Home > Articles > لا نبی بعدی اور فیض آ با د دھرنا سے حاصل شدہ سبق۔

لا نبی بعدی اور فیض آ با د دھرنا سے حاصل شدہ سبق۔

December 14, 2017 Leave a comment Go to comments

از-محمد فاروق رحمانی
پاکستان کے د و متصل شہروں کے سنگم فیض آبا د انٹر چینج پر نو مبر2017، میں تحریک لبیک پا ر ٹی کے دم گھٹا نے والے 21روزہ د ھر نے نے پا کستا نی سیاست اور سما ج کا اضمحلا ل آ شکا ر کر دیا اور یہ ثا بت ہو گیا کہ پاکستان کا سماجی ، سیاسی اور مذہبی دھا گا ضعیف ہے۔ جمہوری طرز حکومت اور سیاست کی بات ہی نہیں ہے۔ یہ درخت ستر برس گزار رنے کے باوجود مر جھا یا ہوا رہتا ہے کیونکہ اسکی آبیاری کر نے وا لے نہیں ہیں ۔ کلمہ اسلام اور اسلامی اقدار معاشرہ کی ترویج و اشاعت تو ریاست اور عوام کا مسلمہ فرض بنتا ہے لیکن مذہب کو حقیر سیا سی اغرا ض اور سیاست اور اقتدار کو خا لص حصول دولت اور بقا اقتدار کےلئے استعما ل کرنا یہا ں کی ریت بن چکی ہے۔ یہ سچ ہے کہ پاکستان کو ہر اعتبار سے عدم استحکام کا شکار کر دینے کے لئے شکاریوں نے چار سو جال پھینکے ہیں اور گزشتہ موسم بہار سے عالم عرب کی حکمران سیاسی طاقتیں بھی سرعت اور دیدہ دلیری سے امت مسلمہ کے بنیادی اسلامی ، اخلاقی عقائد اور مفادات کو تہہ وو با لا کرنے کے لئے مغرب کی نسل پرست اور استعماری طاقتوں کے مطالبا ت پرسر تسلیم خم کر تی جارہی ہیں اور اسلام دشمن قو تیں بشمول ہندوستان و صیہونی اسرائیل آگے بڑ ھ رہی ہیں، لیکن کم از کم یہ امید نہیں تھی کہ پاکستان میں بھی ا نہوں نے اپنا دام ہم ر نگ زمین جال بچھا دیا ہے۔ اور ان کے حامی پاکستان کی اساس پر ایمان لانے میں تذ بذ ب میں گرفتار ہیں اور ملی اور فرقہ دارانہ ہم آ ہنگی کے رشتوں کو کمزور کرنے میں اپنا اثرو رسوخ استعمال کر رہے ہیں اور ذرا سی بات پر عوام اور سماج کو ٹوٹ پھوٹ کا شکار کر دیا جاسکتاہے۔ خو ن آشام قربابیوں اور ہجرتوں کے سیلاب کے بعد حاصل شد ہ اس ملک کے سماج کو امن و سلامتی کی بنیادی اخلاقی اور ا سلا می ا قدار کے لئے ایک ہو نا چاہئیے تھا ۔ اقبال ر ح کا پہلے ہی انتباہ تھا :۔۔

چھپا کر آ ستین میں بجلیاں رکھی ہیں گر دوں نے
عنا دل باغ کے غافل نہ بیٹھیں آ شیا نوں میں
لیکن یہا ں کسی کو ان باتوں کا احساس یا ڈر نہیں ہے۔ پاکستان مختلف طوفانوں ( بشمول خود آوردہ طوفان) کی زد میں ہے، جن سے نجات حاصل کرنے کے لیے مسلمانو ں کو تغا فل چھو ڑ کر اصولی ،عملی او ر اخلاقی راہ اختیار کر نی چا ہئے ۔ تب جاکر وہ عالم انسانیت کو متاثر کر سکتے ہیں۔ لیکن قدرت کے تھپیڑ وں کے باوجود وہ اس طرف مائل نہیں ہیں۔ اس خطے میں مادہ پرستی کی دوڑ ہے اور کردارسازی نا پید ہوگئی ہے، ما حو ل کے او پر ملمع سازی چھائی ہو ئی ہے اور اقبال کے تصورات آدمیت ، خودی اور خدا اعتمادی غائب ہیں۔ افغان جنگ، نائن الیون اور اس کے بعد پیدا شدہ حالات ہیں ، گر دشی قر ضے، بیرونی طاقتوں پر تکیہ، نظام ریاست میں رسہ کشی اور رشوت ستانی ، میڈیا پر سر ما یہ پرستی اور ذاتی اغرا ض کی گرفت، ریٹنگ کی بیماری، چینلوں پر مہما نوں کو بٹھا کر حیوانوں کی طرح لڑ وانا اور مچھلی بازار پر سبقت لینا، سو شل میڈ یا کو شتر بے مہار بنانا، حق و باطل پر ایک دوسرے کا لباس چڑ ھا نا، ا سلا م کی تصو یر و تعلیما ت کو ا دا کاری سے بگا ڑنا ، با لائی طبقوں اور ارباب اقتدار میں کورپشن کے با وجود فخر و نا ز کے سا تھ لیڈ ر شپ کا حق جتلا نا، و غیرہ وغیرہ۔ غرض کیا کچھ رائج نہیں ہو چکا ہے۔ عالم اسلا م کی بات ہی کیا! جہا ں بادشاہ، ڈ کٹیٹر ، سامراجی اور ان کے ایجنٹ مسلمانو ں کو یکسان شہری نہیں بلکہ مفتو ح اور محکوم رعیت جان کر عوام کا قافیہ تنگ کیے ہوئے ہیں۔ مسجد ا قصیٰ ان پر ما تتم کناں ہے۔
یہ تمہید کہنے کے بعد اب ہم جائزہ لیں گے کہ طویل ا سلامی تا ر یخی حقا ئق سے آ گہی کے با و جود فیض آ با د د ھر نا کیو ںکر پیش آ یا اور ختم نبوت ؑﷺکے بنیا دی عقیدے میں منافقین کیسے کیسے نقب زنی کی جر ت کر تے ہیں ؟
1۔ اسلام میں ختم نبو ت و رسالت محمدی صلی ا للہ علیہ و سلم کا سوال قرآ ن اور ا حا دیث کی روشنی میں تا قیام قیامت طے شدہ ہے۔ خلافت ا بو بکر صد یق ر ض میں مسیلمہ کذاب اور دیگر کاذب مد عیا ن نبوت کے خلاف خا لد بن ولید ر ض کی کمان میں جہاد و قتال اور اس فتنے کا استیصال ا س ا صو ل ایما ن و عقیدہ کا بین ثبو ت ہے کہ مسلما ن آ نحضر ت صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد کسی بھی مد عی نبوت کو کا فر، فا سق اور کا ذب ما نتے ہیں۔ اور ایسے بد بخت کے خلاف جہاد کر تے ہیں۔
2۔ مرزا غلام ا حمد قا د یا نی نے ہندوستان میں نبوت کا دعو یٰ 1857 کی جنگ آ زادی کے کو ئی 30 سال بعد کیا اور یہ بے شک ہندوستان پر قابض بر طانیہ کے سا مراجی اور صلیبی حکمرانوں کی ایک خطرناک سازش تھی۔ کیو نکہ مسلما ن انگریز تاجروں کی عیاریوں اور جنگ آ زادی میں دہلی کے قتل عام اور سر عام پھا نسیو ں کو نہیں بھو لے تھے اور وہ ہندوستان کو انگریزوں سے آزاد کرانا چا ہتے تھے۔ مرزا غلام ا حمد نے 19 ویں صدی کے آ خری سالو ں میں نبوت سمیت مختلف متضاد جھو ٹے دعوے کیے، جہاد کے عقیدے کو حرام قرار دیا اور یہ فتویٰ جا ری کیا کہ میر ی نبوت کا منکر مسلمان نہیں رہے گا بلکہ کافر ہو جایے گا۔
ان کے اس شیطانی دعوے کے بعد، ہندوستان کے مسلمانو ں کے تن بدن میں آگ لگ گئی لیکن کئی بد بخت لوگ گمراہ بھی ہو گیے۔ انگریزحکمرانو ں، صلیبیو ں اور بعض ہندولیڈ روں جن میں پنڈت جوا ہر لا ل نہرو بھی شامل تھے نے مرزا غلام احمد کی جعلی نبوت کی حمایت کی اور ڈا کٹر اقبال کو ا حمد یو ں کی مخالفت کر نے سے با ز رکھنے کے لیے خط لکھا۔ جو علامہ مرحوم نے مسترد کر دیا۔ اسی طرح دیگر علما ءجن میں مولانا ثناؒ اللہ امرتسری رح کا نا م گر امی خاص طور شامل ہے، نے مر زا غلا م احمد قا د یانی کے جھو ٹے دعوون کو با طل قرار د یا اور اس طرح سے ہندوستانی مسلمان اجتماعی طور پر ار تداد سے بچ گیے ۔ علامہ اقبال نے نبوت محمدی ﷺ میں کسی کی شرکت کے دعو یٰ کو شرک قرار دے کر انجمن حمایت اسلام لاہورکے ۲۲ فروری ۲۰۹۱ کے جلسے میں ایک تاریخی شعر پڑ ھا تھا :۔۔۔
اے کہ بعد از تو نبوت شد بہ ہر مفہوم شرک
بزم را روشن ز نور شمع عرفا ن کر دہ ( ۲۲ فروری ۲۰۹۱ )
مسلما نوں کے دونوں سنی او رشیعہ مکاتب فکر نے مرزا قادیانی کے تما م دعوے کفر یہ قرار دیے لیکن سرکاری سطح پر قاد یا نیت کو لندن سے لے کر ہندوستان تک سب سے زیا دہ پز یرائی حا صل رہی اور اس کے ماننے والے ہندوستان کی سول اور ملٹری بیو رو کریسی میں غیر معمو لی اثر و نفو ذ کے مالک بنا د یے گیے۔
1947 میں پاکستان کے قیام کے بعد احمدی جماعت نے پاکستان کی نو زائیدہ حکومت اور بیو رو کر یسی میں بھی اپنے پنجے گا ڑ ے او ر یہ خطرہ پیدا ہو گیا کہ یہ فرقہ بیرونی طاقتوں کی مد د سے پاکستان کو ایک احمدی ریاست میں تبدیل کر ے گا۔ اس جماعت نے اپنے اندرونی اور بیرونی و سائل اور سر کاری اداروں میں اپنے ا ثر و رسو خ کا بھر پور استعمال کیا اور فتنہ قادیانیت کی جڑ یں پھیلائیں، جس کے نتیجے میں ملک بھر میں تشو یش کی لہر دو ڑی اور 1953 میں احمدیوں کے خلاف عوامی ایجی ٹیشن شروع ہوگئی، جس کو دبانے کے لئے پنجا ب بھرمیں مارشل لا ء لگایا گیا اور مارشل لا ایڈ منسٹر یٹر لیفٹننٹ جنرل اعظم خان نے مظاہرین کو دیکھتے ہی گولی ما ر نے کا حکم دے دیا۔ اسی ایجی ٹیشن میں مو لا نا سید ابولا علیٰ مودودی رح نے ایک کتابچہ ۔ قا دیانی اقلیت کیوں ، لکھا ؟ اس کے بعد انہیں گرفتار کیا گیا، فوجی عدالت میں ان کے خلاف فوج میں بغا وت پھیلانے کا مقدمہ چلایا گیا اور پھا نسی کی سزا سنائی گئی، جو بعد میں عوامی دباو کی وجہ سے منسوخ کی گئی۔
پنجاب کی ایجی ٹیشن وقتی طور پر دبنے کے بعد، ساتویں عشرے تک ا حمدی جماعت نے لاہور سے باہر چناب کے علاقے میں اپنا ایک قلعہ بند شہر آ باد کیا ، جس نے چند برسوں میں ایک ریا ست د ر ریاست کی شکل اختیار کی اور ملک کے دینی اور جغرا فیا ئی تشخص کے لئے خطرات سنگین صورت اختیا ر کر گیے۔
1974تک ربوہ میں جماعت احمدیہ کی ختم نبوت کے خلاف سا ز شوں کے ٹھوس ثبوت مل گیے، جس کے نتیجے میں پورے ملک میں عقیدہ ختم نبوت کے دفاع کی غلغلہ خیز تحریک شروع ہو گئی۔ اس وقت پاکستان کی قومی اسمبلی ایک نئے اسلامی جمہوری آئین کی تیاری میں مصرو ف تھی۔ چنانچہ وزیر اعظم ذو ا لفقار علی بھٹو کے سامنے یہ عوامی مطالبہ رکھا گیا کہ وہ ملک کے نئے آئین میں ا حمدی جماعت کے گروپوں ، قا دیانیوں اور لا ہو ریوں کو ملک کی دوسری غیر مسلم ا قلیتو ں کے ساتھ ایک غیر مسلم اقلیت قرار دیں اور ربو ہ کو شہر عام قرار دے کر اس فتنے کا ہمیشہ کےلئے خا تمہ کر ڈ ا لیں۔ چنا نچہ وزیر اعظم نے پا رلیمنٹ کو اس مسئلے کا ٹھوس حل نکالنے کے لئے آئینی اقدامات اٹھانے کےلئے کہا۔ اس کے بعد ملک کے تمام مسلکی گرو پوں کے علما ء ، احمدی جماعت کے خلیفہ اور ان کے وکلا اور ملک کے جید قا نو ن دانوں کے د رمیان کئی ہفتوں تک با نی ا حمد یت کی تصنیفات اور تقا ریر اور قر آن و ا حادیث کے قطعی فر مو دا ت کی روشنی میں پارلیمنٹ اس نتیجے پر پنچ گئی کہ مرزا غلام احمد کا دعویٰ اسلام کے بنیادی عقائد کے خلاف کفر ہے اور وہ اور ا س کے ماننے والے دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ اسطرح پاکستان کی دستور ساز اسمبلی نے احمد یو ں کو متفقہ طور پر خا رج از اسلام اور ایک غیر مسلم اقلیتی فرقہ قر ا ر د یا ۔ شہید وزیر اعظم ذو ا لفقار علی بھٹو اور پارلیمنٹ کا یہ ایک نادر، متفقہ اور تا ر یخی فیصلہ ہے جس کو رہتی د نیا تک یا د رکھا جایے گا اور کسی کو یہ حق نہیں ہوگا کہ وہ ختم نبوت ص ع کے قانون میں کبھی کسی تر میم و تبدل کا سوچے۔
گز شتہ 125 سالوں میں ختم نبوت کے قطعی عقیدے پر جو واقعات پیش آیے ، اور خا ص کر پاکستان میں جو تحریکیں چلیں ، ان کی روشنی میں یہ کسی مسلمان کے وہم و گما ن میں بھی نہ تھا کہ آج چند لوگ بین ا لا قوامی سو دا گرو ں کے جھا نسے میں آکر دستور پاکستان میں شامل اس حتمی قا نو ن کے ساتھ چھیڑ نے کی جسا رت کریں گے۔ لیکن ایسا کیا گیا۔
پاکستان کی قومی اسمبلی کے ایک اقلیتی ہند و ر کن ، ڈا کٹر رمیش کما ر وانکوانی نے ایک مبسوط مقالے میں اس بحران کا تجزیہ کیاہے۔ ان کا سوال ہے کہ ” قوم یہ جاننے کا حق رکھتی ہے کہ اس حسا س ترین ایشو پر ترمیم کی ضرورت کیو ں پیش آ ئی اور اس کے پس پردہ عوا مل کیا تھے ؟ میرا دل اس کو کلیر کل غلطی ما ننے کے لئے تیار نہیں ہے۔۔۔ وفا قی حکو مت نے کیو ں اس ایشو پر ہو نے والے ا حتجاج کو سنجیدہ نہیں لیا ؟ ۔۔۔ یہ آئینی تر میمی بل لگ بھگ تین سال پا رلیمانی کمیٹی کے سا منے زیر بحث رہا اوراس بل پر منعقد ہ مختلف اجلا سو ں میں شرکت کے با و جو د کو ئی ممبر غلطی کی نشا ندہی نہ کر سکا۔ پھر یہ بل پا رلیمان کے د و نو ں ایوا نو ں سے منظو ر بھی ہو جا تا ہے۔” ڈ کٹر رمیش کما ر لکھتے ہیں کہ ” احتجا جی مظا ہرین کو ئی آ نا فا نا فیض آ باد پر قا بض نہیں ہو یے بلکہ وہ با قاعدہ اعلا ن کر کے اپنا ایک مقصد لے کر لا ہو ر سے بجا نب ا سلاا م آ با د روا نہ ہو یے تھے۔ دو را ن سفر حکو متی ا د ا رے کیا سو تے ر ہے۔۔۔ پھر صرف محکمہ مو سمیات کی پیش گو ئیو ں پر اکتفا کیا گیا کہ بارش ہو نے کی صو رت میں مظا ہرین خو د ہی بھا گ جائیں گے۔” ڈاکٹر رمیش لکھتے ہیں کہ ” اس دھرنے سے ایک محتاط اند ازے کے مطابق ملک کا کوئی 50 ارب رو پیہ کا نقصا ن ہوا۔ “( بشکریہ جنگ راولپنڈی)
یہ الیکشن ریفارم بل تھا جس کی آ ڑ میں ختم نبوت کے مسلمہ قا نوں کے ساتھ ایک مخصوص لا بی نے کھیل کھیلا اور قوم کو انا رکی کے اکیس دن دیکھنے پڑ ے ، کئی پاکستانی شہید ہو گیے، اس طرح کتنے ہی گھروں کے چر ا غ گل ہو گیے اور اربوں میں انفراد ی ، اجتماعی اور قو می جائیدادیں تلف ہو گئیں۔ آ خر میں جمعیت علما ءاسلام کے رکن پا رلیمان حا فظ حمد ا للہ نے اسمبلی میں اس کے خلاف ایک ترمیم لائی، جو راجہ ظفر ا لحق اور وزیر قانون زا ہد حامد کی حمایت کے با و جود منظور نہیں ہو ئی۔ بعد ا ز آ ں ملک بھر میں یہ ا حسا س جا گا کہ یہ پاکستان کا چہرہ لبر ل بنانے کے لئے ملکی، غیر ملکی سا مر ا جی، صلیبی ، احمدی اور صیہو نی عنا صر کی کا رستانی ہے ، تو ہو ش آ گیا اور پا رلیمنٹ نے اتفاق رایے سے دستوری حلف نامے اور ختم نبو ت کی عبارت کو دوبارہ اپنی اصلی شکل میں منظو ر کر کے بحال کیا۔
اگر چہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ قر آن ، ا حا دیث اور خلافت راشدہ، مذ ہبی آ زادی کی واضح ضما نت دیتے ہیں، پاکستان کا اپنا آئین بھی اس ا صول قا نو ن کا پکا علمبر دار ہے ؛ یہ بھی تسلیم شدہ ہے کہ کسی فرد یا گروہ یا جماعت یا فرقے کو سیا سی یا دیگر شر انگیز ا غر ا ض کے لئے مذ ہب کو استعما ل نہیں کر نا چا ہیے، ا سی طر ح کسی فرد یا ٹو لی یا جماعت کو یہ حق اور اختیا ر نہیں ہے کہ وہ مذ ہب اور ا سلا م کی من مانی تا ویل کرے۔ لیکن مذ ہبی آ زا دی کا یہ ہر گز مطلب نہیں ہے کہ وحی الہیٰ کا مذ اق ا ڑ ا یا جا یے یا نبوت و رسالت محمدی ﷺ کے کامل اور ابدی ہونے کو سوالیہ بنایے یا نبوت محمدی میں کوئی بد بخت شر کت کا دعویٰ کرے۔ ا سلام اس قسم کے کسی بھی شر انگیز دعو ے کی اجازت نہیں دیتا ہے بلکہ ایسے فتنے کا سر اٹھنے سے پہلے کچلنے کا اختیا ر رکھتا ہے۔
اب ملک کے قا نو ن دا نوں ، قلم کا روں ، دانشوروں، مذ ہبی عا لموں اور ار با ب سیاست و اقتدار کو سبق حا صل کر نا چا ہیئے، ا سلام فو بیا کے زیر اثر مغر بی حکمرا نو ں کے لبر ل ازم کے شر انگیز نعروں سے ہمیشہ کے لئے تائب ہونا چاہیئے اور قا نو ن سا زی کے وقت اسلام کے بنیا دی عقا ئد کو سا منے رکھنا چا ہئے۔ انتخا بات یا جلسو ں جلو سوں میں ووٹوں اور وو ٹروں کی اکثریت کو دیکھ کر ز عم با طل میں نا چنا نہیں چا ہیے اور مغربی طاقتوں کی خو شنودی کے لئے لبر ل ازم کی ڈ ھو لک پیٹنے کی جسا رت نہیں کرنی چا ہئے۔ ا ستحصا لی سیا ست کاری ہو یا مذ ہب کا نا جا ئز استعمال یہ کسی کے لئے ٹھیک نہیں ہے خو ا ہ وہ مذ ہبی لیڈر ہو یا سکیو لر ازم کا علمبردار ۔ ملک و ملت کے مفاد ات کا تقا ضا ہے کہ ملک کے تمام فرقے اور طبقے فکر و عمل میں راست روی اور یک رنگی اور اخلاق پسندی کو اپنا شعار بنائیں، دو رنگی سے بچیں اور جو بھی لوگ ملک کی با گ ڈور ہاتھ میں لیں وہ اسلام سے رہنمائی حا صل کریں ، کسی غیر ملکی طاقت یا نظریہ سے نہیں ، کسی بھی بیرونی دا ر ا لحکومت کو خوش کرنے کے لیے قومی یا بین ا لا قوامی پالیسیا ں مرتب نہ کی جائیں ۔ ایسی اقتصا دی امداد یا قرضے ہر گز نہ لئے جائیں، جو قومی وقار، خودی اور آ زادی کے لئے خفت اور رسوا ئی کا باعث ہوں اور آ نے والے جنرل الیکشن میں سیاسی اور مذ ہبی جماعتیں ایک اخلاقی ضا بطہ عمل بنائیں اور اسی کے مطا بق انتخا بات کے میدا ن میں اتریں اور سب سے بڑ ھ کر اہم بات یہ ہے کہ انتخابا ت کا میدان سر مایہ داری اور دولت کی ریل پیل کا شو نہ ہو بلکہ قومی سیاسی اور معاشی پالیسیوں کے لیے بہتر سے بہتر منشور عوام کے سامنے رکھے جائیں اور ہر قسم کے استحصال سے ملک کو نجات دلانے کا عہد کیا جا یے۔

Categories: Articles
  1. No comments yet.
  1. No trackbacks yet.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: