Archive

Archive for October, 2014

عمران خا ن اور طاہر القادری کی ایجی ٹیشن پرایک نظر

October 24, 2014 Leave a comment

تحریر:محمد فاروق رحمانی
اس وقت جب کہ پاکستان مختلف النّوع خطرات کے محاصرے میں ہے :مشرقی سرحد کے ساتھ ساتھ جموں وکشمیر کی کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر بھارت کی طرف سے سنگین خطرات ہیں اور گولہ باری جاری ہے، مغربی سرحد پر افغانستان کے حملے اور در اندازی کے واقعات پیش آرہے ہیں ، داخلی سطح پر بلوچستان اور کراچی میں خون ریزی کاسلسلہ جاری ہے، شمالی وزیر ستان میں فوج دہشت گردی کو ختم کرنے میں مصروف ہے اور اس سے پیدا شدہ لاکھوں بے خانماں اور اُجڑے ہوئے لوگوں کے مسائل حل کرنے کے سوالات ہیں ۔ ان کے علاوہ قیامت خیز سیلاب کی تباہی کے بعد مصائب زدہ خاندانوں کی ازسرنوآباد کاری بھی کچھ کم اہمیت کی حامل نہیں ہے۔ اس صورت حال میں اسلام آباد میں حکومت کے سامنے پاکستان کی تاریخ کا ایک ایسا سیاسی بحران پیدا ہو گیا جس کی کوئی نظیر نہیں ہے۔ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے استعفیٰ کا مطالبہ ۔ پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا دینے والوں اور انکے لیڈروں کا مطالبہ ہے کہ حکومت گھر چلی جائے ، پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیاں تحلیل ہوں ، انتخابی اصلاحات کا اعلان کیا جائے اوراس کے علاوہ سترہ جون 2014کے سانحہ لاہور میں ملوث عناصر کوبشمول وزیر اعلیٰ شہباز شریف قرار واقعی سزا دی جائے ۔ ان اغراض کے حصول کے لیے 13اگست کو دوپرجوش ریلیوں نے لاہور سے اسلام آباد کا رخت سفر باندھا ۔ یہ دونوں الگ الگ ریلیاں19اگست کو صبح سویرے اسلام آباد میں داخل ہو گئیں۔ ہر چند کہ حکومت نے ان کو اسلام آباد کے ریڈ زون میں داخل ہونے سے منع کیا تھا اور ان کو روکنے کے لیے ہزاروں کی تعداد میں پولیس اور نیم فوجی دستے اسلام آباد کی حفاظت کے لیے تعینات کیے تھے لیکن مشتعل مظاہرین اور ان کے لیڈروں نے راولپنڈی پہنچنے کے بعد اسلام آباد پر یلغار کی اور سینکڑوں کنٹینروں کو ہٹا کر ریڈ لائن عبور کی ۔ اس طرح پنجاب سے لانگ مارچ کرنے کے بعد یہ قافلے پارلیمنٹ کے سامنے احتجاجی دھرنا دیکر بیٹھ گئے۔ چنانچہ پندرہ اگست سے شاہراہ دستور اور ڈی چوک پر پارلیمنٹ کے سامنے دو بڑے بڑے کنٹینروں کے پلیٹ فارموں پر دو پاکستانی تنظیموں کے سربراہ اپنے حامیوں اور پیرو کاروں کے جلو میں شعلہ بیانی کے جوہر دکھا تے رہے۔ وزارت داخلہ کے بیانات کے مطابق اسلام آباد کی وفاقی پولیس، صوبوں کی پولیس فورس ، آزاد کشمیر پولیس ، ایف سی اور نیم فوجی دستے چالیس ہزار افراد پر مشتمل ان دو قافلوں کی نگرانی اور حفاظت کے فرائض انجام دیتے رہے ۔ پاکستان آرمی کے جوانوں کو پارلیمنٹ اور دیگر اہم ریاستی اداروں کی حفاظت پر معمور کیا گیاتھا۔ Read more…