Archive

Archive for December 24, 2017

فلسطین کا مسئلہ

December 24, 2017 Leave a comment

محمد فاروق رحمانی
آج دنیا میں مسلمانوں کے اہم ترین سوالات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے ، کیو نکہ مسلم حکمران صرف اپنے اقتدار کی بقا کے ساتھ دلچسپی رکھتے ہیں، اسلام کے فروغ اور مسلم عوام کی سلامتی سے نہیں۔ ورنہ یروشلم کو اسرائیل کا دارا لحکومت بنانے کا امریکی فیصلہ ساری دنیا میں مسلمان حکومتوں کی یکساں تشویش اور غصے کا باعث ہوتا ۔ یہ یقینی بات ہے کہ صرف مسلمان ہی شام و فلسطین کے وارث اور امین ثابت ہویے ہیں کیونکہ یہ انبیا ؑ کرام کی سر زمیں ہے اور تما م ا نبیا ؑ کرام اور وحی الٰہی پر آج بھی مسلمان پکا ایمان رکھتے ہیں۔ او ر صلیبی اور صیہونی دنیا پیغمبروں کی تعلیمات سے نظری اور عملی اعتبار سے منحرف ہوگئی ہے۔ مسلم امت کو بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ پر بحیثیت قبلہ اول اور مقام معراج غیر متزلزل ایمان ہے۔ سورہ بنی اسرائیل میں ہے کہ پاک ہے وہ ذات جو صر ف رات کے محدود حصہ میں اپنے مخصوص ترین اور مقرب ترین بندہ ( محمد رسول اللہ ﷺ) کو حرم مکہ سے بیت ا لمقدس تک لے گیا۔ اس سفر میں یا بیت ا لمقدس سے آ گے کہیں اور لے جاکر اپنی قدرت کے عظیم ا لشان نشان اور حکیمانہ انتظامات کے عجیب و غریب نمونے دکھلا نے منظور تھے۔ سور ہ نجم کی آیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ آ پ (ص ع) سدر ة ا لمنتہیٰ تک تشریف لے گیے۔ حضور ﷺ کے اسی عظیم ا لشان سفر اور اس کے عجیب و غریب مشاہدات کو اسرا ؑ اور معراج کہتے ہیں۔ اس سفر مبارک میں آ نحضور ﷺ حیرت انگیز مشاہدات اور انسانیت کے لئے ابدی احکامات لے کر واپس تشریف لائے ۔اس کے بعد اللہ تعا لیٰ نے بنی اسرائیل کی جگہ بنی اسما عیل کو اپنی نعمتوں کا حق دار اور وارث قرار دیا۔اور اب خانہ کعبہ اور بیت ا لمقدس دونوں کے انوار و برکات کی حامل یہ امت ہونے والی تھی۔ ا حا دیث معراج میں تصریح ہے کہ بیت ا لمقدس میں تمام انبیا علیہم ا لسلام نے آ پ ﷺ کی اقتدا میں نماز پڑھی۔ گویا حضور ﷺ کو جو سیادت و امامت انبیا ؑ کا منصب دیا گیا تھا اس کا حسی نمو نہ آ پکو اور مقر بین بار گا ہ کو دکھلایا گیا۔( بحوالہ مفسرین)

Read more…

Categories: Articles