Archive

Archive for the ‘Articles’ Category

Kashmiris in Labyrinth

July 19, 2018 Leave a comment

Muhammad Farooq Rehmani
Way back in 1947 or 48, ‘The New York Times’ compared Kashmir with a powder keg, but recently, the paper characterized it as “the religious melting pot of India.” Undoubtedly, Kashmir has turned out to be an active volcano between the 2 nuclear states of South Asia—India and Pakistan. Super power interests have not encouraged rapprochement and resolution between India and Pakistan on Kashmir. Therefore, the inhabitants of this fascinating land of meadows, lakes, rivers and gushing streams are on an endless odyssey in a labyrinth –trackless trails. Only God can help and change the course of events, people at the helm of affairs are indifferent to pangs of their fellow beings. Kashmiris are in a whirlpool and their leadership lacks clout to explore pathways and safeguards for the political destiny of the people. Different known and unknown groups surface every now and then on the ground with their symbols and slogans while Some look mysterious in character. The leaders have lost reigns of leadership in their hands.

Read more…

Advertisements
Categories: Articles

فلسطین کا مسئلہ

December 24, 2017 Leave a comment

محمد فاروق رحمانی
آج دنیا میں مسلمانوں کے اہم ترین سوالات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے ، کیو نکہ مسلم حکمران صرف اپنے اقتدار کی بقا کے ساتھ دلچسپی رکھتے ہیں، اسلام کے فروغ اور مسلم عوام کی سلامتی سے نہیں۔ ورنہ یروشلم کو اسرائیل کا دارا لحکومت بنانے کا امریکی فیصلہ ساری دنیا میں مسلمان حکومتوں کی یکساں تشویش اور غصے کا باعث ہوتا ۔ یہ یقینی بات ہے کہ صرف مسلمان ہی شام و فلسطین کے وارث اور امین ثابت ہویے ہیں کیونکہ یہ انبیا ؑ کرام کی سر زمیں ہے اور تما م ا نبیا ؑ کرام اور وحی الٰہی پر آج بھی مسلمان پکا ایمان رکھتے ہیں۔ او ر صلیبی اور صیہونی دنیا پیغمبروں کی تعلیمات سے نظری اور عملی اعتبار سے منحرف ہوگئی ہے۔ مسلم امت کو بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ پر بحیثیت قبلہ اول اور مقام معراج غیر متزلزل ایمان ہے۔ سورہ بنی اسرائیل میں ہے کہ پاک ہے وہ ذات جو صر ف رات کے محدود حصہ میں اپنے مخصوص ترین اور مقرب ترین بندہ ( محمد رسول اللہ ﷺ) کو حرم مکہ سے بیت ا لمقدس تک لے گیا۔ اس سفر میں یا بیت ا لمقدس سے آ گے کہیں اور لے جاکر اپنی قدرت کے عظیم ا لشان نشان اور حکیمانہ انتظامات کے عجیب و غریب نمونے دکھلا نے منظور تھے۔ سور ہ نجم کی آیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ آ پ (ص ع) سدر ة ا لمنتہیٰ تک تشریف لے گیے۔ حضور ﷺ کے اسی عظیم ا لشان سفر اور اس کے عجیب و غریب مشاہدات کو اسرا ؑ اور معراج کہتے ہیں۔ اس سفر مبارک میں آ نحضور ﷺ حیرت انگیز مشاہدات اور انسانیت کے لئے ابدی احکامات لے کر واپس تشریف لائے ۔اس کے بعد اللہ تعا لیٰ نے بنی اسرائیل کی جگہ بنی اسما عیل کو اپنی نعمتوں کا حق دار اور وارث قرار دیا۔اور اب خانہ کعبہ اور بیت ا لمقدس دونوں کے انوار و برکات کی حامل یہ امت ہونے والی تھی۔ ا حا دیث معراج میں تصریح ہے کہ بیت ا لمقدس میں تمام انبیا علیہم ا لسلام نے آ پ ﷺ کی اقتدا میں نماز پڑھی۔ گویا حضور ﷺ کو جو سیادت و امامت انبیا ؑ کا منصب دیا گیا تھا اس کا حسی نمو نہ آ پکو اور مقر بین بار گا ہ کو دکھلایا گیا۔( بحوالہ مفسرین)

Read more…

Categories: Articles

لا نبی بعدی اور فیض آ با د دھرنا سے حاصل شدہ سبق۔

December 14, 2017 Leave a comment

از-محمد فاروق رحمانی
پاکستان کے د و متصل شہروں کے سنگم فیض آبا د انٹر چینج پر نو مبر2017، میں تحریک لبیک پا ر ٹی کے دم گھٹا نے والے 21روزہ د ھر نے نے پا کستا نی سیاست اور سما ج کا اضمحلا ل آ شکا ر کر دیا اور یہ ثا بت ہو گیا کہ پاکستان کا سماجی ، سیاسی اور مذہبی دھا گا ضعیف ہے۔ جمہوری طرز حکومت اور سیاست کی بات ہی نہیں ہے۔ یہ درخت ستر برس گزار رنے کے باوجود مر جھا یا ہوا رہتا ہے کیونکہ اسکی آبیاری کر نے وا لے نہیں ہیں ۔ کلمہ اسلام اور اسلامی اقدار معاشرہ کی ترویج و اشاعت تو ریاست اور عوام کا مسلمہ فرض بنتا ہے لیکن مذہب کو حقیر سیا سی اغرا ض اور سیاست اور اقتدار کو خا لص حصول دولت اور بقا اقتدار کےلئے استعما ل کرنا یہا ں کی ریت بن چکی ہے۔ یہ سچ ہے کہ پاکستان کو ہر اعتبار سے عدم استحکام کا شکار کر دینے کے لئے شکاریوں نے چار سو جال پھینکے ہیں اور گزشتہ موسم بہار سے عالم عرب کی حکمران سیاسی طاقتیں بھی سرعت اور دیدہ دلیری سے امت مسلمہ کے بنیادی اسلامی ، اخلاقی عقائد اور مفادات کو تہہ وو با لا کرنے کے لئے مغرب کی نسل پرست اور استعماری طاقتوں کے مطالبا ت پرسر تسلیم خم کر تی جارہی ہیں اور اسلام دشمن قو تیں بشمول ہندوستان و صیہونی اسرائیل آگے بڑ ھ رہی ہیں، لیکن کم از کم یہ امید نہیں تھی کہ پاکستان میں بھی ا نہوں نے اپنا دام ہم ر نگ زمین جال بچھا دیا ہے۔ اور ان کے حامی پاکستان کی اساس پر ایمان لانے میں تذ بذ ب میں گرفتار ہیں اور ملی اور فرقہ دارانہ ہم آ ہنگی کے رشتوں کو کمزور کرنے میں اپنا اثرو رسوخ استعمال کر رہے ہیں اور ذرا سی بات پر عوام اور سماج کو ٹوٹ پھوٹ کا شکار کر دیا جاسکتاہے۔ خو ن آشام قربابیوں اور ہجرتوں کے سیلاب کے بعد حاصل شد ہ اس ملک کے سماج کو امن و سلامتی کی بنیادی اخلاقی اور ا سلا می ا قدار کے لئے ایک ہو نا چاہئیے تھا ۔ اقبال ر ح کا پہلے ہی انتباہ تھا :۔۔

Read more…

Categories: Articles

Profile of a great Kashmiri martyr; Bashir Ahmed Sheikh Gazi

February 14, 2017 Leave a comment

bashir-ahmad-sheikh-gaziBy Muhammad Abdullah 13|02|2107
The Senior most Commander of Jammu and Kashmir Al-Fatah Force Bashir Ahmed Sheikh, nom de guerre Gazi, martyred on 13th February 2002, was born at Kaloosa Bandipora in a peasant family. This hamlet has produced some of well known martyred commanders like:Abdul Khaliq Ganai(Jemal Afghani) and Nazir Ahmed Shah. Shaheed Abdul Majeed Khan also belonged to the same town.
Shaheed Bashir Ahmed Sheikh starled his political activities as pro-freedom activist in 1970s under the inspirations of Muhammad Farooq Rehman, who was then Chairman of the People’s League and today Chairman J&K People’s Freedom League. In 1988 Gazi Bashir Ahmad Sheikh joined the armed kaloosa-basheer-ahmad-sheikh-gazi-graveyardresistance for freedom of the State. He was imprisoned several times by Police and became famous in Kashmir North. In1989, he was arrested and detained in Sangrore Jail of India. He spent some years in Rajasthan jail also. Bashir Ahmed Sheikh was released in 1992, and became Chief Commander of the former Jihad Force. But, again arrested in 1994 at Barzulla Srinagar. Read more…

Forgotten Question of Oppressed People

January 29, 2016 Leave a comment

rehmani 2x2 (2).jpg(MUHAMMAD FAROOQ REHMANI)
Under the present global Chess-playing of economically and militarily ambitions world powers, the right of self-determination of all suppressed nations, especially, the people of Kashmir has been forgotten by the UN. The Kashmiris in hundreds of thousands, since 1947, sacrificed their lives, honor and property or faced banishment for it but couldn’t see the dawn of freedom. India rules the roost in Kashmir. It’s not ready for arbitration, or mediation, or facilitation to settle the dispute. India has a vested interest in statuesque, which is the root cause of tension and friction in the region. On the contrary, Pakistan always extended a hand of cooperation to resolve the dispute, while India always paid lip service to peaceful ways of resolving the Kashmir dispute. With the passage of time, the world community forgot the tragedy of Kashmir and its people. It constantly ignores the trauma faced by the people of the world’s extremely concentrated militarized zone. Read more…

Categories: Articles Tags: ,

صدمہ کشمیر اور راہ نجات

November 21, 2014 Leave a comment

تحریر:محمد فاروق رحمانی
(mfr_isb@outlook.com)
اس حقیقت کے باوجود کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کا سب سے پہلا اور پرانا مسئلہ ہے اور اس پر پاکستان اور بھارت کے درمیان سرکاری اور غیر سرکاری مذاکرات کے متعدد دور چلے، دونوں ملکوں میں اس مسئلے پر جنگیں بھی ہوئیں، کئی سال سے اس تنازعے کے نام پر دونوں ملکوں کے درمیان’ امن آشا ‘کی ایک تحریک بھی اخبار نویسوں اور سفارتکاروں کی کوششوں سے اخباری صفحات اور سیمیناروں اور مختلف فورموں کے ذریعے جاری ہے جسکے ذریعے بھارت اور پاکستان کے تعلقا ت کو بہتر بنانے کی طرف توجہ دی جاتی ہے لیکن کشمیر کا مسئلہ حل ہونے کے امکانات وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ معدوم ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ تنازعہ جنگ کے ذریعے حل ہو سکا اور نہ مذاکرات کے ذریعے اس کی گھتی سلجھ سکی ہے۔ اب گزشتہ چند مہینوں میں پاکستان کے کمانڈر انچیف جنرل راحیل شریف نے براہ راست کشمیریوں کے حق آزادی اور حق خود ارادیت پر زور دیا اور وزیر اعظم پاکستان محمد نواز شریف نے جنرل اسمبلی کے گزشتہ سیشن میں اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے سلامتی کونسل کی متفقہ قرار دادوں پر عمل کرنے کی طرف توجہ دلائی ۔ علاوہ ازیں ورکنگ باؤنڈری اور ریاستی متنازعہ لائن آف کنٹرول پر پاکستان اور بھارت کے درمیان گولہ باری کے واقعات میں اضافہ ہو اور دونوں طرف عام لوگ بھی مارے جا چکے ہیں۔ غرض پاکستان کی سرحدوں اور جموں و کشمیر کے اندر ہندوستان کا رویہ انتہائی جارحانہ بن گیا ہے۔ Read more…

عمران خا ن اور طاہر القادری کی ایجی ٹیشن پرایک نظر

October 24, 2014 Leave a comment

تحریر:محمد فاروق رحمانی
اس وقت جب کہ پاکستان مختلف النّوع خطرات کے محاصرے میں ہے :مشرقی سرحد کے ساتھ ساتھ جموں وکشمیر کی کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر بھارت کی طرف سے سنگین خطرات ہیں اور گولہ باری جاری ہے، مغربی سرحد پر افغانستان کے حملے اور در اندازی کے واقعات پیش آرہے ہیں ، داخلی سطح پر بلوچستان اور کراچی میں خون ریزی کاسلسلہ جاری ہے، شمالی وزیر ستان میں فوج دہشت گردی کو ختم کرنے میں مصروف ہے اور اس سے پیدا شدہ لاکھوں بے خانماں اور اُجڑے ہوئے لوگوں کے مسائل حل کرنے کے سوالات ہیں ۔ ان کے علاوہ قیامت خیز سیلاب کی تباہی کے بعد مصائب زدہ خاندانوں کی ازسرنوآباد کاری بھی کچھ کم اہمیت کی حامل نہیں ہے۔ اس صورت حال میں اسلام آباد میں حکومت کے سامنے پاکستان کی تاریخ کا ایک ایسا سیاسی بحران پیدا ہو گیا جس کی کوئی نظیر نہیں ہے۔ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے استعفیٰ کا مطالبہ ۔ پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا دینے والوں اور انکے لیڈروں کا مطالبہ ہے کہ حکومت گھر چلی جائے ، پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیاں تحلیل ہوں ، انتخابی اصلاحات کا اعلان کیا جائے اوراس کے علاوہ سترہ جون 2014کے سانحہ لاہور میں ملوث عناصر کوبشمول وزیر اعلیٰ شہباز شریف قرار واقعی سزا دی جائے ۔ ان اغراض کے حصول کے لیے 13اگست کو دوپرجوش ریلیوں نے لاہور سے اسلام آباد کا رخت سفر باندھا ۔ یہ دونوں الگ الگ ریلیاں19اگست کو صبح سویرے اسلام آباد میں داخل ہو گئیں۔ ہر چند کہ حکومت نے ان کو اسلام آباد کے ریڈ زون میں داخل ہونے سے منع کیا تھا اور ان کو روکنے کے لیے ہزاروں کی تعداد میں پولیس اور نیم فوجی دستے اسلام آباد کی حفاظت کے لیے تعینات کیے تھے لیکن مشتعل مظاہرین اور ان کے لیڈروں نے راولپنڈی پہنچنے کے بعد اسلام آباد پر یلغار کی اور سینکڑوں کنٹینروں کو ہٹا کر ریڈ لائن عبور کی ۔ اس طرح پنجاب سے لانگ مارچ کرنے کے بعد یہ قافلے پارلیمنٹ کے سامنے احتجاجی دھرنا دیکر بیٹھ گئے۔ چنانچہ پندرہ اگست سے شاہراہ دستور اور ڈی چوک پر پارلیمنٹ کے سامنے دو بڑے بڑے کنٹینروں کے پلیٹ فارموں پر دو پاکستانی تنظیموں کے سربراہ اپنے حامیوں اور پیرو کاروں کے جلو میں شعلہ بیانی کے جوہر دکھا تے رہے۔ وزارت داخلہ کے بیانات کے مطابق اسلام آباد کی وفاقی پولیس، صوبوں کی پولیس فورس ، آزاد کشمیر پولیس ، ایف سی اور نیم فوجی دستے چالیس ہزار افراد پر مشتمل ان دو قافلوں کی نگرانی اور حفاظت کے فرائض انجام دیتے رہے ۔ پاکستان آرمی کے جوانوں کو پارلیمنٹ اور دیگر اہم ریاستی اداروں کی حفاظت پر معمور کیا گیاتھا۔ Read more…