Home > Uncategorized > کشمیر میں کشمیری کھا نوں کی تلا ش. کے جوا ب میں

کشمیر میں کشمیری کھا نوں کی تلا ش. کے جوا ب میں

September 10, 2009 Leave a comment Go to comments

کشمیر میں کشمیری کھا نوں کی تلا ش” کے جوا ب میں”

محترمہ کشور نا ھید صا حبہ
اسلا م علیکم :
روز نا مہ جنگ اِتوار 5جو لا ئی2009 کے شما رے میں آپ کا کا لم” کشمیر میں کشمیری کھا نوں کی تلا ش“ نظر نواز ہوا۔ آپ کے کالم اد بی ، سما جی ، اِخلا قی اور سیاسی لحاظ سے معرو ضی حقا ئق کی عکا سی کر تے ہیں اور چا شنی دار اِشا روں اور کنایوں سے لبریز ہو تے ہیں ۔ لیکن میں آپ کی تو جہ چند ایسے حقا ئق کی طرف موڑ نا چا ہوں گا۔ جو آج مقبو ضہ کشمیر کے عوام کے لئے کھا نے اور گا نے کے کلچر سے زیا دہ اہمیت رکھتے ہیں ۔ گذشتہ 20 برس سے جموں وکشمیر میںبے گنا ہ اِنسا نوں کا خو نِ نا حق بہا یا جا رہا ہے ۔ اور ہر خا ندا ن اور فرد کی ایک اپنی کہا نی ہے ، جوخا ک اور خو ن کی لکیروں سے عبا رت ہے ۔ ظا لم قو توںکو بڑی طا قتوں کی تھپکی حاصل ہو نے کی و جہ سے یہ طو فا ن ابھی تک تھما نہیں ہے ۔ ہا ں اِس سے آنکھیں مو ند نے کی نرا لی تر کیبیں اخترا ع کی گئی ہیں ۔ پاکستان کو جموں و کشمیرکے دریا، ندی نا لے اور چشمے سیراب کر تے ہیں اور برقی رو شنی بھی فرا ہم کر تے ہیں۔خود کشمیری اس مملکت کو عطیہ الٰہی سمجھتے ہیں۔ اس کے با وجو د کئی سا لوں سے اخبارات میںایسی تحریریں پڑنے کو ملتی ہیں جن سے ملک بھر میں یہ تا ثر عام کیا جا رہا ہے کہ کشمیرملکی سلا متی کے لئے خطرہ ہے، کشمیری ایک بو جھ ہے اورتحریک آزادی سے زیادہ بہتر ہند پاکستان دوستی ہے۔ کشمیری یہ کہنا چا ہتے ہیںکہ اُن کا کسی کے سا تھ مذ ہب یا فر قے کا کو ئی جھگڑا نہیں ہے۔ لیکن اُن کی کو ئی سنتا نہیں ۔9/11کی نفرت انگیز تھیوری کا اِطلا ق اُن پر بھی بلا جواز کیا جا تا ہے اور دنیا بھر میں اُن کے حا میوںکی زبا ن گنگ کردی گئی ہے۔
وہ تو صر ف اپنا تسلیم شدہ حق ۔حق خود ارادیت ۔ عزت سے جینے کا حق ما نگ رہے ہیں ۔ اُن کے مخا لف اور مفا د پرست عناصر 1947ءکے ما حول میں رہتے ہوئے اُن کی زمین ان پر تنگ کئے ہو ئے ہیں ۔ لیکن کشمیریوں کو آزادی کے لئے لگا تار قر با نیوں نے اپنی انفرا دی ، قو می اورسیا سی شنا خت کے سب سے او نچے مقام پر لا کھڑا کیا ہے ۔ یہ نعرہ آج کل لا کھوں کشمیری بچوں اور نو جو انوں کی زبا ن پر چڑھا ہوا ہے ۔وہ اس تصور کو اُس پیما نے سے پرکھنے کے لئے تیار نہیں ہیں، جو پاکستان نے اِس صدی کے آغا ز سے مسئلہ کشمیر کا حل سمجھ لیا ہے ۔ یعنی سا بق صدر مشرف کا چا ر نکا تی فارمو لہ جس پر یہ شعر صا دق آتا ہے ۔ع
نہ خدا ہی مِلا نہ وصا ل صنم
نہ ادھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے ۔
کشمیریوں کی جدو جہد آزادی 1931ءسے جاری ہے۔ 1947-48میں بھا ر ت اور پاکستان نے کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینے کا وعدہ کیا تھااور اقوا م متحدہ نے متعدد قراردادوں میں اس کو ایک قا نو نی شکل دی اور اِس کا ایک ضا بطہ عمل منظور کر دیا ۔ لیکن بھا رت کی وعدہ شکنی اور ھیرا پھیری سے ایک آسان سوال بہ ظاہر لا ینحل ہو گیا۔ اس صورت حال میں کشمیریوں کو میدا ن عمل میں ڈ ٹ جا نے کی تر غیب ملی ۔اور انہوں نے سر فروشی کاراستہ چن لیا ۔ لیکن اب اس کی تعبیر الٹ دی گئی ہے ۔ جس پر کشمیریوں کو یہ پو چھنے کا حق ہے ۔ع
دربیا با ن جنو ن بردی و رسوا سا حتی
باز می گو ئی کہ دا من ترمہ کن ہشیار با ش
کشمیریوں کا کیا قصور ہے کہ اُن کو آزادی اور حق خود ارادیت کے بدلے تقسیم کی پکی لکیر ملے ۔ جس کو سا فٹ بارڈر کہیں یا غیر موثر سرحد۔ دونوں ایک ہی چیزیں ہیں ۔ یعنی دو نمبری آزادی۔جہاں تک آزاد کشمیر میں کشمیری کھا نوں کی تلاش کا سوال ہے ۔کشمیری دستر خوان کے کھا نے اور کشمیری زبا ن کے گا نے اور اولیاءکرام کے نعت اور منقبت آپ کو وا دی کشمیر میںملیں گے۔ جہاںپر لو گوں نے سا مرا جی قو توں کے خلا ف آزادی کا پرچم بھی بلند کیا ہے۔ آزاد کشمیرکی فضا یئں اِنڈین فلمی گا نوں سے ما مور ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے سو نیا گا ندھی نے اس خطے کو تہذیبی یلغا ر سے زیر کر نے کا دعویٰ کیا تھا۔اس کے گُل کھِل چکے ہیں۔امید ہے کہ آپ اپنی شگفتہ تحریروں میںکشمیر کو یادرکھیںگی۔ اللہ حا فظ!
مخلص
محمدفاروق رحمانی
کنو نیر
کل جما عتی حریت کانفرنس آزاد کشمیر

Categories: Uncategorized
  1. No comments yet.
  1. No trackbacks yet.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: