Home > Statements > شوپیاں میں بے گناہ نوجوان کا قتل رمضان المبارک میں کشمیریوں کے لیے دوسرا صدمہ ہے۔۔ فاروق رحمانی

شوپیاں میں بے گناہ نوجوان کا قتل رمضان المبارک میں کشمیریوں کے لیے دوسرا صدمہ ہے۔۔ فاروق رحمانی

 
اسلام آباد02اگست|2012
جموں و کشمیر پیپلز فریڈم لیگ کے چیئرمین محمد فاروق رحمانی نے بھارتی سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے ہاتھوں شوپیاں میں بے گناہ کشمیری نوجوان عاقب بٹ کے قتل کو بانڈی پورہ میں ہلال احمد ڈار کے قتل کے بعد رمضان المبارک کے متبرک مہینے میں نہتے کشمیریوں کے لیے ایک اور صدمہ قرار دیا۔ 
محمد فاروق رحمانی ایک بیان میں نوجوان کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی فورسز کو کالے قانون آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ کے تحت کشمیریوں کے قتل اور انہیں جبری طور پر لاپتہ کرنے کی کھلی چھٹی حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فوج، پولیس ، حکومت کی سرپرستی میں کام کرنے والے بندوق برداروں اور جرائم پیشہ عناصر کے درمیان ایک ناپاک گٹھ جوڑ ہے اور وہ رقوم ، انعامات اور ترقیوں کے حصول کے لیے بے گناہ لوگوں کو قتل کر کے ان پرعسکریت پسند ہونے کا الزام لگاتے ہیں۔ 
انہوں نے کہا کہ جب تک کالے قوانین کو منسوخ اور فورسز اور حکومتی سرپرستی میں کام کرنے والے بندوق برداروں کے ناپاک گٹھ جوڑ کو ختم نہیں کیا جاتا بے گناہ لوگوں کے قتل کے المناک واقعات رونما ہوتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ نام نہاد امن عمل محض دنیا کو دھوکہ دینے کے لیے شروع کیا گیا ہے۔ 
محمد فاروق رحمانی نے کشمیر کی سول سوسائٹی ، وکلا اور دانشوروں پر زور دیا کہ وہ بے گناہ لوگوں کے قتل عام کے خلاف پر امن جد وجہد شروع کریں۔ انہوں نے حریت رہنما مسرت عالم بٹ کی دوبارہ گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے جیلوں میں غیر قانونی طور پر نظر بند تمام حریت رہنماؤں اور کارکنوں کی عید الفطر سے قبل فو ری رہائی کا مطالبہ کیا۔
  1. No comments yet.
  1. No trackbacks yet.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: