Archive

Archive for May 26, 2011

کشمیر پر بیک چینل کا سراب

May 26, 2011 Leave a comment

[Read in PDF Format]:Kashmir_Par_Back_Channel_Ka_Sarab
کشمیر پر بیک چینل کا سراب 
از: محمد فاروق رحمانی
طاقت کا اندھا دھند استعمال درندوں، پرندوں، رینگنے والوں اور ڈنک مارنے والوں کی فطرت کا خاصہ ہے لیکن انسان بھی شعوری یا غیر شعوری طور پر جس کی لاٹھی اسی کی بھینس کے مقولے پر عمل کرتے ہیں حالانکہ انسان کو اشرف المخلوقات قرار دیا گیا تھا اور فرشتوں نے اللہ تعالی ٰ کے حکم سے آدم کے آ گے سجدہ بجا لایا تھا۔دنیا کے عظیم مفکروں ، جن میں علامہ اقبالؒ اور شیکسپیئر بھی شامل ہیں، انسان کے شرف و وقار اور اس کے ذہن رسا کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ اقبالؒ یہ کہہ کر حیرت میں ڈالتے ہیں کہ
عروج آدم خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں
کہ یہ ٹوٹا ہوا تارا مہ کامل نہ بن جائے
درندوں کی دنیا میں کوئی اخلاقی ضابطہ نہیں ہے۔ وہ ایک خاص جبلت کے تحت اپنی بقا کے لیے سرگرمیاں جاری رکھتے ہیں۔ ہم جب اپنی دنیا میں انسانوں کی مار دھاڑ کا موازنہ کرتے ہیں تو اس کو جنگل کا قانون قرار دیکر ظلم کی انتہا دوسروں پر واضح کرتے ہیں لیکن انسانی بستیوں میںوحشیوں کا کردارکون انجام دیتا ہے؟وہ کوئی بے زبان درندہ یا زہریلا سانپ نہیں ہوتا، بلکہ کوئی طاقت ور انسان یا ملک ،جو طاقت کے بل بوتے پر چھینا جھپٹی کرتا ہے۔ طاقت ور گروہوں اور ملکوںکی اسی درندگی کی وجہ سے انسانی دنیا ہمیشہ سے ہی غیر محفوظ رہی ہے، کمزور قومیں اور انسان لُہولُہان ہوئے اور وہ خوف ، بھوک ، افلاس اور بیماری میں جان دیتے رہے۔انسان کو ہمیشہ اسکندر، چنگیز اور ہٹلر سے ہی خطرہ نہیں تھا، بلکہ اسے اپنے من کے آمر یا جمہوریت کی قبا اوڑھے ہوئے طاقت ور لوگوں سے بھی خوف نظر آیا ہے۔ اس قسم کے حکمران ، ڈکٹیٹر اور سیاست دان آج بھی عالمی منظر نامے پر نظر آتے ہیں جن کی وجہ سے انسانیت کی قبا تار تار ہے اورحل طلب انسانی مسائل کی Read more…