Home > Articles > عمران خا ن اور طاہر القادری کی ایجی ٹیشن پرایک نظر

عمران خا ن اور طاہر القادری کی ایجی ٹیشن پرایک نظر

October 24, 2014 Leave a comment Go to comments

تحریر:محمد فاروق رحمانی
اس وقت جب کہ پاکستان مختلف النّوع خطرات کے محاصرے میں ہے :مشرقی سرحد کے ساتھ ساتھ جموں وکشمیر کی کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر بھارت کی طرف سے سنگین خطرات ہیں اور گولہ باری جاری ہے، مغربی سرحد پر افغانستان کے حملے اور در اندازی کے واقعات پیش آرہے ہیں ، داخلی سطح پر بلوچستان اور کراچی میں خون ریزی کاسلسلہ جاری ہے، شمالی وزیر ستان میں فوج دہشت گردی کو ختم کرنے میں مصروف ہے اور اس سے پیدا شدہ لاکھوں بے خانماں اور اُجڑے ہوئے لوگوں کے مسائل حل کرنے کے سوالات ہیں ۔ ان کے علاوہ قیامت خیز سیلاب کی تباہی کے بعد مصائب زدہ خاندانوں کی ازسرنوآباد کاری بھی کچھ کم اہمیت کی حامل نہیں ہے۔ اس صورت حال میں اسلام آباد میں حکومت کے سامنے پاکستان کی تاریخ کا ایک ایسا سیاسی بحران پیدا ہو گیا جس کی کوئی نظیر نہیں ہے۔ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے استعفیٰ کا مطالبہ ۔ پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا دینے والوں اور انکے لیڈروں کا مطالبہ ہے کہ حکومت گھر چلی جائے ، پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیاں تحلیل ہوں ، انتخابی اصلاحات کا اعلان کیا جائے اوراس کے علاوہ سترہ جون 2014کے سانحہ لاہور میں ملوث عناصر کوبشمول وزیر اعلیٰ شہباز شریف قرار واقعی سزا دی جائے ۔ ان اغراض کے حصول کے لیے 13اگست کو دوپرجوش ریلیوں نے لاہور سے اسلام آباد کا رخت سفر باندھا ۔ یہ دونوں الگ الگ ریلیاں19اگست کو صبح سویرے اسلام آباد میں داخل ہو گئیں۔ ہر چند کہ حکومت نے ان کو اسلام آباد کے ریڈ زون میں داخل ہونے سے منع کیا تھا اور ان کو روکنے کے لیے ہزاروں کی تعداد میں پولیس اور نیم فوجی دستے اسلام آباد کی حفاظت کے لیے تعینات کیے تھے لیکن مشتعل مظاہرین اور ان کے لیڈروں نے راولپنڈی پہنچنے کے بعد اسلام آباد پر یلغار کی اور سینکڑوں کنٹینروں کو ہٹا کر ریڈ لائن عبور کی ۔ اس طرح پنجاب سے لانگ مارچ کرنے کے بعد یہ قافلے پارلیمنٹ کے سامنے احتجاجی دھرنا دیکر بیٹھ گئے۔ چنانچہ پندرہ اگست سے شاہراہ دستور اور ڈی چوک پر پارلیمنٹ کے سامنے دو بڑے بڑے کنٹینروں کے پلیٹ فارموں پر دو پاکستانی تنظیموں کے سربراہ اپنے حامیوں اور پیرو کاروں کے جلو میں شعلہ بیانی کے جوہر دکھا تے رہے۔ وزارت داخلہ کے بیانات کے مطابق اسلام آباد کی وفاقی پولیس، صوبوں کی پولیس فورس ، آزاد کشمیر پولیس ، ایف سی اور نیم فوجی دستے چالیس ہزار افراد پر مشتمل ان دو قافلوں کی نگرانی اور حفاظت کے فرائض انجام دیتے رہے ۔ پاکستان آرمی کے جوانوں کو پارلیمنٹ اور دیگر اہم ریاستی اداروں کی حفاظت پر معمور کیا گیاتھا۔
ایک سیاسی اور ایک مذہبی پارٹی سے تعلق رکھنے والے یہ قافلے جن میں مرد و خواتین ، پیر و جوان شامل تھے ، شاہراہ دستورپر پارلیمنٹ اور وزیر اعظم ہاؤس کی طرف نظریں جمائے ہوئے رہے ۔ ان میں آزاد خیال نوجوانوں ، خواتین ، منہاج القرآن کے طلبہ ، اساتذہ اور معلمات کی خاصی بڑی تعداد نے اپنے لیڈوں کی تقریروں اور نعروں کے حق میں رزمیہ نغمے گانے کا ریکارڑ قائم کرلیا ۔ پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے لیڈر وں نے سامعین کو اپنی شعلہ بار تقاریر سے بھڑکا نے اور سیماب پا بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ ان شبانہ سیاسی مجلسوں کے لئے سیاسی جلسوں کی روایات سے ہٹ کر پیشہ ور موسیقاروں کی خدمات بھی حاصل کی گئیں تاکہ اس کو مزیدگلیمرائزکیا جائے۔
اسلام آباد کی اس سیاسی ہنگامہ خیز ی کے بظاہر دو مرکزی رہنما ہیں۔ ایک عمران خان ہیں جو پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور روح رواں ہیں اور ڈاکٹر طاہر القادری جو پاکستان عوامی تحریک کے بانی اور معمار ہیں۔ ان کے علاوہ ان دونوں لیڈروں کے ارد گرد پلیٹ فارم پر سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور اقتدار کے وزرا، وکلا اور بیورو کریٹس کے چہرے نظر آتے تھے۔ چودھری برادران اور شیخ رشید احمد بھی اس تحریک کی پہلی صف میں اہم کردار انجام دیتے رہے ۔ عمران خان پاکستان کے کرکٹ سٹار تھے اور ان کا نام اس میدان میں خوب خوب چمکا تھا ۔ آج سے کوئی22برس پہلے کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لینے کے بعد انہوں نے ملک کی طبی اور تعلیمی خدمات کا بیڑا اٹھایا تھا اور اپنی سرطان زدہ والدہ کی یاد تازہ رکھنے کے لیے انہوں نے شوکت خانم ہسپتال لاہورکی بنیادرکھی جس پر ملک اور ملک سے باہر معاشرے کے مختلف طبقوں سے انہیں بے حد پذیرائی ملی ۔ اس کے بعد انہوں نے میدان سیاست میں بھی طالع آزمائی شروع کی اور قومی اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لیا لیکن انتخاب میں وہ صرف اپنی نشست پرمیاں والی سے کامیاب ہو گئے۔ ان کی پارٹی کے دیگر تمام امیدوار ناکام رہے۔
2008کے عام انتخابات میں عمران خان نے حصہ نہیں لیا اور2013کے پارلیمانی انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف قومی اسمبلی میں تیسری پوزیشن پر آگئی اور وہ خیبر پخوانخواہ میں دیگر پارٹیوں کے ساتھ حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئی لیکن سال بھر وہ یہی واویلا کرتے رہے کہ ان کی پارٹی کے ساتھ 2013کے انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کئی گئی ہے اور ن لیگ کو کامیاب قرار دیا گیا گو کہ انتخابات میں ایک کیئرٹیکر حکومت تھی اور آصف علی زرداری ملک کے صدر تھے تاہم عمران خان نے انتخابی نتائج کے خلاف کوئی ایجی ٹیشن نہیں چلائی البتہ چند ایک سیٹوں پر دوبارہ جانچ پڑتال کا مطالبہ کیاجس پر حکومت نے ٹال مٹول سے کام لیا ۔ رمضان المبارک سے قبل عمران خان نے وزیر اعظم نواز شریف سے استعفیٰ لینے اور دیگر پانچ مطالبات کو منوانے کے لیے اسلام آباد کی طرف آزادی کا لانگ مارچ کرنے اور پارلیمنٹ کے سامنے غیر معینہ مدت تک دھرنا دینے اور نواز شریف کا اقتدار ختم کرنے کا اعلان کیا۔ان اعلانات کے بعد ان کی ایجی ٹیشن خطرناک روپ اختیار کر گئی اور بھی کئی اعلانات کیے گئے جن سے بعد میں رجوع کیا گیا۔
لاہور سے اسلام آباد تک لانگ آزادای مارچ کے دوران اور شاہراہ دستور پر دھرنا دیکر عمران خان اور طاہر القادری نے وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف جارحانہ لہجہ اپنایا اور اس وقت تک دھرنا جاری رکھنے کا عہد کیا جب تک نواز شریف وزارت اعظمیٰ کی کرسی پر براجمان ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ برسوں میں الیکشن بائیکاٹ اور کرپشن کے خلاف نواز شریف نے اپنا کوئی وعدہ پورا نہیں کیا۔ اس لیے اب ان کی کسی نئی یقین دہائی پر اعتبار نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے آزادی مارچ اور آزادی دھرنوں اور سول نافرمانی کے مقاصد بیان کرتے ہوئے دعوی ٰ کیا کہ وہ نواز شریف سے پاکستان کو آزادی کرا کے ایک نیا پاکستان تعمیر کریں گے ۔لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ ان کے’’ نئے پاکستان‘‘ کی صف میں’’ پرانے پاکستان‘‘ کے بہت سارے کھلاڑی اور جگادری جمع ہو گئے ہیں۔عمران خان تکرار کے ساتھ کہتے ہیں کہ وہ پاکستان کو آزاد کرنے نکلے ہیں۔خطے کے موجودہ ماحول میں پاکستان کے لیے اس قسم کا نعرہ کچھ کم خطرات سمیٹے ہوئے نہیں ہے اور اس میں کئی عوامل کی بنیاد پر نوجوانوں میں یقیناًانتقامی جوش پیدا ہوتا ہے۔لیکن ایجی ٹیشن چلانے کا جو بھی انداز ہو اس میں اگر شخصیت پرستی پر پوری قوت صرف کی جائے تووہ آخر کا ر ملک کو فسطائیت ، انارکی اور اقتصادیات کے انہدام کی طرف لے جاتی ہے اور دنوں کا خسارہ مدتوں تک پورا نہیں ہو سکتا۔اگر چہ اب تک فوج نے پرانی روایت سے ہٹ کر تحمل کا مظاہرہ کیا ہے اور ملک کی سرحدوں پر اپنی نگاہ مرکوز رکھی ہے تاہم ایک مزاحمتی ایجی ٹیشن اور باہمی محاذ آرائی سے ملک میں نراج کی کیفیت کا خدشہ ہے۔
نواز شریف حکومت کے خلاف موجودہ ایجی ٹیشن کا دوسرا اہم کردار شعلہ بیان مذہبی عالم ڈاکٹر طاہر القادری شاہراہ دستور پر ا پنے حامیوں کے ساتھ پاکستان عوامی تحریک کے پلیٹ سے شریف برادران کو چلینج کر رہے ہیں اور اپنے دھرنے کی قیادت کر رہے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے دونوں سربراہوں میں یکسان طور پر شریف برادران اور انکے اقتدار کے خلاف اشتعال کا لاوا پھوٹ رہاہے ۔ انکا دعویٰ ہے کہ شریف برادران کی غلامی سے ملک کو ایک بے قابو ہجوم کی پیدا کردہ انارکی ہی نکال سکتی ہے۔ اس لیے دونوں لیڈروں کے بیانات اور تقاریر میں اشتعال انگیزی کا غیر معمولی عنصر موجود ہے۔ دونوں اصحاب کی موجودہ ایجی ٹیشن میں جو خلا ہے اس کو وہ ’آزادی ‘ نیا پاکستان، انقلاب اور نیا نظام‘ کے نعروں سے پر کرنا چاہتے ہیں۔ عمران خان نے اپنی ایجی ٹیشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے باشندگان وطن کو سول نافرمانی کی ہدایت کی۔ ’’حکومت کو ٹیکس نہیں دو ، تاجر سیلز ٹیکس نہ دیں اور بجلی ، گیس وغیرہ کے بلات ادا نہ کیے جائیں۔ ہم برسر اقتدار آنے کے بعد بیرونی قرضے ادا نہیں کریں گے۔‘‘ جد ید عالمی نظام میں یہ باتیں صرف خواب میں ہی ممکن ہیں۔ لیکن اگر چشم بینا میں کوئی سیاسی یا مذہبی رہنما سینکڑوں یاہزاروں کے مجمع میں، ڈرون کیمروں اور ٹی وی چیلنوں کی بھر مار میں ایسے دعوے اور اعلانات کرتا رہے تو اس میں کوئی کلا م نہیں کہ ہجوم کی ہزاروںیا لاکھوںآنکھوں نے اس پر جادو کر لیا ہے ۔لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ بد عنوانی ،گراں فروشی اور کنبہ پروری نے ملک کے عوام کو پامال کر دیا ہے۔
حکمران شریف برادران کے خلاف ڈاکٹر طاہر القادری کی عشروں پرانی رقابت اس وقت سخت خشم وانتقام کے ساتھ عود کر آ گئی جب پولیس نے لاہور میں منہاج القرآن سیکرٹریٹ پر دعوی ٰ بول دیا اور طاہر القادری کے حامیوں اور مزاحمت کرنے والوں پر گولیاں چلائیں جس میں دو خواتین اور بارہ مرد جاں سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔ اس واقعہ نے طاہر القادری اور انکے حامیوں میں آتش انتقام بھڑکائی ور پاکستان عوامی تحریک نے شریف برادران سے بدلہ لینے کی قسم کھائی ۔
گو کہ نواز شریف کے خلاف پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کی ایجی ٹیشن میں ذاتی عداوت اور انتقام کے عناصر غالب ہیں لیکن شریف برادران کی سیاست اور حکومت کے طرز نے اس کو دو چند کر دیا ہے ۔ پھر بھی اسلام آباد پر ان دونوں کی خشم آلود یلغار میں کافی تضاد پایا جاتا ہے جس کو وہ آزادی اور انقلاب کے مبہم نعروں سے نظریاتی بنانے کی کوششیں کر تے ہیں ۔ اس لیے عمران خان اور طاہر القادری کے پاس وزیر اعظم نواز شریف کو ایڈرس کرنے کیلئے اچھے ریمارکس نہیں ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے کنٹینروں کے سامنے جو پرجوش سامعین رات کے وقت آنکھوں کو خیرہ کرنے والی برقی روشنی میں فلک شگاف نعروں اورانقلابی گیتوں پر اچھلتے اور کودتے رہے وہ دو الگ الگ تہذیبوں کو ظاہر کرتے ہیں ۔ ایک طرف طاہر القادری کے دھرنے میں نقاب پوش خواتین اور بچیاں ہیں تو دوسری طرف سے عمران خان کے مجمع میں جدید تہذیب کا رنگ جھلکتاہے بظاہر دونوں اعتدال پسندی اور اسلام کی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہیں لیکن ان کا فوری سیاسی مشن وزیر اعظم نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کواپنے موجودہ عہدوں سے ہٹانا ہے اور اس کو پیش کرنے کیلئے دونوں لیڈر اعتدال اور سنجیدگی کے برخلاف جارحانہ تقاریر سے کام لیتے ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے لاہورسے اسلام آباد کے ریڈ زون تک لانگ مارچ کے دوران میں سیاست دانوں کو یقین دلایا تھا کہ وہ دار الحکومت کے ریڈ زون میں داخل نہیں ہونگے ۔ اس کے باوجود انہوں نے ریڈ لائن بھی کراس کر لی اور شاہراہ دستور پر تمام تر اختیارت سنبھالے اور طاہر القادری اور عمران خان انقلابی نعروں اور نغموں کے درمیان اپنی شعلہ بیانی سے شب و روز اپنے اپنے حامیوں اور شاگردوں کا لہو گرماتے رہے اور یہ دعویٰ کرتے رہے کہ آزادی ، انقلاب اور عوام کے درمیان موجودہ فاصلے تیزی کے ساتھ سمٹ رہے ہیں ۔ انہوں نے وزیر اعظم اورانکی کابینہ اور پارلیمنٹ کا کاؤنٹ ڈاؤن ریڈ زون میں داخل ہوتے ہی شروع کیا تھا جب اسلام آبادمیں قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں نے طاقت استعمال کرنے سے پرہیز کرنے کا فیصلہ کیا تھالیکن ابھی تک ان کی کوئی پیشن گوئی صحیح نہیں نکلی ۔
حکومت نے آئین کی دفعہ 245کے تحت مسلح افواج کی مددحاصل کی ۔ اس طرح آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی ہدایت پر ٹرپل ون بریگیڈ نے پارلیمنٹ ، وزیر اعظم ہاؤس ، پاک سیکرٹریٹ اورسپریم کورٹ کو اپنی حفاظت میں لے لیا۔لیکن عمران خان اور طاہر القادری براہ راست یا بالواسطہ فوجی مداخلت میں ہرگز کسی قسم کی تاخیر کیلئے تیار نہیں تھے۔ تاہم فوج کے سربراہ اس قسم کے انتہائی اقدام سے پہلے اسکے ممکنہ داخلی اور خارجی مضمرات، جمہوریت کے سفر پر اسکے ممکنہ اثرات اور دہشت گردی کے خلاف فوج کی گراں بار ذمہ داریوں اور آئینی مشکلات کا یقینی ادراک رکھتے تھے۔ جنرل راحیل شریف بیسویں صدی سے اکیسویں صدی تک پاکستان کے پر خطر اور خار دارآئینی اور جمہوری سفر کو داؤ پر لگانے کے روا دار نہیں ہیں۔ماضی میں جنرل ایوب خان ، جنرل یحییٰ ، جنرل ضیاء اور جنرل پرویز مشرف نے جو فوجی انقلابات برپا کیے انکے نتائج فوج کے لیے اچھے نہیں تھے ۔ لگتا ہے کہ عمران خان اور طاہر القادری کو گزشتہ ادواراور موجودہ دو ر میں زمیں و آسمان کا فرق معلوم نہیں ہے ۔ آج پاکستانی فوج بھی باہمی مشاورت کے تحت اپنے فیصلوں کو ملک کے مفاد میں متوازن اور قابل قبول بنانے میں یقین رکھتی ہے ۔ وہ سیاست دانوں کی چپقلش اور رسہ کشی سے اپنا داخلی شورائی نظام اور نظم و ضبط آلودہ نہیں کرنا چاہتی ۔
حکومت ، پارلیمنٹ، فوج اور دھرنادینے والی لیڈر شپ کے سامنے ایک بڑا امتحان تھا ۔ ہر ایک کے لیے کسی نہ کسی طرح سے ایک چیلینج ۔ حکومت کے سامنے یہ مسئلہ تھا کہ وزیر اعظم نواز شریف پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے اعتماد اور انتباہ کو کس طرح نظر انداز کر کے مستعفی ہو جائیں۔ اپوزیشن نے تمام تر اختلافات کے باوجود وزیر اعظم پر غیر مبہم الفاظ میں واضح کر دیا تھا کہ استعفیٰ دینے کی صورت میں وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے انکے سامنے ناقابل اعتبار ثابت ہونگے اور ایک غلطی کرنے کے بعد ان سے یکے بعد دیگرے کئی اور غلطیاں کرائی جائیں گی۔ فوج کے سامنے یہ سوال تھا کہ اس بات کی کیا ضمانت ہوسکتی ہے کہ شاہرہ دستور پر دھرنا دینے والوں کے تمام مطالبات پورے ہونے کے بعد مستقبل میں کوئی اوربے قابو عنصر ملک کو اپنی لپیٹ میں نہ لے آئے۔ اس صورت حال میں وزیر اعظم اور آرمی چیف کے درمیان کئی بار طویل ملاقاتیں ہوئیں لیکن جیسا کہ آئی ایس پی آر کے ایک اہم اور ہنگامی پریس ریلیز سے پتہ چلا کہ آرمی چیف نے وزیر اعظم کو اپنا عہدہ چھوڑنے یا استعفی دینے کا کوئی مشورہ نہیں دیا۔کنٹینروں سے ان گنت ٹی وی چینلوں کی آنکھوں اور ذہنوں کو چکا چوند کرنے والی لایؤ کوریج میں آخر کا ر عمران خا ن اور ڈاکڑ طاہرالاقادری نے حکومت کو متنبہ کیا کہ وقت تیزی کے ساتھ گزر رہا ہے اور ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہورہا ہے۔ اسکے بعد دوسرا اعلان کیا گیا کہ دونوں جماعتوں کے انقلابی ،ریڈ لائن کو روندتے ہوئے پاک سیکرٹیریٹ کے اندر داخل ہوگئے اور پارلیمنٹ کا مین گیٹ توڑ کر اس کے احا طے میں بیٹھ گئے۔حتیٰ کہ پاکستان ٹیلیویژن کی عمارت پر قبضہ کرکے پی ٹی وی کی نشریات بند کردی گئیں۔ اس سے چند گھنٹے پہلے کیپٹل پولیس فورس کے نئے ایس ایس پی عصمت اللہ جنجوعہ نے اپنی پہلی ٹی وی پریس کانفرنس میں چند نادر اور اہم باتیں کی تھیں ۔انہوں نے ریڈ لائین کی اہمیت واضح کرتے ہوئے عمران خان اور طا ہر القادری کو یقین دلایا تھا کہ پولیس ہر حالت میں عدم تشدد پر عمل پیرا ہے لیکن وہ ریڈ لائن کراس کرنے کی کوشش نہ کریں۔اس مو قعہ پر انہوں نے عالمانہ انداز میں کائنات میں سدرت المنتہیٰ کی ریڈ لائن کا بھی حوالہ دیا ۔لیکن جب دھرنے والوں کو آگے بڑھنے اور اہم قومی عمارات ، پارلیمنٹ اور پی ایم ہاوس میں داخل ہونے کا سگنل ملاتو وہ خواتین اور بچوں کو آگے لاکر مارچ کرنے لگے۔ ایس ایس پی نے ان مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روکنے کی کوشش کی جس پر ایس ایس پی پولیس اور ان کی فورس کو زبردست تشدد کا سامنا کرنا پڑا یہاں تک کہ ان کو اسپتال کا راستہ دکھا یا گیا۔اہم قومی اداروں کی حفاظت پر مامور فوج نے مظاہرین کو سرکاری عمارات کے اندر جانے سے روکا لیکن مظاہرین نے مین گیٹوں پر قبضہ جما کر پولیس کے فرائض سنبھال لیے ۔ دوسری طرف اگر چہ فو ج نے فوری طور پر پی ٹی وی پہنچ کر عمران خان اور طا ہر القادری کے حامیوں کو باہر نکالا اور تقریباً چا لیس منٹ کے بعد ٹی وی نشریات بحال ہو گئیں لیکن ساری دنیا میں یہ افسوس ناک منظر خود پاکستانی چینلوں نے دکھایا۔ان واقعات پر داخلی اور خارجی ردعمل کو دیکھ کر پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے دونوں رہنماؤں نے حملہ آور گروہوں کو اپنے کارکن ماننے سے انکار کیا اور کہا کہ پی ٹی وی پر حملہ کرنے والے ہمارے لوگ نہیں تھے۔
اس کے بعداراکین پارلیمنٹ کا حکومت پر دباؤ بڑھ گیا چنا نچہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس بلایا گیا جو اپنی نوعیت کے لحاظ سے منفرد اور تاریخی تھا ۔اس طویل تاریخی اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے تمام اراکین نے ملک کے غیر روایتی سیاسی بحران پر اپنا اپنا حق تنقید اور تجزیہ پیش کیا لیکن سبوں نے وزیر اعظم نواز شریف کو عمران خان اور طاہر القادری کے مطا لبے پر استعفیٰ دینے یا رخصت پر جانے سے باز رہنے کا مشورہ دیااور بعد میں وزیر اعظم نے پارلیمنٹ میں اعلان کیا کہ وہ اپنے موجودہ عہدے سے استعفیٰ نہیں دیں گے اور نہ چھٹی پر جائیں گے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ پاکستان تحریک انصا ف جس نے پارلیمنٹ سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا تھا اس کے اپنے کئی اراکین نے اس ہدایت پر عمل کرنے سے انکار کیا اور پارٹی کے جو اراکین شاہ محمود قریشی کی قیادت میں پارلیمنٹ میں آگئے وہ سب استعفیٰ دئے بغیر ایوان سے باہر آگئے۔ شاہ محمود قریشی نے اپنی تقریر میں پارلیمنٹ کو اپنا سیاسی کعبہ قرار دیا اور حکومت وقت کے ساتھ مذکرات جاری رکھنے پر اپنی پارٹی کے یقین کا اظہار کیا ۔
یہ تمام حقائق و واقعات اپنی جگہ لیکن وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف تحریک انصاف اور عوامی تحریک کی ایجی ٹیشن نے حکومت اور ریاست کی سیاسی اور اقتصادی پوزیشن متزلزل کردی اور اس کو پارلیمنٹ کی دوسری اپوزیشن پارٹیاں اور پیپلز پارٹی کے سربراہ سابق صدر آصف علی زرداری کی مسلسل حمایت ہی کسی بڑے حادثے سے اب تک بچاتی رہی ۔ اس کے باوجود اس کو جھٹکوں کا خطرہ لاحق ہے۔ کیونکہ حکومت فالٹ لائن پر ہے۔ ۵ستمبر جمعہ کو وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان اور اعتزا زحسن کے درمیان تند و تیز الزامات کا جو تبادلہ ہو ا تھا جس کو ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی قیادت نے اپنے تدبر اور دور اندیشی سے کسی دھماکے سے بچا یا۔
پاکستان کا موجودہ بحران اپنے جغرافیا ئی محل وقوع اور ماضی قریب اور حال کے غیر معمولی واقعا ت کی وجہ سے بڑی طا قتوں اور ہمسایہ ملکوں اور مسلمان ریاستوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے ۔ایک خود مختار مسلم ریاست کی حیثیت سے یہ دوسری بڑی ریاست ہے اور مسلمانوں کی اکثریت کے اعتبار سے پاکستان تیسرے نمبر پر ہے۔ اس لیے یہاں جمہوریت اور سیکیورٹی کے سوالا ت داخلی اور خارجی سطح پر یکساں اہمیت کے حامل ہیں ۔اگر ان میں سے ایک بھی ستون کمزور ہو جائے، توخارجی عناصر بھی داخلی سلامتی کے لیے خطرات پیدا کرسکتے ہیں ۔اس لیے پاکستان میں سیاسی جمہوری قوتوں (حکومت اور اپوزیشن ) کے درمیان نہ صرف باہمی تال میل ہونا چا ہیے بلکہ ملک کی سلامتی کے ذمہ دار اداروں اور جمہوری قیادت کے درمیان خوشگوار تعلقات کو فروغ ملنا چا ہیے۔ یو ں ملک کی خارجہ اور دفا عی پالیسی باہمی مشا ورت اور اتفاق رائے سے تشکیل پزیرہو۔
ہمسایہ ملکوں ہندوستان ، افغانستان اور بنگلہ دیش کے ساتھ پاکستان بیم ورجا کے دھندلے تعلقات رکھتا ہے ۔ اس لیے پاکستان ایک انتہائی حساس ملک ہے۔پاکستان پانچویں دہائی سے ہی مختلف فوجی معاہدوں میں شامل رہا ہے اوریہاں دونوں قسم کی حکومتیں، فوجی اور سول بنتی رہی ہیں، اگر چہ فوجی حکمرانی کا زمانہ زیادہ طویل رہا ہے اورایک متفقہ جمہوری آئین بناتے ہوئے پاکستان کو طویل سفر کرنا پڑا۔
منتخب جمہوری حکمرانوں میں اس وقت میاں محمد نواز شریف کو دوسری بڑی آزمائش کا سامنا ہے ۔سابق صدر جنرل مشرف کے فوجی انقلاب سے پہلے یا اس کے بعد ، میاں نواز شریف جب بھی ملک کے وزیر اعظم منتخب ہوگئے انہیں اپنے بھاری مینڈیٹ پر بڑا ناز رہا، وہ اس کا برملا اظہا کرتے رہے جس کو پاکستانی پسند نہیں کرتے ہیں کیونکہ لوگوں کا ایمان ہے کہ اپنی کامیابی پر نازاں ہونے سے پہلے اللہ کی کبر یا ئی بیان کی جانی چاہیئے اور کامیابی ہویا اقتدار کی کرسی، مسلمان کو اُسی ذات یکتاکا احسان مند رہنا چا ہیئے۔ قران کی تعلیمات اور انبیاء کرام کی سیرتوں کی روشنی میں سروری صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کو ہی ہے۔ 2013میں جب نواز شریف اپنی جلا وطنی کے بعد بھاری اکثریت سے وزیر اعظم بن گئے اس وقت بھی وہ اسی زعم میں رہے کہ پارلیمنٹ میں ان کی پارٹی نے اکثریت حاصل کی ہے ۔ لیکن اس کے بعد وہ پارلیمنٹ کے اجلاسوں میں باقاعدگی کے ساتھ شریک نہیں ہو ئے اور زیادہ تر غیر ملکی دوروں پر جاتے رہے۔ اس پر طرہ یہ کہ جب عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری نے آزادی مارچ اور انقلاب مارچ کے نام پر لاہور سے اپنی تقریروں کی توپیں پارلیمنٹ اور وزیر اعظم ہاوس کی طرف داغنا شروع کیں تو وہ سعودی عرب چلے گئے اور چند روز وہیں رہے۔اس وقت تک ان کے مخالفین نے ملک میں ایک ہیجان برپا کردیا تھا ۔
کوئی بھی حکومت ہو مشاورت کے بغیر ناکام اور نامراد ہے۔ جمہوریت کی بنیا د ہی مشورے پر ہے اس کے بغیر یہ آمریت بن جاتی ہے ۔ پاکستان میں جمہوری نظام کی سمجھ بوجھ رکھنے والوں کو یہ بات ابتدا سے کھٹکتی رہی ہے کہ ایک کامیاب مینڈیٹ کے باوجود موجودہ حکومت ا سوقت بھی کئی اہم محکموں میں با قاعدہ وزرا ء کے بغیر ہے، جن میں وزارت خارجہ کا محکمہ بھی شا مل ہے۔
یہ بات اہم ہے کہ ترقی پزیر ملکوں کو ترقی کرنے کے لیے ایسے ترقیاتی پرو جیکٹوں کی ضرورت ہوتی ہے جن سے براہ راست عام آدمی کی زندگی ،تعلیم،صحت و صفائی اور سماجی شعور بلند ہو جائے اور شہریوں کو ان نعمتوں کے حصول کے لئے اپنے گاؤں چھوڑ کر شہروں کا رخ کرنا نہ پڑے جہاں کا لائف سٹائل اور کلچر معا شی لحاظ سے گرانبار اور پیچیدہ ہوتا ہے۔ بد قسمتی سے پاکستانی حکمرانوں نے گذشتہ67سالوں میں زراعت کی ترقی کے لیے سائنٹفک طرز پر اقدامات کیے اور نہ جاگیرداری نظام کا خاتمہ کرکے کاشتکار اور ہاری کو زمین کا مالک بنا یا اور شہروں اور دیہات کے اندر سڑکوں، واٹر سپلائی، سیوریج سسٹم اورہیلتھ کیئرکو بہترنہیں بنایاگیا۔ وزیر اعظم محمد نواز شریف اور شہباز شریف نے موٹر وے اور میٹرو کا آغاز کیا، یہ برق رفتار ترقی کیلئے ضروری ہے لیکن عوامی ٹرانسپورٹ کا زیادہ مقبول نظام مثلاً ریلوے سسٹم بہتر نہیں کر دیا گیا اور اسے جدید خطوط پر متعا رف نہیں کیا گیا ۔ موٹر وے اور میٹرو کی اپنی جگہ اہمیت لیکن اس کے اخراجات بھی تاخیر اور تعطل کی وجہ سے بڑھ گئے اور قومی خزانہ متاثر ہوگیا ۔پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے اسکی خوشحالی کاانحصار اسکی زراعت کی سائنسی بنیادوں پر عروج میں ہے۔ ترقی یافتہ مغربی صنعتی ممالک کی عالمی قیادت کی وجہ سے بلاشبہ پاکستان کی صنعتوں کا پھیلاؤ اور استحکام بھی ضروری ہے لیکن صنعتوں پر زراعت ، زرعی ماحول اور جنگلات اور باغبانی کو قربان کرنا ٹھیک نہیں ۔ اللہ نے انسان کو جس زمین پر بٹھایا اسکی ہمہ پہلو خوبصورتی قائم رکھنا قدرت سے محبت کا تقاضا ہے ۔
میاں نواز شریف کی حکومت کے بارے میں پاکستانیوں کا خیال ہے کہ انہوں نے ملک کے حساس مسائل اور بعض ملکوں کے ساتھ تعلقات کی حسا سیت کو نظر انداز کیا۔ مثلاًہندوستان جیسے ملک کے ساتھ تجارت کو اولین اہمیت دی۔لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ یہ الزام صرف ان پر اکیلے صادر نہیں آتا اور بھی کئی چوٹی کے سیاست دان بھارت کے ساتھ قریبی تجارتی اور سیاحتی تعلقات کے حامی رہے ہیں۔وزیر اعظم نواز شریف سے پہلے 2004میں سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے ہندوستان کے ساتھ گہرے سیاسی تعلقا ت بڑھا نے کے لیے اپنا چا ر نکا تی فارمولا منظر عام پر لایا اور اس کے حق میں اپنی منطق پیش کی ۔ انہی کے دور میں ایل او سی کو مال کے بدلے مال کی بنیاد پر تجارت کے لئے کھو ل دیا گیا ۔ اسی عہد میں ہندوستان نے جنگ بندی لائن پر باڑ بندی کردی اور کشمیر کے ہندوستان نواز لیڈر اور حکمران پہلی بار آزاد کشمیر اور پاکستان آکر یہاں سرکاری مہمان بن گئے اور کشمیری حریت پسندوں کی طرف طنز آمیز مسکراہٹیں چھوڑ تے رہے۔اسی دور میں پاکستان میں ابلاغ عامہ کے ذرائع خاص کر بعض اخبارات اور ٹی وی چینلوں نے کشمیر میں انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں کے مقابلے میں بھارت کے ساتھ قریبی تعلقات کو اہمیت دی ۔جو بنیادی سیاسی مسئلہ کے منصفانہ اور حقیقت پسندانہ حل کے بغیر ناممکن ہے۔ ورکنگ باونڈری اور ایل او سی پر تازہ ترین خون ریز کشیدگی نے اسی حقیقت کواجاگر کیا ہے۔
عمران خان اور ان کے ہم رکاب ڈاکڑطاہر القادری پاکستان کو آزاد کرکے نیا پاکستان بنانا چا ہتے ہیں اور انقلاب فرانس کی باتیں بھی کرتے ہیں ۔ اس انقلاب کے مفکرین، روسو اور والٹیرکے نظریات، آزادی ، مساوات اوربھائی چارہ ضرورانسانیت کے لیے اہم ہیں۔ لیکن یہ بھی ذہن میں رہے کہ آمریت اور بے لگام سیاست دونوں نے فرانس کو افلاس اورخونریز تشدد کا میدان بنا یا تھا ۔ عمران خان انقلاب مدینہ برپا کرنے کا وعدہ بھی کرتے ہیں۔ ان دونوں انقلابوں کے نتائج میں یکسانیت اور ہم آہنگی تلاش نہیں کی جاسکتی ہے۔ کیونکہ انقلاب مدینہ صرف ایک نعرہ نہیں تھا بلکہ اعلیٰ ترین آفاقی تصورات کی تعبیر کا نام ہے۔ عمران خان کو دیکھنا پڑے گا کہ ان کی پارٹی کی چھتری کے نیچے اوصاف ریاست مدینہ کے حامل کتنے افراد ہیں جو پاکستان کو آج مدینے کی ریاست بنا نے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔شاہراہ دستور اور ڈی چوک پر پارلیمنٹ کے سامنے اسلامی جمہوری انقلاب اور سماجی انصاف کی نوید نہیں ملتی۔چھٹی صدی عیسوی میں اہل مدینہ نے نبی کریمﷺ کی سربراہی اوراطاعت میں خوبصورت نقوش ثبت کیے تھے۔سب سے پہلے ان کے دلوں کے نقشے بدل گئے۔یہاں جاگیر داروں، سرمایہ داروں ،بیوروکریٹوں اور گدی نشینوں کے ہوتے ہوئے کوئی بڑی سے بڑی پارٹی بھی ملک میں کوئی شائستہ جمہوری انقلا ب نہیں لاسکتی۔افسوس ہے کہ گذشتہ 66سال میں بھی پاکستان کے فیوڈل سسٹم اور نو آبادی راج کے نوکر شاہی نظام کو کوئی جھٹکانہیں لگا بلکہ نظام سرمایہ داری نے مفاد خصوصی عنا صر کو اور زیادہ مضبوط کردیا ،جس کی وجہ سے معاشی اور سیاسی نظام قومی جمہوری اقدار سے بے گانہ ہو گیااورآمرانہ ذہنیت مختلف پارٹیوں کے اندر سرایت کر گئی ۔اس لیے اس ملک کی تمام بڑی بڑی سیاسی و مذہبی جماعتوں میں بڑے کارخانہ داروں اور جاگیر داروں کے بغیر کام نہیں چلتا ۔ملک کے بڑے بڑے ادارے بھی ان سے پاک نہیں ہیں ۔ جو بھی نئی پارٹی وجود میں آتی ہے اس کے لیے سرمایہ کی فراوانی یہیں سے ہو تی ہے ۔
ڈاکٹر طا ہر القادری اپنی پارٹی کے روح رواں ہیں ، وہ اپنے تعلیمی اداروں کی قضا و قدر کے مالک ہیں اور مذہبی تصورکی وجہ سے ان کی شخصیت چھائی ہوئی ہے۔عمران خان کا اس لحاظ سے کوئی پس منظر نہیں ہے۔عوام ان کو صرف ایک قومی کرکٹ ہیرو کی حیثیت سے جانتے تھے۔انہیں پاکستان کی قومی اسمبلی میں پہنچتے پہنچتے18سال لگ گئے۔یہ اعزاز انہیں اس وقت ملا جب عوام یہاں کی دو بڑی سیاسی پارٹیوں، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ سے بیزار ہورہے تھے ۔ لیکن عمران خان کی تحریک انصاف اور طاہر القادری کی پاکستان عوامی تحریک اور ان دونوں کے باہمی اتحاد اور اشتراک کے لیے سرمایہ داروں اور ان کے نئے اور پرانے وزیروں مشیروں اور نوکر شاہی کے پرزوں نے مہمیز کا کام انجام دیا ۔اس طرح سے برق رفتاری کے ساتھ وہ قوت پیدا ہوئی جو اگست سے اقتدار کے سب سے اونچے ایوانوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجانے لگی۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان ابتدا سے ہی استحصالی نظام کی چکی کے دو پاٹوں کے درمیان پسا جاتا رہا ہے اس لیے عمران خان اور طاہر القادری سے پوچھا جاسکتا ہے کہ جس انقلاب اورنیا پاکستان کا وہ اعلان کرچکے ہیں اس میں مکمل زرعی اصلاحات، جاگیر داری نظام کے خاتمے اور زمین کاشتکاروں اور حاریوں کی ملکیت میں دینے کا وعدہ کیوں نہیں ہے۔ کارخانوں اور بڑی بڑی صنعتوں کو کورپشن اور بدعنوانیوں اور دیگر خباستوں سے پاک کرنے کے لیے کیا طریقہ کار ہے۔ اسی طرح میڈیا کو سرمایہ دارانہ تسلط کی آلائشوں سے پاک کرنے کا کیا طریقہ ہے۔ پاکستان کے ان بنیادی سوالات کی طرف تو جہ دینے کے ضرورت ہے۔ ان کی طرف عدم توجہ ملک کی ترقی کی بنیادی پالیسی کو بے نیل و مراد بنا دیتی ہے ۔
کشمیر کی آزادی یا پاکستان کے ساتھ اس کا الحاق ، لوگوں کا اب یہ تاثرہے کہ ان میں سے ایک کا حصول بھی جوئے شیر لانے کے متراف ہے اور حقیقت یہ ہے کہ کشمیر 1947سے نیلے آسمان اور گہرے سمندر کے درمیان لٹکا ہوا ہے ۔ اسی طرح 1971میں یہ ملک دو لخت ہو گیا لیکن کئی صوبوں میں بے چینی کے جراثیم پرورش پا رہے ہیں ۔پاکستان بے شمار معدنی ، زرعی اور انرجی وسائل کے باوجود لگاتار ترقی یافتہ صنعتی ممالک کا دست نگر اور مقروض ہے، اس کی خا رجہ اور معاشی پالیسی آئی ایم ایف اور سرمایہ دار ممالک کے قرضوں کی روشنی میں بنتی ہے، اور بجٹ کا خا صا بڑا حصہ غیر پیدا واری مدوں پر خرچ ہو تا ہے یہاں تک کہ جب احتساب کا نعرہ لگتا ہے تو صرف غریب اور متوسط عوام مارے جاتے ہیں۔
پاکستان کو بو جوہ ایک ایسی دہشت گردی نے ہلا کر رکھ دیا جس کے اسباب سیاسی، معاشی اور فرقہ دارانہ ہیں ۔اس کے علاوہ سٹریٹ کرائم ، ڈاکہ زنی اور خون ریزی نے چپے چپے کو لہو لہان کردیا ہے۔پولیس اور خفیہ پولیس کے ایک منظم اور ملک گیر نیٹ ورک کے باوجودکسی شخص کی جان ، مال اور آبرو محفوظ نہیں۔کسی مظلوم اوربے رسوخ کو انصاف نہیں ملتا ۔عوام کے ان گھمبیر اور خوفناک مسائل کے حل کے بغیر عمران خان کا نعرہ انقلاب، سراب ثابت ہوگا۔
پاکستان کو اس گرداب میں پھنسے ہوئے ایک عرصہ دراز گزرگیا۔ اس دوران میں ہندوستان کی داخلی اور خارجہ پالیسی اور معاشی اور زرعی ترقی کافی حد تک مضبوط ہوگئی۔ہندوستان کشمیر میں آزادی کی ایک عوامی سیاسی تحریک کے باوجود دنیا کو اپنی اسٹریٹجک اور دفاعی پوزیشن اور ترقیاتی منصوبہ بندی کا ہم نوا بنانے میں کا میاب ہوگیا۔ یہاں تک کہ سابق صدر مشر ف کے دور میں امن کے ایک لاحاصل نعرے کے نام پر ایک ایسا دام ہم رنگ زمین بچھا یاگیا جس نے حکومت کے علاوہ میڈیا اور دانشور حلقے کو بھی اپنا پرستار بنالیالیکن ہاتھ کچھ نہ آیا۔
ڈی چوک کے قائدین نئی اور پرانی پریشان حالیوں سے بے فکرنظر آتے ہیں۔یہ قیادت تو ایک سیاسی نظام کے قیام کا حلف اُٹھا تے ہوئے مغربی اداروں خاص کر کینیڈا ، برطانیہ اور امریکہ کا حوالہ دیتی ہے۔لیکن یہ بات بھول جاتی ہے کہ مغربی جمہوریتوں نے ایک فلاحی جمہوری نظام کے قیام ، بقا اور استحکام کے لیے صدیوں تک اپنا صبر آزما سفر جاری رکھا، جب انہیں اس کی ایک کرن بھی ملی تو انہوں نے دوسری کرنوں میں رکاوٹیں دور کر نے کے لیے سنجید گی اور اخلاص سے جدوجہد کی ۔ ہم جمہوریت کی کتنی کرنیں حا صل کرتے رہے ، کتنے منشور لکھتے رہے لیکن ایک سے بھی استفادہ حاصل نہ کرسکے۔ اس کے برعکس حکمران ، سیاست دان اور مذہبی عالم سب ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھا لنے، گریبان پکڑنے اور گلے کاٹنے میں ایک دوسرے پر بازی لیتے رہے ۔حکمران ہو یا سیاست دان ،عالم یاگدی نشین ، بیوروکریٹ یا ٹیکنو کریٹ ،ووٹر ہو یا الیکشن کمیشن سب کو یہاں کی جمہوریت کے نازک اور پر خطر سفر میں ہر مرحلے پر دیانت داری اورایمانداری کا مظاہرہ کر نا ہوگا۔جمہوریت کی جڑوں کو مظبوط کرنا پڑے گا۔میدان الیکشن میں اور پولنگ بوتھوں پر ’’جس کی لا ٹھی اس کی بھینس ‘‘والے وحشیانہ عمل سے باز رہنا پڑے گا اور پارلیمنٹ کی حفاظت اپنے گھر کی طرح کرنی ہو گی۔ایک صاف و شفاف الیکشن اور پر امن انتقال اقتدار ہی ملک کے سیاسی جمہوری اور آئینی نظام کا ضامن ہے ۔یوں ایک سچی اسلامی فلاحی ریاست قائم ہوگی جس کو کہیں اندر سے یا باہر سے کوئی ہلانے کی جسارت ہی نہ کرے گا ۔غلط کار حکمرانوں کا محا سبہ ایک ایسی ہی پارلیمنٹ کے دستوری نظام میں ہو گا، انہیں اقتدار چھوڑنا پڑے گا اور وہ اپنے کیے کی سزا پائیں گے ۔ اس کے بغیر تبدیلی کے جتنے بھی حربے ہیں وہ فساد بحر وبر کے زمرے آتے ہیں اور انسانی معاشرے کی بربادی کا باعث بنتے ہیں۔آزاد اور خود مختار ممالک کی بقا کی ضمانت صرف ایک آئینی جمہوریت میں ہے جو ایک آزاد اور شفاف الیکشن کے ذریعے سے وجود میں لائی گئی پارلیمنٹ سے پھوٹتی ہے۔پاکستان کے آئین کے مطا بق حکمرانوں کو دکھاوے کے القاب اختیار نہیں کرنے چا ہئیں،انہیں خود پرستی یا خود ستائی زیب نہیں دیتی ۔اللہ کی حاکمیت ہے، باقی سب بتانِ آذری ہیں ۔ ملک کے تمام سیاست دانوں اور رہنماؤں کا فرض بنتا ہے کہ وہ سیاسی جد وجہد کیلئے ایک مسلمہ اور معروف جمہوری راستہ اختیار کریں جس میں اس ملک کے کروڑوں عوام کی آزادی ، خود مختاری اور بقا کا راز پوشیدہ ہے ۔
ڈاکٹر طاہر القادری نے آخر کارنگر نگر اپنی مہم لینے کا وعدہ کر کے ڈی چوک سے کوچ کر لیا لیکن عمران خان فی الحال سر شام یہاں پر اپنا چہرہ دکھا تے رہیں گے۔بہر کیف ملک کامجموعی ذہن حکومت اور اپوزیشن دونوں پر یہ وا ضح کرچکا ہے کہ سیاسی جمہوریت اور سماجی و معاشی انصاف کے نعرے اور دعوے اس وقت تک بے معنی ہیں جب تک اعلیٰ ترین صطح پر بد عنوانی ، رشوت ستانی، چور بازاری ، کنبہ پروری اور لوٹ کھسوٹ کے جراثیم کا قلع قمع نہیں کیا جاتا۔

نوٹ: مقالہ نگار جموں وکشمیر پیپلز فریڈم لیگ کے چیئرمین اور کل جماعتی حریت کانفرنس جموں و کشمیر کے سابق کنو نیر ہیں۔
email: mfr_isb@outlook.com
Dated 24-Oct-2014

  1. No comments yet.
  1. No trackbacks yet.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: