقا بلہ کس طرح کیا جا سکتا ہے۔

            بقول علا مہ اقبال

                                                             جب تک نہ ز ندگی کے حقا ئق پہ ہو نظر

                                                            تیر از جاج ہو نہ سکے گا حریف سنگ

              اس وقت دنیا بھر میں امریکہ اور مغربی طا قتتوں نے اپنے فو جی اور معا شی مفا دات کے لئے امن عالم اور انسا نیت کو درپیش خطرات کا ایسا نقارہ بجایا ہے ‘ کہ جس میں مظلوموں کی آواز نقار خا نے میں طو طے کی آوا زہے ۔ جموں و کشمیر کے با رے میں بھی بھارت اسی غو غہ آرا ئی سے فا ئدہ اٹھا رہا ہے ۔ یہی و جہ ہے کہ امریکہ اور یو رپ میں انسا نی حقوق کی بڑ ی بڑ ی تنظیموںکے با وجود کشمیریوں کی آواز صدا بہ صحرا ثا بت ہو رہی ہے اور مسئلہ کشمیر کو صرف بھارت اور پاکستان کا دو طر فہ مسئلہ سمجھ کر اس کا دو طر فہ حل نکا لنے کی با ت کی جا تی ہے ۔ اورحق خود ارادیت یا کسی ایسی با ت کا ذکر جو بھارت کو نا پسند ہو‘ کہنے سے گر یز کیا جا تا ہے۔

                         بعض لو گوں کے اس اَ پروچ میں کشمیریوں کے لئے ہر گز کوئی خیر نہیں ہے کہ ”حق خود ارادیت اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے سا تھ سا تھ دوسرے ملکوں کو فتح کر نے کا نعرہ بھی بلند کیا جا ئے“۔ جدجہد آزادی کا مفاد اِس با ت میں ہے کہ کشمیر کے حریت پسند سیاست دان دنیا کے بڑے بڑے دارالحکو متوں۔ مثلاً وا شنگٹن‘ لندن‘ بیجنگ‘ پیرس‘ برلن‘ ٹو کیو اور ریا ض کے سا تھ را بطے استوار کر یں اور خوشگوار تعلقات کو فروغ دیں ۔

             ان حالا ت میں ایسے اقدا مات اُٹھا نے کی ضرورت ہے کہ عا لمی سطح پر تحریک آزادی کو تسلیم کیا جا ئے ۔ اور مو جو دہ عالمی بے رخی ختم ہو ۔ تحریک کشمیر کی حقیقی سیاسی قیادت کو دنیا بھر میں مسئلہ کشمیر اپنے تا ریخی پس منظر میں پیش کر نے کے موا قع ملنے چا ہیں۔ کشمیر کی حریت پسند تنظیمیں اپنی آزادی کی سیاسی تحریک پُر امن طریقوں سے چلائیں اور عالم گیر سطح پر تسلیم شدہ نظریات‘ حق خود اردیت ‘ بنیا دی انسانی حقوق اور اقوا م متحدہ کی قرار دادیں اپنی جدجہد کی بنیاد بنائیں۔یہ دکھا ئیں کہ کشمیر کی آزادی کی تحریک مذ ہبی‘ نسلی اور لسا نی امتیازات سے بالا تر ہے اور کشمیری عوام قو می یگا نگت اور بھائی چا رے کی اعلیٰ انسا نی اقداراور روایات پر یقین کا مل رکھتے ہیں ۔

            ہندوستان کے اندر جموں و کشمیر کی تحریک را ئے شماری کو اب تک اس کے صحیح تنا ظر میں نہیں سمجھا گیا ۔ بلکہ اس کو مسخ کر نے میں کوئی کسر با قی نہیں رکھی گئی ۔ اس وقت بھی ہما ری تحریک آزادی کے خلاف اندر اور با ہر زہریلا پرو پیگنڈا جا ری ہے۔ جس کو ناکا م بنا نے کی اشد ضرورت ہے۔پھر بھی 2008کی عوامی تحریک نے بھارت میں کئی شخصیتوں کی سو چ ہلا کر رکھی ہے ۔ اس سے یہ ثا بت ہو تا ہے کہ کشمیری لیڈر شپ کو بھارتی رہنماں کی ہمدردیاں حاصل کر نے کے لئے بھی کا م کر نا چا ہے ۔ اس کے لئے زمین ہموار ہے۔

             کشمیر کی تحریک آزادی سے ہمیں یہ سبق ملا ہے کہ کسی ملک اور قوم کی آزادی کی سیاسی یا عسکری جدو جہد فرقوں یا جماعتوں کے اپنے مخصوص عقا ئد و نظریات کی بنیاد پر چلا کر کا میا بی سے ہم کنار نہیں ہو سکتی ۔ قو می آزادی کی جدو جہد کا طریقہ کار ایسا ہو نا چا ہے کہ محکو م ملک کے تمام طبقے اور فرقے اس کو اپنی جدوجہد سمجھیں۔ جو قوم ان امتیازات سے بالاتر نہیںرہتی اور اتحاد عمل کا مظا ہرہ نہیں کر تی‘ اس کا راستہ گم ہو جا تا ہے ۔ ایسی قوم سا زشوں کا شکار ہو جا تی ہے۔ اور محرو میاں اُس کے نصیب میں ہو تی ہیں۔ جو آنے وا لی نسلوں کو بھی متا ثر کر دیتی ہیں۔

            اسلام نے دنیا ئے انسانیت کو تعلیم و تربیت کا جو سبق پڑھایا تھا۔ اس میں جبرو اکرا ہ کا کہیں اِذن نہیں ہے ۔صحیح جمہو ریت ہی جس میں اظہار را ئے اور عقیدے کی آزادی ہو اور ہر شعبہ حیات میں انصا ف عوا م کی دہلیز پر ملے ‘ آخر کار ایک بہترین نظا م زندگی کے لئے راستہ ہموار کرلیتی ہے ۔ اس لئے غیر ملکی سا زشوں کے باوجود ہمیں چا ہے کہ ریاست کے مختلف خطوں‘ فرقوں اور نسلوں سے تعلق رکھنے وا لوں کو جدجہد آزادی کا ہم نوا بنا نے کی کوششیں کر یں۔ہم انہیں یہ یقین دلائیں کہ آزادی کا سو رج طلوع ہو گا ‘ تو اسکی کر نوں سے تما م با شند گان وطن کو یکساں طور پر مستفید ہو نے کا مو قعہ دیا جائے گا ۔

            ایک اہم نکتہ جو مو جودہ حا لات میں ہما رے لئے افا دیت کا پہلو لئے ہو ئے ہے‘ کشمیر کی مصروف جدجہد قو توں کے درمیان مکا لمہ اور قر بت کا سوال ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ آج کشمیر میں حریت پسندوں کی کو ئی وا حد لیڈر شپ نہیں ہے۔ بلکہ کئی صا حبِ اَثر لیڈر مو جودہیں‘ جو جدو جہد آزادی میں یقین رکھتے ہیں۔ ضرورت اس با ت کی ہے کہ یہی چند با اثر رہنما اختلا فات کے باوجود آپس میں مسئلہ کشمیر پر مکا لمہ کر نے کے لئے ایک دوسرے کے قریب ہو جائیں اور نہ صرف مو جودہ دنیا کی بین الاقوا می اورعلا قا ئی صورت حال اور ریاستوں کی ترجیحا ت بلکہ مسئلہ کشمیر کے با رے میں مشرق و مغرب اور امریکہ کی سو چ اور تر جیحا ت کا تجزیہ کریں۔ امید ہے کہ اس طرح مشترکہ جدوجہد ‘ مشترکہ حکمت عملی اور مسئلہ کشمیر کے سیاسی حل کے امکا نات رو شن ہو جا ئیں گے ۔ ہمیں ایک پر امن عوا می تحریک چلا نے کے سا تھ سا تھ عا لمی طا قتوں پر بھی اپنا سیاسی‘ سفا رتی اور اخلا قی دبا  بڑ ھا نا چا ہئیے ۔ جس سے کشمیر پر بھا رت کے فو جی دبا  کو کم کیا جا سکتا ہے اور اُس کے مو جودہ اثر و نفوذ کو گھٹا یا جا سکتا ہے۔ اگر ہم کشمیر پر بھارت کا فو جی دبا  کم کر نے اور کشمیر کے با رے میں بیرونی دنیا میںاپنا اَثر بڑ ھا نے اور بھارت کا اثر کم کر نے میں کا میاب ہو گئے۔ تو مسئلہ کشمیر کے کسی نہ کسی معقول حل پر بھارت اور پاکستان ہما ری آوازسے متفق ہو نے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔

            اب کشمیر کی آزادی کی جدو جہد کاایک نیا دور شروع ہوا ہے ۔ گذ شتہ دور میںہما را طریقہ کار ناکام رہا اور ہما ری نظروں نے دھو کہ کھا یا۔ اور ہما ری شعلہ بیا نیاں بھی ہما رے کچھ کام نہ آئیں۔ ایک متوازن سوچ اور طرز عمل ہی ہماری کا میابی کی ضمانت ہے ۔جس میںمعذرت خوا ہی ہر گز نہ ہو۔ کشمیری آزادی حاصل کر نے کا اپنا نصب العین بہت ہی پیارا سمجھتے ہیں۔ لیکن اس کےلئے اِستقامت اور فراست کا لا ئحہ عمل ضروری ہے۔ سب سے پہلے لیڈر شپ کو ان صفات کی اہمیت کا ادراک کرنا ہو گا اور پھر عوام کو بتا نا ہو گا کہ قو می اندا ز فکر کیا ہو تا ہے اور وہ کس طر ح سیاسی بلو غیت اور سیاسی آزادی کی طرف لے جاتا ہے ۔ختم شد

نوٹ: مقا لہ نگار کل جما عتی حریت کا نفرنس آزاد کشمیر کے کنوینراور جموں و کشمیر پیپلز فریڈم لیگ کے چئیرمین ہیں۔

شا ئع شدہ ’کشمیر عظمیٰ‘ فروری 2009 قسط وار

 Visit our website at http://www.kashmiris.org

Categories: Articles
  1. No comments yet.
  1. No trackbacks yet.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: