Home > Articles > کشمیر پر بیک چینل کا سراب

کشمیر پر بیک چینل کا سراب

[Read in PDF Format]:Kashmir_Par_Back_Channel_Ka_Sarab
کشمیر پر بیک چینل کا سراب 
از: محمد فاروق رحمانی
طاقت کا اندھا دھند استعمال درندوں، پرندوں، رینگنے والوں اور ڈنک مارنے والوں کی فطرت کا خاصہ ہے لیکن انسان بھی شعوری یا غیر شعوری طور پر جس کی لاٹھی اسی کی بھینس کے مقولے پر عمل کرتے ہیں حالانکہ انسان کو اشرف المخلوقات قرار دیا گیا تھا اور فرشتوں نے اللہ تعالی ٰ کے حکم سے آدم کے آ گے سجدہ بجا لایا تھا۔دنیا کے عظیم مفکروں ، جن میں علامہ اقبالؒ اور شیکسپیئر بھی شامل ہیں، انسان کے شرف و وقار اور اس کے ذہن رسا کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ اقبالؒ یہ کہہ کر حیرت میں ڈالتے ہیں کہ
عروج آدم خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں
کہ یہ ٹوٹا ہوا تارا مہ کامل نہ بن جائے
درندوں کی دنیا میں کوئی اخلاقی ضابطہ نہیں ہے۔ وہ ایک خاص جبلت کے تحت اپنی بقا کے لیے سرگرمیاں جاری رکھتے ہیں۔ ہم جب اپنی دنیا میں انسانوں کی مار دھاڑ کا موازنہ کرتے ہیں تو اس کو جنگل کا قانون قرار دیکر ظلم کی انتہا دوسروں پر واضح کرتے ہیں لیکن انسانی بستیوں میںوحشیوں کا کردارکون انجام دیتا ہے؟وہ کوئی بے زبان درندہ یا زہریلا سانپ نہیں ہوتا، بلکہ کوئی طاقت ور انسان یا ملک ،جو طاقت کے بل بوتے پر چھینا جھپٹی کرتا ہے۔ طاقت ور گروہوں اور ملکوںکی اسی درندگی کی وجہ سے انسانی دنیا ہمیشہ سے ہی غیر محفوظ رہی ہے، کمزور قومیں اور انسان لُہولُہان ہوئے اور وہ خوف ، بھوک ، افلاس اور بیماری میں جان دیتے رہے۔انسان کو ہمیشہ اسکندر، چنگیز اور ہٹلر سے ہی خطرہ نہیں تھا، بلکہ اسے اپنے من کے آمر یا جمہوریت کی قبا اوڑھے ہوئے طاقت ور لوگوں سے بھی خوف نظر آیا ہے۔ اس قسم کے حکمران ، ڈکٹیٹر اور سیاست دان آج بھی عالمی منظر نامے پر نظر آتے ہیں جن کی وجہ سے انسانیت کی قبا تار تار ہے اورحل طلب انسانی مسائل کی فائلیں گردو غبار کے انبار سے بوسیدہ ہو چکی ہیں۔
یہاں دراصل موضوع کا تعلق مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے استعمال کیے جانے والے بیک یا سیکرٹ چینل سے ہے۔یہ دراصل دنیا کی کمزور اور محکوم قوموں کو ٹرخانے کا ایک آسان ذریعہ ہے، جس کے فیصلوں کے انتظار میں کشمیریوں کی کئی نسلیں راہی ملک عدم بھی ہو گئیں۔ پھر بھی کشمیر کا مسئلہ حل نہ ہوا اور کشمیریوں کو سکھ چین بھی نصیب نہ ہوا۔ کشمیریوں کے ساتھ یہ عالمی شطرنج بازی آج بھی جاری ہے۔ کیوں ؟ اس لیے کہ دنیا کے منصفوں کے سامنے مسائل اقوام کا تصفیہ کرانے کے لیے متصادم اور دوہرے معیارات ہیں۔ طاقت ور ریاستیں اپنے مسائل کو حل کرنے اور مفادات کو حاصل کرنے کے لیے طاقت کا بے محابااور بے تحاشا استعمال کرتی ہیں جبکہ محکوم قوموں کے لیے انہوں نے سیکرٹ چینل کا ہتھکنڈا اِختراع کیا ہے۔متحارب ریاستیں براہ راست مذاکرات بھی کرتی ہیں اور خفیہ مذاکرات کی راہنمائی بھی کرتی ہیں لیکن مظلوم اور محکوم قوم کو ایک لازمی فریق کی حیثیت سے مذاکرات کی کرسی پر کبھی نہیں بٹھایا جاتا۔جموں و کشمیر کی آزادی کی تحریک بھی اس بنیادی حق سے اب تک محروم چلی آرہی ہے ۔ قرائن سے اندازہ ہو رہا ہے کہ آخر کار کشمیریوںسے بھی کہا جائے گا کہ وہ بھی طاقت اوربیک چینل کے فرزندوں کے فیصلوں پر ہی قناعت کریں۔
1980کی دہائی میں جب جموں وکشمیر میں تحریک آزادی میںنئی روح داخل ہوگئی اور1990میں اس نے اِنتفاضے کی شکل اختیار کی تو مذاکرات میں کشمیری لیڈر شپ کی شمولیت پر بین الاقوامی حمایت کے ساتھ زور دیا جاسکتا تھا،لیکن بھارت پر اس سلسلے میں کوئی دباﺅ نہیں بڑھایا گیا ۔کشمیری ہمیشہ ثانوی حیثیت میں رہے اور انہوں نے سیکنڈ فڈل(Second Fiddle)پر بیٹھنا گوارا کیا۔ یہ ٹھیک ہے کہ ابتداءسے ہی پاکستان کشمیریوں کے قومی حقوق اور حق خود ارادیت کے حق میں زور دار استدلال کرتارہا ، جس سے پاکستان ، کشمیریوں کے بنیادی سیاسی حقوق کے عالمی ترجمان کی حیثیت سے منظر پر چھا گیا اور اس نے کشمیریوں کے دل جیت لیے،جو جموں کے قتل عام اور ڈوگرہ آمریت کے بعد ایک نئے یک جماعتی استبدادی نظام حکومت سے سخت ہراساں اور بے زار تھے۔ دریں اثناءاقوام متحدہ نے کشمیریوں کے مستقبل کو حق خود ارادیت سے وابستہ کر دیا اور بھارت اور پاکستان پر زور دیا کہ وہ یہ سیاسی مسئلہ عالمی ادارے کی نگرانی میں ایک آزاد اور بے ریا رائے شماری کے ذریعے سے طے کریں ۔ اس کے بعد دھیرے دھیرے بھارت کے دل کا بخار بڑھتا ہی گیا اور وہ بین الاقوامی وعدوں کے باوجود ہر اس اقدام پر اتر آیا جس سے کشمیر میں ظلم بڑھتا ہی چلا ۔ اس کے برعکس پاکستان کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کا علمبردار بن گیااور پاکستان اور کشمیریوں کی خواہشات اور مفادات میں قرب پیدا ہوا ۔ جنگ آزادی کے حوالے سے بھارت کے سرکردہ رہنماﺅں کی بھی ایک تاریخ تھی، لیکن جموں و کشمیر کو بزور بندوق اپنے ساتھ رکھنے کی اندھی خواہش لیکر انہوں نے عملی طور پر اس ریاست کے عوام کی جان ، مال اور آبرو کو سر بازار لوٹا ۔اس ظلم و استبداد کا کوئی موازنہ نہیں ہے۔ آج کشمیر کی وجہ سے ہی بھارت اپنی جمہوری روایات کی لاج رکھنے میں بھی ناکام ہو گیا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے رویے اور کردار میں یہ بنیادی فرق ہونے اورپاکستان کی کشمیر نوازی کے باوجودکشمیریوں کا یہ حق بنتا ہے کہ وہ تدبر ، جرت اور پاکستان کے تئیں یک جہتی کے ساتھ مذاکرات میں اپنی جگہ لیں۔اب تک ٹریک ٹو اور بیک چینل کا جو ٹریک ریکارڈ رہا ہے وہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ کشمیر اور پاکستان کے موقف کو کمزور کیا جا رہاہے جس سے پاکستان بھی خسارے میں رہے گا۔پاکستانی اور کشمیری دونوں کو اس بات کا ادراک حاصل کرنا چاہیے۔ گذشتہ چند سالوں کے عجیب و غریب واقعات اور بیانات سے اس پر کچھ روشنی پڑتی ہے۔
2مارچ 2009ءکو اخبار ”دی نیو یارکر “میں وسیع معلومات رکھنے والے وقائع نگارSteve Kolکی ایک رپورٹ زیر عنوان ”بیک چینل“شائع ہوئی تھی جس میں انہوں نے بھارت اور پاکستان کے درمیان ” خفیہ کشمیر مذاکرات“ پر روشنی ڈالی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت کے پاکستان کے صدر اور فوجی سربراہ جنرل پرویز مشرف نے اپنے سینئر ترین فوجی جرنیلوں اور وزارت خارجہ کے دو افسروں کو حکم دیاتھا کہ وہ بھارت کے ساتھ جاری بیک چینل حساس مذاکرات پر تبصرہ کریں۔یاد رہے کہ یہ خفیہ مذاکرات سالہاسال سے بنگکاک،دبئی اورلندن میںپاکستان اوربھارت کے خصوصی نمائندوں کے درمیان جاری رہے تھے۔ بھارت اور پاکستان کے سربراہوں نے ان مذاکرات کاروں کی حوضلہ افزائی جاری رکھی تھی اور مسئلہ کشمیر کا حل تلاش کرنے اور دونوں ملکوں کے تعلقات میں نمایاں بہتری لانے کے لیے Paradigm Shiftکوبڑا ہی اہم قرار دیا تھا۔ مذاکرات میںدو سرکردہ نمائندوں ، پاکستان کے طارق عزیز اور بھارت کے ستیندر لمباش کا کردار بڑا اہم تھا۔بعض سفارتکاروں کی معلومات کے مطابق یہ دونوں نمائندے مسئلہ کشمیر کے حل پر ایک Non Paperمرتب کر چکے تھے، جس کو اگر چہ کسی بھی باہمی سودابازی کی بنیاد بننا تھا، لیکن کسی بھی ناخوشگوار ردعمل کی صورت میں اس سے آسانی کے ساتھ انکار بھی کیا جاسکتا تھا۔ اوائل2007ءتک بقول خورشید قصوری (اس وقت کے وزیر خارجہ پاکستان)”مسئلہ کشمیر کے حل کی کوششیں کرتے ہوئے ہم Semi colonتک پہنچ گئے تھے لیکن یہ سب کچھ صیغہ راز میں تھااور دونوں حکومتیں اپنے اپنے عوام کوایک نئی سودا بازی کے لیے تیار کرنے کے راستے میں کچھ بھی نہ کر پائی تھیں۔“ویسے بھارت کوکیاپڑی تھی کہ وہ اپنی قوم کو کسی بات کے لیے تیار کراتا ؟اس کی توپانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑھائی میں ہے۔ سب کچھ پکے آموں کی طرح اسکی جھولی میں گرنے والا تھالیکن قرآن کا یہ ارشا د ہے کہ ”وہ بھی داﺅ کرتے تھے اور اللہ بھی داﺅ کرتا تھا، اور اللہ سب سے بہترین تدبیر کرنے والا ہے۔“مشرف حکومت میں یہ اقدامات جس فارمولے کے مطابق کیے جا رہے تھے وہ ہو بہوافغانستان سے ملتے جلتے تھے، جب 1990میں سوویت روس افغانستان سے شکست کھاکر نکل گیا تھا،اس وقت امریکہ افغان مجاہدین کو یہ بات منوانے کی کوشش کر رہا تھا کہ وہ روسیوں کے ایجنٹ ڈاکٹر نجیب اللہ کے ساتھ ملکر ایک نئی افغان حکومت تشکیل دیں ۔بالکل اسی طرح پرویز مشرف کے فارمولے پر عمل آوری کے بعد حریت کانفرنس پر بھی دباﺅ ڈالا جاتا کہ وہ سرینگر میں بھارت نواز جماعتوں اور لیڈروں کے ساتھ نئی ریاستی حکومت تشکیل دے۔
سابق صدر پرویز مشرف اورسابق وزیرخارجہ خورشید محمودقصوری نے دوبارہ یہ تجویز پیش کی ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل تلاش کرنے کے لیے بھارت اور پاکستان اسی نکتے سے شروع کریں جس پر یہ سوال رک گیا تھا۔سابق صدر نے16جنوری2011کو لندن میں رائٹرز کو بتایا کہ”کشمیر کے بارے میںوہ روڈ میپ دوبارہ اختیار کرنا چاہیے جو میں نے 2007میں بھارت کے ساتھ تسلیم کیا تھا۔ہم آپس میں ایک معاہدے کے ڈرافٹ کو حتمی شکل دینے والے تھے، اگر چہ اس کے الفاظ اورمعنی میں چند اخٰتلافات تھے۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ ڈیل میں چھ ماہ لگ جاتے، تاہم جہاں تک میرے علم کا تعلق ہے ، ہم تیزی کے ساتھ آگے بڑھ رہے تھے۔“(دی نیشن17جنوری2011)
آئیے اب دیکھیں کہ خورشید محمود قصوری کیاکہتے ہیں؟سابق وزیر خارجہ اس وقت پرویز مشرف کی متحدہ مسلم لیگ پاکستان کے سینئر لیڈر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ” مشرف سرکار میں مسئلہ کشمیر پچاسی فیصد حل کر دیا گیا تھا۔اب موجودہ حکومت کو اپنی کوششیں وہاں سے شروع کرنی چاہئیں جہاں مسلم لیگ ق کی سرکار نے اس کو ادھورا چھوڑا تھا۔موجودہ حکومت کے لیے صرف پندرہ فیصد کام کرنا باقی رہ گیا ہے۔ اس طرح خطے میں پائیدار امن قائم ہو گا“۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے حمید نظامی حال لاہور میں 12اپریل2011کوایک لیکچر دیتے ہوئے کیا، جسکا عنوان ”پاکستان بھارت تعلقات کا تجزیہ“تھا۔ خورشیدقصوری نے بتایا کہ” سابق مشرف سرکار نے کشمیر کے لیے ایک 15 سالہ عبوری سیٹ اپ تجویز کیا تھا، جب کہ نئے اقدامات اس کی روشنی میںاٹھائے جاتے“۔ انہوں نے مزید کہا کہ ”میں نے کشمیر یوں کی خواہشات کے زیادہ سے زیادہ قریب ایک قرار داد کا مسودہ مرتب کرنے کے لیے فریقین کے ساتھ کئی خفیہ میٹینگیں کیں تاکہ مسئلے کے بارے میں بنیادی معلومات حاصل ہو جائیں۔ میں نے ہر مرحلے پر کشمیری لیڈروں کو اعتماد میں لیا تاکہ انہیں ایک ایسی گرینڈ میٹنگ میں شرکت کرنے کے لیے آمادہ کیا جائے ، جس میں مسئلہ کشمیر پر ایک ڈرافٹ ریزولیشن پر سے پردہ اٹھایا جاسکے۔ “انہوں نے یہ اعتراف کیاکہ”کشمیری عوام بھارتی افواج کا انخلا چاہتے ہیں۔بھارت نے ہم سے کہا کہ اس صورت میں پاکستان کو اپنی افواج کا انخلاکرناہو گا۔ جس پر ہم نے بھارت کو بتادیا تھا کہ اگر چہ ہم آزاد کشمیرکے معاملات میں دخل نہیں دیتے ،پھر بھی ہم نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ وسیع تر مفاد میں ہم بھی بعض علاقوں سے اپنی افواج کو باہر نکالیں گے ۔“انہوں نے ایک اور اہم بات کا انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ ”مستقبل میں جنگیںپانی کے مسئلے پر لڑی جائیں گی لیکن سابق مشرف سرکار نے کشمیر کے مسوّدہ قراردادمیںبھارت اور پاکستان کے لیے پانی کا انتظام و انصرام کشمیریوں پر چھوڑ دیا تھا۔“( دی نیشن13اپریل2011اسلام آباد)
جہاں تک سابق صدر اور سابق وزیر خارجہ کے ان بیانات کا تعلق ہے کہ انہوں نے ان نازک تجاویز اور ایک نئی قرار داد پر کشمیری لیڈروں کو اعتماد میںلانے کے لئے ان کے ساتھ مٹینگیں کی تھیں، ہماری نگاہ میں خلاف حقائق ہے۔بحیثیت کل جماعتی حریت کانفرنس ہمارے ساتھ سابق صدر کے دفاتر یا دفتر خارجہ میں وقتاً فوقتاً جتنی میٹنگیںہوئیں انہوں نے ہمارے سامنے صرف اس بات پر زور دیا کہ ابھی تک پاکستان بات چیت کے ابتدائی مرحلے میں ہے کسی خاص قرار داد پر کوئی بات طے نہیں ہوئی ہے کیونکہ بھارت انتہائی ہٹ دھرمی پر ہے۔کشمیری رہنماﺅںکے ساتھ وہ اپنے فارمولا کو زیر بحث ضرور لاتے تھے لیکن کبھی کوئی حتمی عندیہ نہیں دیتے تھے۔صدر مشرف اور خورشید قصوری کے بعد انعام اللہ خان اور شاہ محمود قریشی بھی وزیر خارجہ بنے لیکن انہوں نے بھی ہمیشہ ہمارے ساتھ اپنی مٹینگوں میں یہی کہا کہ بھارت کے ساتھ مذاکرات پر آگے بڑھنے اور کشمیر پر کوئی فیصلہ کن مرحلہ دریافت ہونے کا کوئی ریکارڈ ہماری آنکھوں کے سامنے نہیں ہے۔ ہم آج بھی صرف کوششیں کر رہے ہیں یقین دہانیاں نہیں ملی ہیں۔ان مشاہدات اور واقعات کو سامنے رکھتے ہوئے ہم حیران ہیں کہ اقتدار کھونے کے کئی سال بعد سابق صدر یا سابق وزیر خارجہ یہ کس خوشی میں کہہ رہے ہیں کہ مسئلہ کشمیر پر بات چیت آگے بڑھاتے ہوئے ہم سیمی کولن تک پہنچ گئے تھے اور اب صرف پانی کا مسئلہ رہ جاتا، یہ مسئلہ کشمیریوں کے ا ختیار میں دیا جاتا ۔ گویا کشمیر مکمل خود مختاری کی دہلیز پر پہنچ چکا تھا۔اگر سابق حکمرانوں کی یہ ساری باتیں راست گوئی پر مبنی ہیں تو آج اس کے حصول میں کونسا پتھر حائل ہے۔ بھارت آج بھی اپنے الحاق کے دعوے پر کیوں جما ہوا ہے اور کشمیری اپنے بنیادی انسانی حقوق کے لیے کیوں ترس رہے ہیں ؟ کیوں ان سے یہ مطالبہ کیا جارہا ہے کہ وہ واپس اپنے گھروں کو لوٹیں گے۔ تو انہیں حکومت ہند کی سرینڈر پالیسی پر عمل کرنا ہوگا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ©©”ہمارے سامنے سر تسلیم خم کرلو اور اپنے پرانے ”گناہوں“ کا کفارہ ادا کر لو“۔
حال ہی میں پاکستان اور بھارت نے مسئلہ کشمیر اور دیگر مسائل پر مذاکرات کے ٹوٹے ہوئے دھاگے کو جوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔وہ کوئی نئی بنیاد نہیں ڈالیں گے یا کسی نئی ڈگر پر نہیں چلیں گے، کیونکہ سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف جس نظریے اور طریقہ کار کے قائل ہو گئے تھے، اس سے کوئی مختلف راستہ تلاش کرنا پاکستان کی موجودہ قیادت کے بس کا روگ نہیں ۔انہیں ایسا کوئی ارمان بھی نہیں ۔ ہند اور پاکستان کی حکومتوں کا انداز فکر و عمل اس بات کا غماز ہے کہ ان دونوں ملکوں کو بات چیت کی وہی ڈور پکڑ لینی چاہیے جو مشرف سرکار کے اقتدار کا آفتاب غروب ہونے کے بعد ڈھیلی ہو گئی تھی۔ آخر وہ ہے کیا؟
اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان سرکاری یا غیر سرکاری سطح پر بیک چینل مذاکرات وقتاً فوقتاً ہوتے رہے ہیں، لیکن یکم اکتوبر2001کو جموں وکشمیر کی اسمبلی پر سرینگر میں مسلح افراد کے ایک خونریز حملے اور 13دسمبر 2001کو بھارتی پارلیمنٹ پر ایک اور خود کش حملے سے پاکستان پر بھارت کا دباﺅ بڑھ گیا ۔ اس کے بعد مشرف سرکار نے یہ محسوس کیا کہ دونوں ممالک کو کشمیر کے بارے میں اپنے موقف میں لچک پیدا کرنی چائیے۔بھارت کیا لچک پیدا کرتا لیکن پاکستان نے اس سلسلے میں ایک خٰفیہ سریع الحرکت ٹیم تشکیل دی جسکا کسی کو تعارف اور علم نہیں تھا۔
9/11کی ٹریجڈی نے پاکستان کی صورت حال کو اور بھی زیادہ نازک بنا دیا۔اب تو ہر پاکستانی بلکہ ہر مسلمان پر بھارتی اور مغربی نزلہ گرنے کا وقت آگیا تھا۔ امریکہ کو افغانستان ، پاکستان اور مغربی ایشیا ءمیں اپنے معاشی اور فوجی مفادات کے حصول کے لیے اس سے بہتر موقع اور کب ملتا۔بھارت کے لیے یہ اور بھی سنہری موقع تھا۔ پاکستان کے لیے یہ لازم ٹھہرا کہ وہ اپنے خطرات کو پس پشت ڈالکر مغرب اور امریکہ کے مفادات کا خیال رکھے اور ہندوستان کے ساتھ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے کام کرے۔
25اکتوبر2004 ءکوسابق صدر مشرف نے ایک افطار پارٹی میں مسئلہ کشمیر حل کرنے کے لیے اپنے چار نکاتی فارمولے کا اعلان کیا اور عوام سے کہا کہ وہ اس پر بحث ومباحثہ کریں۔ انہوں نے حق خود ارادیت کی حمایت سے دستبرداری کا اعلان تو نہیں کیا لیکن اس کے بعد حکومت کی طرف سے ایسے اقدامات اٹھائے گئے جن سے پاکستان اور کشمیری عوام کی اکثریت پر سکتہ طاری ہو گیا۔اس سے پہلے بھارت نے کمال آسودگی کے ساتھ جموں و کشمیر کی لائن آف کنٹرول کی باڑ بندی کی، جس سے حریت پسندوں اور ریاست کوایک اکائی کے طور پرمتنازعہ ماننے والوں کی تشویش میں اضافہ ہو گیا۔جنرل پرویز مشرف نے حریت کانفرنس کے ساتھ ایک میٹنگ میں اس سوال کو ٹالتے ہوئے کہاتھا کہ یہ باڈ تو ایک قینچی سے کاٹی جاسکتی ہے۔ وزارت خارجہ نے بھی بھارت کے اس غیر قانونی اقدام کے خلاف اپنا ردعمل نہیں دیا۔ اختلافات کرنے والوں کی آواز نقار خانے میں طوطی کی آواز تھی۔ آزادکشمیر (بیس کیمپ) کے حکمران اور سیاست دان بادشاہ سے بھی زیادہ وفادار نکلے۔اسی سلسلے کی ایک کڑی کی شکل میں 2005اور2007میں نئی دہلی میں جموں کے پروفیسر بھیم سنگھ کی دعوت پر آر پارکشمیری لیڈروں کی ایک Heart to Heart Intra Conferenceمنعقد کی گئی جس میں کشمیری حریت پسند لیڈر تو شامل نہیں ہوئے لیکن آزاد کشمیر سے سرکردہ سیاست دان بشمول سردار عبدالقیوم خان شریک ہو گئے۔ پروفیسر بھیم سنگھ الحاق ہند کے کٹر علمبردار ہیں اور حالیہ ڈوگرہ سرٹیفیکٹ کے اجراکو جائز قرار دیتے ہیں۔انہوں نے یکم مئی2011کو تیسری انٹرا ہاٹ ٹو ہاٹ کانفرنس دلی میں بلائی تھی جومنعقد نہ سکی تاہم اس میں بھی شرکت کرنے کے لیے سرینگر سے نہیں بلکہ آزاد کشمیر سے مقتدر لیڈر تیار بیٹھے تھے۔حیرت ہے کہ اگر سرینگر میں ان سوالیہ سرگرمیوں میں شرکت پر کسی کو اعتماد نہیں ہے تو آزاد کشمیر میں یہ اعتماد کس خوشی میں ہے۔
سابق صدر مشرف نے اپنے نظریے کو آگے بڑھانے کے لیے خود بھی کل جماعتی حریت کانفرنس کے لیڈروں سے ملاقاتیںکیں اور آخر کار میر واعظ گروپ کو دوبارہ گیلانی گروپ کے بدلے سرکاری سطح پر تسلیم کر لیا گیا۔بعد میں میر واعظ گروپ کو چکوٹھی کے راستے سے پاکستان بلایا گیا۔
سابق صدر عوامی سطح پر نئی کشمیر پالیسی کی تشہیر کرنے میں بڑے محتاط تھے لیکن سرکاری اور نیم سرکاری اداروں اور رائے عامہ بنانے والوں کو اس بات کی کھلی چھوٹ تھی کہ فضا کس چیز کے حق میں سازگار بنانی ہے۔اس کا اندازہ اس ایک بات سے ہو گاکہ ایک بار جی ایچ کیو کی ایک میٹنگ میں جس میںصدر مشرف اور انکے قریبی فوجی اور سیاسی صلح کار اور آئی ایس آئی کے سربراہ موجود تھے،ایک کشمیری لیڈر نے کشمیر میں بھارت کے مظالم کا سوال اٹھایا ، جس پر صدر مشرف نے انہیں فوراً کہا کہ ظلم کی باتیں نہ کہیں۔اسی میٹنگ میں اس وقت کے وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری بھی موجود تھے انہوں نے ایل او سی کے آر پار تجارت کرنے اور آپس میں شادیاں رچانے کی تجویز بھی پیش کی لیکن ساتھ ہی بیٹھے ہوئے کابینہ کے اس وقت کے وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد نے کہا ”قصوری صاحب ابھی اتنی بڑی چھلانگ نہ لگائیں، معاملہ اتنا آسان نہیں“۔
مسئلہ کشمیر حل کرنے کے اسی مصنوعی شور و غل میں آزاد کشمیر اور پاکستان میں ان کشمیری سیاست کاروں کی آمد کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا جو پاکستان اور تحریک آزادی کے کٹر مخالف ہیں۔خاص طور پر عمر عبداللہ ۔ان صاحب کو سابق صدر نے اپنے دربار میں خصوصی ملاقات سے نوازا اور یہ فتویٰ صادر کیا کہ عمر عبداللہ اور مفتی محبوبہ کشمیر کی جوان سال لیڈر شپ کا نام ہے۔پرویزمشرف کے بعد صدر آصف علی زرداری نے کشمیر کی ایک اور بھارتی لیڈر محبوبہ مفتی کو ملاقات کا شرف بخشااور وہ انکے ساتھ پریس والوں کے سامنے کھڑے ہو گئے۔
یہ حسن اتفاق تھا کہ سابق صدر پرویز مشرف کے عہد حکومت میں جب آئین اور قانون کی حکمرانی قائم کرنے کے
لیے پاکستانی عدالتوں کے وکلا ءنے انگڑائی لی اور آئین کی حکمرانی کے لیے ایک تاریخ ساز تحریک شروع ہوئی اور اس کے علاوہ ملک کو کئی بڑے صدمے پیش آئے تو بیک چینل اور ٹریک ٹو ڈپلومیسی بھی متاثر ہوئی۔
آئیے یہاں پہنچ کر ہم 2004میں پھر واپس جائیں اور اس چار نکاتی فارمولے کو ایک بار پھر اپنی آنکھوں کے سامنے لائیں، جو بظاہر سابق صدر مشرف نے اختراع کیا تھا لیکن اس کوجس طرح بعض عناصر اور بڑی طاقتوں نے ہاتھوں ہاتھ لیا اور بھارت نے اس سے پیدا شدہ ماحول پر جس طرح ب©غلیں بجائیں، اسی کو اب دوسرے پیرائے میں پیش کر کے بازار حصص میںلایا جارہا ہے۔ یہ چونکادینے والاماحول ہے۔سابق صدر پرویز مشرف نے اپنا فارمولا یوں پیش کیا تھا:
۱۔ جموں و کشمیر کو سات ضلعی خطوں ڈسٹرکٹ ریجنز میں تقسیم کر دیا جائے
۲۔ ان خطوں کی نشاندہی کی جائے جن میں Process of demiliterizationشروع کیا جائے۔مثال کے طور پر کپواڑہ ، بارہمولہ اور سرینگر۔
۳۔ جموں وکشمیرمیں سیلف گورننس ہو۔
۴۔ بھارت اور پاکستان ، ریاست کا مشترکہ انتظام (joint Management)سنبھالنے پر اتفاق کریں۔
اپنے ابتدائی خطاب میں انہوں نے آزاد کشمیر اور گلگت اور بلتستان کے بارے میں کچھ نہیں بتایا کہ آیا ان علاقوں پر سیلف گورننس کا اطلاق ہو گا لیکن یکم اگست2006کو انہوں نے واضح کر دیا کہ اس کا اطلاق ایل اوسی کے دونوں طرف ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست جموں و کشمیر پر شمالی ائر لینڈ کے institutional arrangementsسے کام لیا جائے۔حالانکہ شمالی ائر لینڈ کے کیتھولک عیسائی جو ائر لینڈ میں شامل ہونا چاہتے ہیں، اقلیت میں ہیں، جبکہ ریاست جموں و کشمیر میں مسلمانوں کی بہت بڑی اکثریت ہے۔
مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لیے سابق صدر کا چار نکاتی فارمولا پاکستان کی تاریخ کا ایک بہت بڑا واقعہ ہے ۔ یہ حق خود ارادیت کی تحریک کے لیے کسی صدمے سے کم نہیں تھا کیونکہ اس کو مسلمہ قومی نظریے اور بین الاقوامی قراردادوں کو پس پشت ڈال کر پیش کیا گیا تھا۔ اس میں کشمیریوں کے مفادات کی نہیں بلکہ مغربی اور مشرقی حکمرانوں کے مفادات کی عکاسی ہو رہی تھی ۔ بھارت نے اپنے مخصوص انداز میں اس فارمولے پر تبصرہ کیا۔پاکستان اگر اپنے موقف میں ترمیم کرتا ہے توضروری نہیں کہ بھارت بھی ایسا ہی کرے۔بھارت کے وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ نے24مارچ2004 کو اپنے خیالات کا اظہاریوںکیا:
۱ سرحدوں کو دوبارہ نہیں کھینچا جاسکتالیکن ان کو غیر موثر Irrelevent بنایاجاسکتا ہے
۲ ایل او سی کے دونوں طرف رہنے والوں کو آر پار نقل و حرکت اور تجارت کی آزادی دی جانی چاہیے
۳ اس طرح ایک ایسی صورت حال کا تصور سامنے آسکتا ہے جس میں بھارت اور پاکستان کی عملی حوصلہ افزائی سے Coperative and Consultative mechanism پر کام ہو گا تاکہ باہمی تعاون کے فوائد خطے کی سماجی اور معاشی ترقی کے مسائل حل کرنے کے لیے استعمال میں لائے جائیں۔ جنرل (ر) پرویز مشرف نے ان نکات کا بھی خیر مقدم کیا ، حالانکہ یہ خالص تجارتی نکات ہیں اور وہ بھی مسئلہ کشمیر کے لحاظ سے بھونڈے قسم کے ۔ سیاسی اغراض و مقاصد کے پردوں میں چھپے ان تجارتی نکات میں سیاسی مسئلے کے حل کا کوئی اشارہ نہیں ملتا۔
خطوں کی نشاندہی ، سیلف گورننس ، جوائنٹ منیجمنٹ ، غیر موثر ایل او سی اور آر پار تجارتی اور سماجی تعلقات کے فروغ کی غوغا آرائی مشرف سرکار میں نکتہ عروج پر پہنچ چکے تھی یہاں تک کہ محب وطن اور دور بین پاکستانی اور کشمیری مایوس اور انگشت بدنداں تھے۔۔تاہم عدم سلامتی ، غیر یقینیت اور سیاسی دھند میں ایسے اصحاب فکر بھی تھے جو یہ کہتے تھے کہ ایسے حل سے بہتر، مسئلے کا جوں کا توں رہنا ہی بہتر ہے۔ایک میٹنگ میں مسلم لیگ کے ایک کہنہ مشق لیڈر کبیر علی واسطی نے مسئلہ کشمیر کے چار نکاتی فارمولے پر جو رائے دی اسکا مفہوم یہ ہے۔Unresolved Kashmir is better than a bad resolution
جموںو کشمیر کے دیرینہ سوال اور تحریک آزادی کی غلط تاویلیں نکالنے اور اس کے حل کو غیر قدرتی بنانے سے کشمیری جن مصائب اور مشکلات میں مبتلا ہیںوہ تو ہیں لیکن اس صورت حال میں پاکستان کے لیے بھی کچھ کم آزمائشی نہیں ہیں۔ بھارت کو بھی کشمیر میں پائیدار چین حاصل نہیں ہو گا۔ اس سے بھی خطے کی صورت حال پکار پکار کر کہ رہی ہے کہ وہ ریاستی عوام کے سیاسی عزم اور تاریخ سے کچھ سبق حاصل کرے۔ وہ یہ جان لے کہ فوجی جبر و استبداد سے تاریخ کا رخ
موڑا نہیں جا سکتا۔یہ بات روز روشن کی طرح سب پر عیاں ہو چکی ہے کہ کشمیری قوم اب اپنے سیاسی عزم اور تدبر میں گذشتہ عشروں سے بہت آگے نکل چکی ہے۔ اس قوم کو سبز باغ دکھا کر یاسخت تر پابندیوں میں جکڑ کر خاموش نہیں کیا جاسکتا۔عوام پر کوئی عیارانہ حل ٹھونس کر خطہ نئی مشکلات کی آماجگاہ بن سکتا ہے ۔ اس لیے ضروری ہے کہ بھارت ، پاکستان اور ان کے دوست مذاکرات کو شفاف رکھیںاور کشمیریوں کو کسی زبانی یا تحریری معاہدے میں بند کرنے کی کوشش نہ کریں جو کسی کیمپ ڈیوڈ یا اوسلو سے مماثلت رکھتا ہو ۔کشمیری عوام کو معروف اور مسلمہ جمہوری طریقوں سے اعتماد میں لاکر اس مسئلے کا ایک دیر پا جمہوری حل نکالا جاسکتا ہے۔

نوٹ:مقالہ نگارجموں و کشمیر پیپلزفریڈم لیگ کے چیئرمین اور کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد کشمیر کے سابق کنوینرہیں۔
26-May-2011

  1. No comments yet.
  1. No trackbacks yet.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: